اسرائیل کیسے بن گیا ۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تاریخ میں یہودیوں کا تعلق فلسطین کی زمین سے تین ہزار سال پرانا ہے تورات کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کنعان کی زمین میں آئے تھے جس کو آج فلسطین کہتے ہیں اس کے بعد حضرت موسی علیہ السلام کی قیادت میں بنی اسرائیل مصر سے نکل کر یہاں آباد ہوئے حضرت داؤد علیہ السلام نے یروشلم کو دارالحکومت بنایا اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہیکل تعمیر کی 586 قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے یروشلم پر حملہ کیا ہیکل گرا دی اور یہودیوں کو غلام بنا کر بابل لے گیا اس کو پہلی جلا وطنی کہتے ہیں ستر سال بعد فارس کے بادشاہ سائرس نے یہودیوں کو واپس آنے کی اجازت دی اور دوسری ہیکل بنی 70 عیسوی میں رومیوں نے دوبارہ ہیکل گرا دی اور یہودیوں کو پوری دنیا میں بکھیر دیا اس کو دوسری جلا وطنی کہتے ہیں اس کے بعد تقریبا دو ہزار سال تک یہودی دنیا کے مختلف ملکوں میں اقلیت بن کر رہے اس دوران فلسطین پر پہلے رومی پھر بازنطینی پھر 637 عیسوی میں حضرت عمر کے دور میں مسلمان اور پھر صلیبی جنگوں کے بعد 1517 میں عثمانی ترک قابض رہے
انیسویں صدی میں یورپ میں یہودیوں پر بہت ظلم ہو رہا تھا روس میں یہودی بستیوں پر حملے ہوتے تھے جن کو پوگروم کہا جاتا تھا فرانس میں ڈریفس مقدمہ ہوا جس میں ایک یہودی فوجی پر جھوٹا الزام لگا ان واقعات سے ایک آسٹریا کے یہودی صحافی تھیوڈور ہرٹزل نے 1896 میں ایک کتاب لکھی جس کا نام تھا دی جیوش اسٹیٹ اس میں اس نے کہا کہ یہودیوں کا مسئلہ صرف ایک ملک بنا کر حل ہو سکتا ہے 1897 میں سوئٹزرلینڈ کے شہر بازل میں پہلی صہیونی کانگریس ہوئی جس میں طے ہوا کہ فلسطین میں یہودیوں کے لیے ایک گھر بنایا جائے یہاں ایک بات سمجھنے کیلئے بتادو کہ یہودیوں نے فلسطین سرزمین کآ انتخاب کیوں کیا تو اس پر الگ بات کرونگا فلحال موضوع یہ ہے. کہ اس وقت فلسطین عثمانی سلطنت کا حصہ تھا اور وہاں کی آبادی کی نوے فیصد مسلمان اور عیسائی عرب تھے صرف تین سے پانچ فیصد یہودی تھے صہیونی تنظیم نے زمین خریدنا شروع کی اور یورپ سے یہودی خاندانوں کو لا کر فلسطین میں بسانا شروع کیا اس کو پہلی علیاہ کہا جاتا ہے 1882 سے 1903 تک تقریبا پینتیس ہزار یہودی آئے دوسری علیاہ 1904 سے 1914 تک چالیس ہزار یہودی آئے جو زیادہ تر روس سے تھے ۔مختلف مؤرخین نے مختلف لکھی ہیں
انہوں نے پہلی بار اجتماعی کھیتی باڑی کا نظام شروع کیا جس کو کبوتز کہتے ہیں
1914 میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی عثمانی سلطنت جرمنی کے ساتھ تھی اور برطانیہ اس کے خلاف تھا برطانیہ کو عربوں کی حمایت چاہیے تھی اس لیے 1915 میں برطانوی افسر مکموہن نے مکہ کے شریف حسین کو خط لکھا کہ اگر عرب ترکوں کے خلاف بغاوت کریں تو جنگ کے بعد آزاد عرب ریاست بنا دی جائے گی اسی دوران برطانیہ نے یہودیوں کی حمایت لینے کے لیے بھی ایک وعدہ کیا 2 نومبر 1917 کو برطانوی وزیر خارجہ آرتھر بالفور نے لارڈ روتھ شیلڈ کو ایک خط لکھا جس کو بالفور اعلامیہ کہتے ہیں اس میں لکھا تھا کہ برطانوی حکومت فلسطین میں یہودیوں کے قومی گھر کے قیام کی حمایت کرتی ہے بشرطیکہ وہاں کے غیر یہودی لوگوں کے حقوق متاثر نہ ہوں یہ خط صرف ایک پیراگراف کا تھا لیکن اس نے مشرق وسطی کی تاریخ بدل دی 1918 میں جنگ ختم ہوئی عثمانی سلطنت ٹوٹ گئی اور 1920 میں لیگ آف نیشنز نے فلسطین کا انتظام برطانیہ کے حوالے کر دیا جس کو برٹش مینڈیٹ کہا جاتا ہے۔۔
1920 سے 1948 تک فلسطین پر برطانیہ کی حکومت رہی اس دوران یہودیوں کی ہجرت بہت تیز ہو گئی تیسری علیاہ اور چوتھی علیاہ میں پولینڈ اور روس سے ہزاروں یہودی آئے عربوں کو لگا کہ ان کی زمین چھینی جا رہی ہے اس لیے 1920 میں پہلا بڑا فساد یروشلم میں ہوا پھر 1921 میں یافا میں ہوا 1929 میں دیوار گریہ کے مسئلے پر بہت بڑا فساد ہوا جس میں 133 یہودی اور 116 عرب مارے گئے برطانیہ نے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے 1930 میں پاس فیلڈ وائٹ پیپر جاری کیا کہ یہودی ہجرت کم کی جائے لیکن صہیونی دباؤ پر یہ واپس لے لیا گیا 1933 میں جرمنی میں ہٹلر کی حکومت آئی اور یہودیوں پر ظلم انتہا کو پہنچ گیا۔
