مہمل: حجازی سفر کی وہ شاہی روایت جو عقیدت اور تاریخ کا سنگ میل بن گئی
تاریخ کے اوراق میں حج کے سفر سے وابستہ کئی ایسی روایات محفوظ ہیں جو محض سفری سہولیات نہیں بلکہ عشقِ رسول ﷺ اور بیت اللہ سے والہانہ عقیدت کا مظہر تھیں۔ انہی میں سے ایک نہایت منفرد اور پرشکوہ روایت “مہمل” کے قافلے کی تھی، جس کا ذکر آتے ہی ذہن میں صحرائی راستوں پر گونجتی گھنٹیوں اور سونے چاندی کی چمک سے لدی ایک شاہی سواری کا تصور ابھرتا ہے۔ مہمل دراصل ایک نہایت خوبصورت، چھتری نما لکڑی کا فریم یا جھولا ہوتا تھا، جسے بیش قیمت ریشمی کپڑے، زردوزی کے کام اور سونے چاندی کے تاروں سے اس قدر نفاست سے سجایا جاتا کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ ہو جاتیں۔ اس مقدس محمل کے اندر غلافِ کعبہ کو نہایت ادب کے ساتھ رکھا جاتا تھا، جو اسلامی دنیا کے طاقتور ترین حکمرانوں کی جانب سے خانہ خدا کے لیے ایک نذرانہ ہوتا تھا۔
اس خوبصورت روایت کی بنیاد کے بارے میں مورخین بتاتے ہیں کہ اس کا باقاعدہ آغاز مصر کے مملوک سلطان بیبرس کے دور میں ہوا۔ سلطان نے حج کے موقع پر اس اہتمام کو محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک سیاسی اور مذہبی وقار کی علامت بنا دیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ روایت اتنی مقبول ہوئی کہ مصر کے علاوہ سلطنتِ عثمانیہ، دمشق، یمن، اور حتیٰ کہ برصغیر میں حیدرآباد دکن اور مغلیہ سلطنت کے فرمانروا بھی اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے۔ یہ مہمل جہاں سے بھی گزرتا، وہاں کے عوام کے لیے خوشی اور روحانی سکون کا پیغام لاتا۔ یہ اس بات کا برملا اعلان تھا کہ مسلم حکمران نہ صرف اپنی رعایا کے محافظ ہیں بلکہ وہ خود کو بیت اللہ کا ادنیٰ خادم تسلیم کرتے ہیں۔
مہمل کا سفر کوئی عام سفر نہیں ہوتا تھا بلکہ اس کے ساتھ ایک پورا شاہی قافلہ روانہ ہوتا تھا جس کی شان و شوکت دیدنی ہوتی۔ اس قافلے میں خوش الحان قاری قرآن کی تلاوت کرتے، نامور علما و فقہا علمی گفتگو میں مصروف رہتے اور شاہی درباری و خدام اس پورے انتظام کی نگرانی کرتے۔ ان کی حفاظت کے لیے ایک تربیت یافتہ فوجی دستہ بھی ساتھ ہوتا تھا جو راستے کے کٹھن مراحل میں قافلے کی ڈھال بنتا۔ جب یہ قافلہ مختلف بستیوں اور شہروں سے گزرتا تو لوگ دور دور سے محض اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے راستوں پر پلکیں بچھا دیتے۔ عوام کی جانب سے اس پر پھول نچھاور کیے جاتے اور فضا تکبیر و رسالت کے نعروں سے گونج اٹھتی۔ یہ منظر اس دور کی مسلم دنیا کے اتحاد اور مشترکہ مذہبی ثقافت کی ایک ایسی تصویر پیش کرتا تھا جس کی مثال آج ملنا مشکل ہے۔
سیاسی تبدیلیوں اور بدلتے ہوئے حالات کے باعث 1926 میں اس صدیوں پرانی روایت کا سلسلہ باقاعدہ طور پر منقطع کر دیا گیا۔ اگرچہ آج جدید دور کی سہولیات نے حج کے سفر کو آسان بنا دیا ہے اور اب غلافِ کعبہ کی منتقلی کے طریقے بھی بدل چکے ہیں، لیکن تاریخ کے سینے پر “مہمل” کی یہ سنہری یاد آج بھی نقش ہے۔ یہ ہمیں اس دور کی یاد دلاتا ہے جب آرٹ، ثقافت اور عقیدت مل کر ایک ایسا شاہکار تخلیق کرتے تھے جو سرحدوں سے بالاتر ہو کر تمام مسلمانوں کو ایک مرکز پر اکٹھا کر دیتا تھا۔ مہمل کا تذکرہ آج بھی اس عظیم ورثے کی عکاسی کرتا ہے جو ہماری اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔
#تاریخ_اسلام #مہمل_کعبہ #حج_روایات #اسلامی_ثقافت #خانہ_خدا #سلطنت_عثمانیہ #عقیدت_کے_راستے #قدیم_حج_سفر
![]()

