منبرِ رسول ﷺ: سادگی سے عظمت کے سفر تک
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مسجدِ نبوی کی تعمیرِ نو اور اس کے ابتدائی ایام کی سادگی انسانی تاریخ کا وہ سنہری باب ہے جس کا ہر نقش آج بھی اہل ایمان کے دلوں میں تروتازہ ہے۔ جب ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی، تو جمعہ کے مبارک دن خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کسی بلند جگہ یا باقاعدہ منبر کا وجود نہ تھا۔ اللہ کے رسول ﷺ مسجد کے صحن میں موجود کھجور کے ایک خشک تنے کا سہارا لے کر کھڑے ہوتے اور حق کا پیغام عام فرماتے۔ طویل دورانیے کے خطبے میں تھکن کا احساس ہوتا تو کبھی کبھار آپ ﷺ اسی مقام پر بیٹھ بھی جایا کرتے تھے۔ اس صورتحال کو محسوس کرتے ہوئے صحابیِ رسول حضرت تمیم داریؓ نے آپ ﷺ کی خدمت میں لکڑی کا ایک منبر تیار کرنے کی تجویز پیش کی، جسے آپ ﷺ نے بے حد پسند فرمایا۔
اس تجویز کے نتیجے میں لکڑی کا ایک سادہ مگر پروقار منبر تیار کیا گیا جو تین سیڑھیوں پر مشتمل تھا۔ اس کی پیمائش ایک گز لمبائی اور نصف گز چوڑائی پر محیط تھی۔ جس مقام پر کھجور کا وہ پرانا تنا موجود تھا، اسے کاٹ کر وہیں سپردِ خاک کر دیا گیا اور اس کی جگہ یہ نیا لکڑی کا منبر رکھ دیا گیا۔ آپ ﷺ کے ظاہری وصال کے بعد خلفائے راشدین کے دور میں بھی اسی منبر کی حرمت اور مرکزیت برقرار رہی۔ خلفائے راشدین جب خطبہ دینے کے لیے تشریف لاتے تو کمالِ ادب کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس آخری سیڑھی پر نہیں بیٹھتے تھے جہاں حضورِ اکرم ﷺ تشریف فرما ہوا کرتے تھے۔ دورِ عثمانی میں اس منبر کی آرائش میں اضافہ کیا گیا، اس پر قیمتی کپڑا ڈالا گیا اور منبر کے نیچے سنگِ مرمر کی ایک فٹ اونچی چوکی بھی بنوائی گئی تاکہ اس کی بلندی اور وقار میں مزید اضافہ ہو۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس منبر سے جڑی ایک ایمان افروز روایت 50 ہجری (672ء) میں سامنے آئی۔ جب حضرت امیر معاویہ ؓ کے عہد میں دارالخلافہ مدینہ سے دمشق منتقل ہوا تو اس مقدس منبر کو بھی دمشق لے جانے کا ارادہ کیا گیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جیسے ہی منبر مبارک کو اس کی اصل جگہ سے جنبش دی گئی، قدرت کی جانب سے ایک عجیب تنبیہ ظاہر ہوئی۔ اچانک سورج گرہن لگ گیا، دن کے اجالے میں ستارے چمکنے لگے، ہواؤں کا رخ طوفانی ہو گیا اور زمین لرزنے لگی۔ یہ دیکھ کر منبر کو مسجدِ نبوی سے کہیں بھی منتقل کرنے کا ارادہ ہمیشہ کے لیے ترک کر دیا گیا۔ بعد ازاں مروان بن حکم نے لکڑی کو دیمک سے بچانے اور اسے محفوظ رکھنے کے لیے نو سیڑھیوں والا ایک نیا منبر تیار کروایا، اور تب سے آج تک منبر شریف نو زینوں پر ہی مشتمل چلا آ رہا ہے۔
مختلف ادوار میں سلاطین اور خلفا نے مسجدِ نبوی سے اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار نئے اور عالی شان منبروں کے تحائف پیش کر کے کیا۔ 563 ہجری میں ایک نیا منبر نصب ہوا جو طویل عرصے تک رہا، مگر 654 ہجری میں مسجد میں لگنے والی آگ کی نذر ہو گیا۔ اس کے بعد 888 ہجری میں ملک اشرف قایت بائی نے سنگِ مرمر کا ایک نہایت خوبصورت منبر تیار کروایا، جو کہ اب مسجدِ قبا کی زینت ہے۔ بالآخر 998 ہجری میں عثمانی سلطان مراد خان نے اپنی دلی محبت کے اظہار کے طور پر سنگِ مرمر کا وہ عظیم الشان اور شاہکار منبر تیار کروایا جو اپنی تمام تر رعنائیوں اور تاریخی وقار کے ساتھ آج بھی مسجدِ نبوی میں اسی مقام پر موجود ہے جہاں کبھی کھجور کا وہ خشک تنا اللہ کے رسول ﷺ کی پشت کا سہارا بنا تھا۔ یہ منبر محض لکڑی یا پتھر کا ڈھانچہ نہیں بلکہ اسلامی تاریخ، عقیدت اور فنِ تعمیر کے اس تسلسل کی علامت ہے جو صدیوں سے قائم و دائم ہے۔
#مسجد_نبوی #مدینہ_منورہ #منبر_رسول #اسلامی_تاریخ #عظمت_رفتہ #تاریخ_اسلام #عشق_رسول
![]()

