Daily Roshni News

واقعہ حضرت سلیمان علیہ السلام اور چیونٹی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کائنات کا ذرہ ذرہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اس پورے نظام کا ایک ہی خالق اور مالک ہے جو نہ صرف تمام جہانوں کو چلا رہا ہے بلکہ اپنی چھوٹی سے چھوٹی مخلوق کی ضروریات سے بھی بخوبی واقف ہے۔ اللہ رب العزت کی قدرت اور اس کی صفتِ رزاقیت کا ایک نہایت ایمان افروز واقعہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی زندگی سے منسوب ہے، جو ہمیں سکھاتا ہے کہ جب رب پر توکل کامل ہو جائے تو پریشانیاں دم توڑ دیتی ہیں۔

روایت ہے کہ ایک مرتبہ اللہ کے نبی حضرت سلیمان علیہ السلام سمندر کے کنارے تشریف فرما تھے کہ ان کی نظر ایک کالی چیونٹی پر پڑی۔ وہ ننھی سی چیونٹی اپنے منہ میں غلے کا ایک دانہ دبائے بڑی تندہی کے ساتھ سمندر کی لہروں کی طرف بڑھ رہی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام، جنہیں اللہ تعالیٰ نے پرندوں اور جانوروں کی زبان سمجھنے کا معجزہ عطا فرمایا تھا، بڑے غور سے اس چیونٹی کی حرکات و سکنات کا مشاہدہ کرنے لگے۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہے تھے کہ یہ چیونٹی پانی کے پاس جا کر کیا کرے گی کہ اچانک سمندر کی سطح پر ایک مینڈک نمودار ہوا۔ مینڈک نے پانی سے سر نکالا اور اپنا منہ کھول دیا، چیونٹی بڑی تیزی سے اس کے منہ میں داخل ہوگئی۔ مینڈک نے اپنا منہ بند کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے سمندر کی گہرائیوں میں غوطہ لگا گیا۔

حضرت سلیمان علیہ السلام اس حیرت انگیز منظر کو دیکھ کر گہری سوچ میں پڑ گئے اور وہیں مینڈک کے واپس آنے کا انتظار کرنے لگے۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ وہ مینڈک دوبارہ سطحِ آب پر آیا اور کنارے کے قریب آ کر اپنا منہ کھول دیا۔ وہی چیونٹی جس کے پاس اب دانہ نہیں تھا، بخیریت باہر نکل آئی۔ اللہ کے نبی نے اس چیونٹی کو مخاطب کیا اور دریافت فرمایا کہ اے چیونٹی! یہ سارا ماجرا کیا ہے اور تم کہاں گئی تھیں؟ چیونٹی نے نہایت ادب سے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں ایک بہت بڑا پتھر ہے جس کے درمیان میں اللہ کی قدرت سے ایک شگاف یا کھوکھلی جگہ موجود ہے۔ اس پتھر کے اندر ایک اندھا کیڑا رہتا ہے جو حرکت کرنے سے قاصر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے میری یہ ذمہ داری لگائی ہے کہ میں روزانہ اس کے لیے رزق کا دانہ وہاں پہنچاؤں، اور اس مینڈک کو یہ ڈیوٹی دی ہے کہ یہ مجھے اپنی پیٹھ پر بٹھا کر یا منہ میں رکھ کر وہاں تک لے جائے تاکہ پانی کا دباؤ مجھے نقصان نہ پہنچائے۔

چیونٹی نے مزید ایک ایسی بات بتائی جو روح کو وجد میں لا دینے والی تھی۔ اس نے کہا کہ جب میں اس کیڑے کو دانہ پہنچاتی ہوں تو وہ اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہے اور اس کے منہ سے یہ الفاظ نکلتے ہیں کہ “پاک ہے وہ ذات جس نے مجھے سمندر کی تاریکیوں اور پتھر کی سختیوں کے اندر بھی فراموش نہیں کیا، اور میرے رزق کا انتظام فرمایا۔”

یہ واقعہ محض ایک کہانی نہیں بلکہ انسان کے متزلزل ایمان کے لیے ایک روشن دلیل ہے۔ ہم اکثر اپنی زندگی کی چھوٹی چھوٹی محرومیوں پر شکوہ کرنے لگتے ہیں اور رزق کی تنگی یا مستقبل کے خوف سے پریشان ہو جاتے ہیں۔ لیکن غور کیجیے کہ وہ رب جو سمندر کی تہہ میں، ایک بند پتھر کے اندر موجود ایک اندھے کیڑے کو بھوکا نہیں سونے دیتا، وہ اشرف المخلوقات یعنی انسان کو کیسے تنہا چھوڑ سکتا ہے؟ اللہ پر کامل بھروسہ ہی وہ طاقت ہے جو انسان کو ذہنی سکون اور قلبی اطمینان عطا کرتی ہے۔ زندگی کی اصل حقیقت توکل ہے، یعنی اس بات پر پختہ یقین رکھنا کہ تدبیر انسان کے ہاتھ میں ہے مگر تقدیر کا مالک صرف اللہ ہے۔ جب ہم اپنی تمام کوششیں کر چکیں تو ہمیں نتیجہ اس ذات پر چھوڑ دینا چاہیے جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والی ہے۔ بے شک، اللہ کی رحمت کے دروازے ہر اس شخص کے لیے کھلے ہیں جو خلوصِ دل سے اسے پکارتا ہے اور اس کی تقسیم پر راضی رہتا ہے۔

#AllahKiQudrat #Tawakkul #HazratSulaiman #FaithInAllah #IslamicWisdom #Sukun #Rizq #SubhanAllah #FaithReflections #IslamicStories

Loading