Daily Roshni News

رہا کھٹکا نہ چوری کا۔۔۔تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب

رہا کھٹکا نہ چوری کا

دعا دیتا ہوں رہزن کو  ۔۔

( شباب کی باتیں  )

تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ رہا کھٹکا نہ چوری کا ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب)اب کی صورتحال یہ تھی یعنی بعض واقفان حال سے معلوم ہوتارہا کہ یونیورسٹی اساتذہ کو گزشتہ کئی ماہ سے پور ی تنخواہیں ادانہیں کی جارہی ہیں اورکبھی آدھی اورکبھی کچھ اس سے بھی کم مشاہرہ اداکرکے انہیں تسلی کے ’’لالی پاپ‘‘سے بہلایا جارہاتھا کہ گزارہ کرو،حالات جلد ٹھیک ہوجائیںگے،اس پر ہمیں عطاء الحق قاسمی کے دومصرعے یادآگئے یعنی جب وہ ایک اہم پاکستانی اخبار سے وابستہ تھے اور مذکورہ اخبار اس دورکی حکومت کے زیر عتاب تھایعنی نہ تو اسے اشتہاردیئے جارہے تھے،نہ پرانے اشتہارات کے بل اداکئے جارہے تھے،اورمالکان اخباربڑی مشکل سے کسی نہ کسی طورکچھ رقم حاصل کرکے ملازمین کو ان کی تنخواہوںکی پوری ادائیگی نہ کرسکنے کی وجہ سے بس گزارا لائق کچھ رقم دے کر صبر شکر کی تلقین کرتے تھے تو عطاء الحق قاسمی نے ایک قطعہ لکھا جس کے دورمصرعے بہت مشہور ہوئے اور جو دراصل علامہ اقبال کے ایک مشہور ترین مصرعے کی تعمنین تھی یعنی

تنخواہ ہے چارسو،فی الحال چار لاکھ

’’پیوستہ رہ شجر سے امید بہاررکھ‘‘

تو گزشتہ کئی مہینے سے جس طرح پشاور یونیورسٹی کے تدریسی عملے سے لیکر انتظامی عہدوں سے وابستہ ملازمین کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی سلوک روا رکھا جارہاتھا حالانکہ حکومت کے دوسرے کاموں کے لئے نہ تو کبھی فنڈز کی کمی کامسئلہ رہا،نہ ہی دوسرے اللوں تللوں ،یہاں تک کہ وفاق کے خلاف احتجاج اور دھرنوں کے انتظامات کے لئے بھی روپے پیسے کی کوئی کمی ہوئی،(یہاں ہم ان الزامات کا کوئی تذکرہ کرکے بدمزگی پیدا نہیںکرنا چاہتے جن میںبعض افراد پر سرکاری فنڈز میں’’گڑبڑگھٹالہ‘‘کا ذکر ہوتاہے)جبکہ ابھی چند روز پہلے وزیراعلیٰ نے ایک جگہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے متعلقہ ضلع کے لئے کثیر فنڈزسے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا اعلان کیا،اس لئے اس کو بھی رہنے دیتے ہیں،لیکن نسل کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنے والوں کے لئے اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو چلانے کے لئے فنڈز بتدریج کم ہوتے جارہے ہیں ،اور صورتحال اس مقام تک آگئی ہے کہ تازہ ترین خبروں کے مطابق’’پرانی جامعات آئندہ دوما ہ تک کنگال پن میںگزاریں گی،ایک فارسی مقولے کے مطابق جب نوبت بہ ایں جارسید کے دائرے میںداخل ہوگئی ہے،تو اس پر ہمیں مرزاغالب کا ایک واقعہ یادآگیاہے ،یعنی ایک بارمرزا غالب کا ایک شاگرد ان کے پائوں دبا رہاتھا اس وعدے پر کہ مرزا کے پائوں دبانے کا شاگرد کو عوضیانہ ملے گایعنی پیسے دئے جائیںگے،خاصی دیر تک شاگرد مرزاغالب کے پائوں دباتارہا یعنی پشوری زبان میں’’چاپی کرتارہا‘‘۔مرزا نے راحت محسوس کرنے کے بعد شاگرد کو مزید پائوں دبانے سے روک دیا،تو اس نے حسب وعدہ مرزا سے مختانہ طلب کیا،مرزا غالب نے کہا،’’میاں کیسے پیسے کہاں کے پیسے‘‘،تم نے ہمارے پائوں دابے،ہم نے تمہارے پیسے دابے‘‘۔اس پر مرزا غالب ہی کاایک شعریادرآگیاہے کہ

