Daily Roshni News

آج کل یہ صرف “نیند نہ آنے” کا مسئلہ نہیں رہا۔

آج کل یہ صرف “نیند نہ آنے” کا مسئلہ نہیں رہا۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )بہت سے لوگ بستر پر لیٹتے ہیں لیکن ان کا دماغ سونے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ جسم تھکا ہوا ہوتا ہے۔ آنکھیں بند ہوتی ہیں۔ لیکن خیالات بند نہیں ہوتے۔ کوئی آنے والے کل کے بارے میں سوچ رہا ہوتا ہے۔ کوئی پرانی باتوں میں پھنسا ہوتا ہے۔ کوئی relationship stress میں ہوتا ہے۔ اور کوئی صرف یہ سوچ سوچ کر پریشان ہوتا رہتا ہے کہ “اگر آج بھی نیند نہ آئی تو کیا ہوگا؟”

بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ “ہم نے ہر نیند کی گولی کھا کر دیکھ لی لیکن پھر بھی سکون والی نیند نہیں آتی۔” اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر insomnia صرف نیند کی کمی نہیں ہوتی۔ اکثر اصل مسئلہ ایک مسلسل stressed اور overactive nervous system ہوتا ہے۔ دماغ ہر وقت alert mode میں رہتا ہے۔ جیسے اندر کوئی alarm system مسلسل آن ہو۔

مثال کے طور پر ایک نوجوان رات کو 2 بجے تک جاگتا رہتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ جیسے ہی بستر پر لیٹتا ہوں دماغ پورے دن کی باتیں دہرانا شروع کر دیتا ہے۔ کبھی future کی tension۔ کبھی career کا خوف۔ کبھی دوسروں کی باتیں۔ دن میں وہ خود کو مصروف رکھ لیتا تھا لیکن رات کو suppressed thoughts واپس آ جاتے تھے۔ اصل مسئلہ نیند نہیں بلکہ untreated anxiety تھی۔

ایک دوسری خاتون بار بار اٹھ جاتی تھیں۔ ہر چھوٹی آواز پر آنکھ کھل جاتی تھی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کئی سال emotional stress اور خوف میں رہی تھیں۔ ان کا nervous system ہمیشہ danger mode میں رہتا تھا۔ ایسے لوگوں کا جسم بستر پر ہوتا ہے لیکن دماغ اب بھی “حفاظتی ڈیوٹی” پر ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ گہری نیند میں نہیں جا پاتے۔

کچھ لوگ رات بھر mobile استعمال کرتے رہتے ہیں۔ Reels۔ Scrolling۔ Chatting۔ Videos۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ relax ہو رہے ہیں لیکن حقیقت میں دماغ مسلسل stimulation لے رہا ہوتا ہے۔ Blue light melatonin hormone کو disturb کرتی ہے جو نیند کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ پھر وہی لوگ کہتے ہیں کہ “تھکا بہت ہوں لیکن نیند نہیں آ رہی۔”

کچھ cases میں depression بھی نیند کو متاثر کرتا ہے۔ بعض لوگ بہت زیادہ سوتے ہیں۔ جبکہ بعض کی نیند مکمل ختم ہو جاتی ہے۔ کچھ لوگوں کو رات کے وقت دل گھبرانے لگتا ہے۔ سانس تیز ہو جاتی ہے۔ یا بار بار منفی خیالات آنے لگتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں شاید انہیں کوئی جسمانی بیماری ہے۔ لیکن اکثر یہ anxiety اور chronic stress کا اثر ہوتا ہے۔

ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ لوگ نیند کو force کرنے لگتے ہیں۔ وہ بار بار گھڑی دیکھتے ہیں۔ خود کو کہتے ہیں “ابھی تک نیند کیوں نہیں آئی؟” یہی خوف دماغ کو مزید alert کر دیتا ہے۔ جتنا انسان نیند کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے اتنا دماغ جاگنے لگتا ہے۔

بہتر نیند صرف دوائی سے نہیں آتی۔ دماغ کو safety feel کروانا پڑتا ہے۔ جسم کو یہ signal دینا پڑتا ہے کہ اب خطرہ نہیں ہے۔ اسی لیے therapy میں صرف sleeping pills پر فوکس نہیں کیا جاتا بلکہ thoughts۔ Emotions۔ Stress۔ Trauma۔ Lifestyle۔ اور nervous system regulation پر کام کیا جاتا ہے۔

مثلاً اگر کوئی شخص سونے سے پہلے اپنے worries لکھ لے۔ Deep breathing کرے۔ Lights dim کرے۔ Mobile دور رکھے۔ اور روز ایک ہی وقت پر سونے کی کوشش کرے تو دماغ آہستہ آہستہ calm ہونا شروع ہوتا ہے۔ اسی طرح جب انسان دن بھر emotions کو suppress کرنے کے بجائے healthy طریقے سے express کرنا سیکھتا ہے تو رات کے وقت ذہنی بوجھ کم ہونے لگتا ہے۔

نیند اصل میں ایک محفوظ دماغ کی علامت ہے۔ جب دماغ مسلسل خوف۔ Tension۔ Overthinking۔ Guilt۔ یا emotional pressure میں رہتا ہے تو جسم آرام کرنا چاہتا ہے لیکن mind جاگتا رہتا ہے۔ اسی لیے اصل علاج صرف سونا نہیں بلکہ اندر کے stress system کو regulate کرنا ہوتا ہے۔

ماہر نفسیات سعدیہ

Loading