دماغ سے ذہن کی جانب سر۔۔۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ دماغ سے ذہن کی جانب سر)مخالف نتائج دیے ہیں۔اوپر دیئے گئے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے جسم میں دو طرح کے دماغ موجود ہیں ایک مازی دماغ، وہ گوشت کا لوتھڑا ہے جو انسانی کھوپڑی کے اندر ہوتا ہے اور دوسرا اصل دماغ یعنی ہمار اذ ہن جو ہمارے دماغ کو تشکیل دیتا ہے۔ ہمارے مادی دماغ کے کسی حصہ کے ناکار و یا مفلوج ہو جانے یا دماغ سے جدا ہو جانے کی صورت میں بھی ہمارا اصل دماغ (ذہن ) اپنا کام نہایت مستعدی اور نارمل طرحسے کرتا ہے۔انسانی جسم میں دماغ Brain ایک نہایت پیچیدہ اور اہم حصہ ہے۔ اس کے اندر کھربوں خلیے متحرک رہتے ہیں۔ ان خلیوں کے بارے میں جاننے کے لیے سائنس دان یکے بعد دیگرے صدیوں ریسرچ کرتے رہے اور آخر کار پچھلی صدی کے وسط میں دماغ کے خلیوں کا ادراک حاصل ہو سکا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے سائنس دانوں کو اس قابل بنایا کہ وہ دماغ کے اندر تک رسائی حاصل کر کے اس کے ارتعاشات اور حرکات کا صحیح طرح معائنہ کر سکیں۔کسی زمانے میں یہ بات بھی مشہور تھی کہ وہ افراد جن کے سر بڑے ہوتے ہیں، یعنی سائز میں زیادہ ہوتے ہیں ان میں ذہانت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ موجودہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ بڑے سر رکھنے والے افراد ذہین بھی ہوں کیونکہ بڑے سر کے اندر خلیوں کے مواصلاتی نظام میں تیزی پیدا نہیں ہوتی اور نیورون آپس میں پیغام رسانی کے دورانبہت مست ہو جاتے ہیں۔انیسویں صدی کے سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ انسانی دماغ ایک ایسا معمہ ہے جسے ابھی تک سمجھا نہیں جاسکا اور اس کے لیے کئی صدیاں درکار ہوں گی، جب ذہن کے اسرار و رموز کا مکمل اور اک حاصل ہو سکے گا۔ “کیا ہماری کھوپڑی میں رکھا ہوا دماغ ہی ہمارا ذہن ہے؟ کیا دماغ اور ذہن دو الگ الگ چیزیں ہیں ؟
کیا ہماری مختلف صلاحیتیں ہمارے دماغ کے مختلف حصوں میں موجود ہیں یا ہمارے ذہن میں …..؟ اگر ہمارا ذہن ہی ہماری اصل ہے تو وہ ہمارے جسم میں کہاں ہے….؟ مغربی دنیا میں اکثر نفسیات دان، سائیکو تھراپسٹ، فزیو تھراپسٹ اور روحانی معالجین کافی عرصے سے اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ہمارا دماغ اور ہمارا ذہن دومختلف چیزیں ہیں۔ وہ اس کو شعور اور لاشعور سے متعارف کراتے ہیں۔ ان کے مطابق ہمارا گوشت پوست سے بنا ہوا دماغ صرف شعور کی نمائندگی کرتا ہے جبکہ لاشعور اس دماغ سے ماورا کہیں اور موجود ہے اور اس دماغ اور شعور کو کنٹرول کر رہا ہے…. یہی لا شعور اس دماغ کے دو مختلف حصوں سے ایک جیسے کام لیتا ہے اور یہی لا شعور ہماری ذہنی قوتوں کا اصل سرچشمہ ہے۔ روحانی نقطہ نظر سے انسانی زندگی کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے علم و جہل، آرام و تکلیف، آزادی و پابندی اور صحت و بیماری وغیرہ کا دار و مدار محض اس بات پر ہے کہ انسان کون سا دماغ استعمال کرتا ہے۔ آدم کی اولاد میں زندگی گزارنے کے لیے یہ دونوں رخ موجود ہیں۔ ہر انسان روزانہ ان دونوں رخوں میں رد و بدل ہوتارہتا ہے ، ان رخوں کے تجربات بھی انسان کی پوری زندگی ہے، ایک رخ کا تجربہ ہمیں دن کے وقت بیداری میں اور دوسرے رخ کا تجربہ رات کے وقت خواب میں ہوتا ہے۔ ان دونوں رخوں کو شعوری حواس اور لاشعوری حواس کہا جاتا ہے۔ روحانی علوم کے مطابق شعوری حواس یعنی حواس خمسہ والا دماغ انسان کو مادی دنیا میں قید رکھتا ہے اور لاشعوری حواس کا دماغ انسان کو لا محدود دنیا سے متعارف کراتا ہے، سائنسی ماہرین کے مطابق دماغ کے دونوں حصے یعنی دایاں اور بایاں دماغ مختلف قسم کے حواس بناتے ہیں۔ دائیں دماغ کا تعلق لا شعوری حواس سے ہے اور بائیں دماغ کا تعلق شعوری حواس سے ہے ، دایاں دماغ وجدانی دماغ ہے اور بایاں دماغ منطقی اور تنقیدی دماغ ہے، دائیں دماغ میں لا محمد ود علوم ہیں اور بائیں دماغ میں محدود علوم کا ذخیر ہ ہے۔
سائنس اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ذہن کا قیام دراصل لہروں پر ہے، روحانی بزرگوں کے مطابق انسانی جسم در اصل نسمہ یعنی روح کا مظہر ہے۔ نسمہ کی لہروں کا تعین ساخت کی تکلیل کرتا ہے۔ لہروں کا قیام اگر اکبری حرکت پر ہو تو اسے نسمہ مفرد کہتے ہیں۔ نسمہ مفرد کی حرکت فرد کو زمان و مکان کی قید سے آزاد کر دیتی ہے اور یہاں انسان پابند حواس سے آزاد ہو جاتا ہے۔ قسمہ کی لہروں کی حرکت اگر تانے اور پانے پر مشتمل ہے تو اسے نسمہ مرکب کہتے ہیں، نسمہ مرکب سے محمد ود حواس تشکیل پاتے ہیں۔ سائنس دانوں نے اسے کسی حد تک De Broglie Waves کے عنوان سے سمجھا ہے۔ ان تمام نظریات اور بحث سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ انسانی جسم کی اساس اسکا ذہن ہے۔قلندر بابا اولیاء کے مطابق ذہن نسمہ (روح) کاہی دوسرا نام ہے۔نسمہ کے متعلق مزید تفصیلات قلندر بابا اولیاء کی کتاب لوح و قلم سے مل سکتی ہیں جس میں بابا صاحب”نے اس موضوع پر سیر حاصل بحث کی ہے۔مذکورہ واقعات اور مثالوں کے بعد تونیوروسائنٹسٹس کو بھی اب یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ دماغ ذہن کو نہیں بلکہ ذہن دماغ کو تخلیق کر رہا ہے۔ممکن ہے وہ یہاں ہم سے یہ سوال کریں کہ ذہن کا منبع و ماخذ کیا ہے….
؟قلندر بابا اولیاءؒ اپنی کتاب “لوح و قلم ، میں انسان کے گوشت پوست کے جسم کو انسان کا لباس قرار دیتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ “اصل انسان در اصل روح ہے اور جسم صرف اس کا لباس ہے“۔ جب ہم مرتے ہیں تو دراصل ہماری اصل (یعنی ہماری روح) لباس بدل لیتی ہے۔ ہمارا دماغ ہمارے جسمکا حصہ ہے۔اس روحانی تصور کے مطابق ہمارے جسم میں گوشت پوست کا دماغ بھی ہمارے اصل دماغ یاذ بہن کا ایک لباس ہی ہے۔ ہماری تمام صلاحیتیں، حیات ، سوچ و بچار در اصل ہمارے اصل ذہن میں موجود ہیں اور گوشت پوست کا یہ دماغ ان تمام حرکات کو اس گوشت پوست کے جسم کے ذریعے عملدرآمد کا حکمدینے کا ایک ذریعہ ہے۔اگر یہ Medium یذریعہ کسی وجہ سے متاثر ہو جائے اور اصل ذہن یا لاشعوری قوتوں سے کام لیا جائے تو یہ ممکن ہے کہ دماغ کا کوئی دوسرا حصہ وہی صلاحیت حاصل کرلے یا وہی کام کرنے لگے جو مفلوج یا متاثر ہو چکا ہے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جنوری 2026
![]()