نہ لٹتا دن کو توکب رات کویوں بے خبر سوتا؟

رہا کھٹکا نہ چوری کا دعادیتاہوں رہزن کو

 ہماری دانست میںتو یونیورسٹی کے اساتذہ کے ساتھ ساتھ دیگر ملازمین کو سرکارکاشکر گزارہونا چاہیے کیونکہ تنخواہوں اورپنشن کی اد ائیگی سے ’’بے غم ‘‘کر کے حکومت نے ان پر احسان کیاہے،آج کل تو ویسے بھی حالات قدرخراب ہوچکے ہیں کہ شریف لوگ خود کو گھر کی چاردیواریوںمیں بھی محفوظ نہیں سمجھتے،اگر انہیں اب تک ادا کی جانے والی نصف تنخواہ اور پنشن کی رقم پوری اداکرنے کا اہتمام کر دیاجائے تو بقول مرزا غالب ’’رہزنوں‘‘کو خبرملتے ہی وہ ان کے درپے ہوجائیںگے اورراہ چلنے سے لے کر رات کو گھروں میں ہی ان کا جینا حرام کردینگے،بلکہ انہیں ہمارانیک مشورہ تو یہی ہے کہ ہفتے میںایک آدھ باراخبار ی بیان بازی او رسوشل میڈیا پر تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کا رونے کے ساتھ ساتھ اپنے گھروں کے دروازوں پر بڑے بڑے ڈرائنگ شیٹ اس تحریر کے ساتھ چسپاں کردیں کہ گزشتہ اتنی مدت سے تنخواہ اور پنشن نہیںملی اورہم خود بھو کے کے مارے ہوئے ہیں،اس لئے ’’قرض خواہ‘‘اپنے قرضوں کا تقاضا کرکے شرمندہ نہ کریں،امید ہے یہ تحریریں پڑھ کر رہزن،چور ،اچکے بھی ان کے گھروںکی جانب رخ نہیں کرینگے،بلکہ عین ممکن ہے کہ جس طرح پنجاب کی شادیوں میں’’بھانڈ‘‘لوگوںکو ہنسنانے کے لئے جگت بازیاں کرتے ہوئے ایک جانب سے دوسر ی جانب آتے ہوئے کسی مہمان کی توجہ حاصل کرنے میںکامیاب نہیں ہوتے،تو ایک بھانڈ دوسرے کو اپنے چپل سے ہاتھ پر مارتے ہوئے کہتاہے ’’لوئوجی‘‘ایسے کروکہ پچھلی نشستوں سے جو ویل کما کر لائے ہیں وہ ان غریب غریبوں میںتقسیم کر دو،یہ تو بالکل ہی بھوکے ہیں ،ان کے جیب خالی ہیں،یہ سن کر وہ لوگ بھی شرم کے مارے بھانڈوں کو رقوم دینا شروع کردیتے ہیں۔اس لئے گھروں پر تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کا شکار ملازمین کے لئے ممکن ہے یہ رہزن اپنی جیبوں سے رحم کھا تے ہوئے کچھ نہ کچھ بندوبست کر ہی دیں۔اگر ایسا نہ ہی ہو اتو پھر ہم اخترسیماب کے الفاظ میںیوںبھی کہہ سکتے ہیں کہ

ستائشِ رُخ جاناں میں نطق ولب کھولیں

بھراہوپیٹ اگر ہم بھی فارسی بولیں

دراصل فارسی کا مقولہ ہے ناکہ ’’بھراہوا پیٹ فارسی بولتاہے ‘‘اگرچہ ایک اورمقولہ بھی ہے ناکہ ’’بھوک سے انتڑیاں قل ہواللہ ‘‘پڑھتی ہیںتو اب یہ فیصلہ یونیورسٹی ملازمین ہی کریں کہ وہ ’’فارسی ‘‘بولنا چاہتے ہیں ،یا پھر قل کا ورد کرنے پر مجبور ہوتے ہیں،کیونکہ ایک جانب آدھی تنخواہ اور آدھی پنشن کے دروازے بھی بند ہونے کی خبریں ہیں۔اگلے دومہینے کنگال پن کی نذر ہونگے اوردوسری جانب قتیل شفائی نے یہ بھی کہا تھا کہ

حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا

اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں خریداروں میں

Loading