بات ہی کچھ اور ہے…
محبت کے نصاب میں درد جب شامل ہو جائے تو زندگی کے معنی بدل جاتے ہیں۔ حسن امام صاحب کے ان اشعار میں جو مٹھاس اور سچائی ہے، وہ براہِ راست دل پر دستک دیتی ہے۔ یہ صرف شاعری نہیں، بلکہ ہم جیسے ٹوٹے ہوئے مگر مخلص دلوں کی دھڑکنوں کا عکس ہے۔
آئیے، آج کی شام اس خوبصورت غزل کے نام کرتے ہیں:
غَم میں اُلجھی زِندگی کی بات ہی کُچھ اور ہے،
دَردِ دِل سے عاشِقی کی بات ہی کُچھ اور ہے،،
یُوں تو مے کَش جھُومتے ہیں پی کے ساغَر سے مَگر،
اُس نَظر سے مے کَشی کی بات ہی کُچھ اور ہے،،
آپ کی مَرضی ہے چاہے کیجیئے جِتنا سِنگھار،
حُسن میں اِک سادگی کی بات ہی کُچھ اور ہے،،
یُوں کِسی کی زُلف کے سائے کا ہے اپنا مَزہ،
ہاں مَگر آوارگی کی بات ہی کُچھ اور ہے،،
آپ کی مَحفل میں لاکھوں چاند چہرے ہیں تو کیا؟
اُن کے رُخ کی چاندنی کی بات ہی کُچھ اور ہے!
اس غزل کا حسن اس کے سادہ مگر پُر اثر الفاظ میں چھپا ہے۔ خاص طور پر “حُسن میں اِک سادگی” والا شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بناوٹ چاہے کتنی ہی دلکش کیوں نہ ہو، جو وقار سادگی میں ہے وہ کہیں اور میسر نہیں۔ شاعر نے جس مہارت سے غمِ زندگی اور لذتِ آوارگی کو یکجا کیا ہے، وہ فن کی معراج ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ ہم سب اپنی زندگیوں میں کہیں نہ کہیں “اُلجھے” ہوئے ضرور ہیں، مگر جب اس الجھن کو لفظ مل جائیں تو وہ ایک خوبصورت احساس بن جاتی ہے۔ حسن امام صاحب کی یہ تخلیق ہمارے انھی ان کہے جذبوں کی بہترین ترجمانی کرتی ہے۔
امید ہے یہ لفظ آپ کے دل کے تاروں کو بھی اسی طرح چھیڑیں گے جیسے میرے احساسات کو چھو گئے ہیں۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔
فقط، آپ سب کا مخلص
شہزاد قریشی
![]()