یہاں ایک بات نوٹ کرو کہ ہٹلر نے یہودیوں پر کیوں ظلم کیا یہ بات میں کسی پوسٹ میں کرونگا ہٹلر نے ایک کتاب لکھی ہے اس پر اس نے تفصیلی لکھی ہیں وہ میں الگ تفصیل سے بتاؤنگا
اس وجہ سے 1933 سے 1939 تک پانچویں علیاہ میں تقریبا ڈھائی لاکھ یہودی فلسطین پہنچے 1936 میں عربوں نے برطانیہ کے خلاف بڑی بغاوت کر دی جو تین سال چلی اس کو عرب ریولٹ کہتے ہیں عربوں کا مطالبہ تھا کہ یہودی ہجرت بند ہو اور زمین کی فروخت پر پابندی لگے برطانیہ نے فوج سے بغاوت کچلی اور 1939 میں نیا وائٹ پیپر جاری کیا جس میں کہا گیا کہ اگلے پانچ سال میں صرف پچھتر ہزار یہودی آ سکیں گے اور دس سال بعد فلسطین کو آزاد کر کے مشترکہ عرب یہودی ریاست بنا دی جائے گی یہودیوں نے اس کو مسترد کر دیا اور کہا کہ یہ ہمارے ساتھ دھوکا ہے
1939 سے 1945 تک دوسری جنگ عظیم ہوئی اس میں ہٹلر نے ساٹھ لاکھ یہودیوں کو قتل کیا جس کو ہولوکاسٹ کہتے ہیں اس پر الگ بات کرینگے جنگ کے بعد دنیا کی ہمدردی یہودیوں کے ساتھ ہو گئی ہزاروں یہودی جو کیمپوں سے بچے تھے وہ فلسطین جانا چاہتے تھے لیکن برطانیہ نے وائٹ پیپر کی وجہ سے روک لگا رکھی تھی یہودی تنظیموں ہگانا ایرگون اور لیحی نے برطانیہ کے خلاف مسلح کارروائیاں شروع کر دیں 1946 میں ایرگون نے یروشلم کے کنگ ڈیوڈ ہوٹل میں بم دھماکہ کیا جس میں 91 لوگ مارے گئے ان میں برطانوی عرب اور یہودی سب شامل تھے برطانیہ کے لیے حالات قابو سے باہر ہو گئے اور اس نے فروری 1947 میں اعلان کیا کہ وہ فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ کے حوالے کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ نے ایک خصوصی کمیٹی بنائی جس کو UNSCOP کہا جاتا ہے اس کمیٹی نے فلسطین کا دورہ کیا اور نومبر 1947 کو جنرل اسمبلی میں قرارداد 181 پیش کی جس میں فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ تھا ایک یہودی ریاست اور ایک عرب ریاست یروشلم کو بین الاقوامی شہر قرار دیا گیا اس وقت فلسطین کی کل آبادی تقریبا انیس لاکھ تھی جس میں باسٹھ فیصد عرب اور اکتیس فیصد یہودی تھے لیکن زمین کی تقسیم میں یہودی ریاست کو چھپن فیصد زمین دی گئی حالانکہ یہودی کل آبادی کا ایک تہائی تھے اور صرف سات فیصد زمین کے مالک تھے عرب ریاست کو تینتالیس فیصد زمین دی گئی عربوں نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا اور کہا کہ یہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہے یہودی ایجنسی نے اس کو قبول کر لیا کیونکہ ان کو پہلی بار قانونی ریاست مل رہی تھی ووٹنگ ہوئی 33 ملکوں نے حق میں 13 نے مخالفت میں اور 10 غیر حاضر رہے یوں تقسیم کا منصوبہ منظور ہو گیا
قرارداد پاس ہوتے ہی فلسطین میں عربوں اور یہودیوں کے درمیان خانہ جنگی شروع ہو گئی عربوں نے شہروں کے راستے بند کر دیے اور یہودی بستیوں پر حملے کیے یہودی تنظیم ہگانا نے پلان ڈی کے تحت کارروائی کی جس میں چار سو سے زیادہ عرب گاؤں خالی کرائے گئے اپریل 1948 کو ایرگون اور لیحی نے دیر یاسین گاؤں میں قتل عام کیا جس میں ایک سو سے زیادہ عرب مرد عورتیں اور بچے مارے گئے اس واقعے سے عربوں میں خوف پھیل گیا اور ہزاروں لوگ گھر چھوڑ کر بھاگ گئے مئی 1948 کو برطانوی مینڈیٹ ختم ہونے والا تھا اسی دن تل ابیب میں ڈیوڈ بن گوریون نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا اور کہا کہ یہودی ریاست کا نام اسرائیل ہو گا امریکہ نے گیارہ منٹ بعد اسرائیل کو تسلیم کر لیا سوویت یونین نے بھی فورا تسلیم کر لیا۔۔
امریکہ کی منفاقت دیکھو
اسرائیل کے اعلان کے اگلے دن مئی 1948 کو مصر اردن شام لبنان اور عراق کی فوجوں نے فلسطین پر حملہ کر دیا اس کو پہلی عرب اسرائیل جنگ کہتے ہیں عرب ملکوں کی فوجیں تیار نہیں تھیں اور ان کے درمیان اتحاد بھی نہیں تھا جبکہ یہودیوں نے ہگانا کو اسرائیلی فوج میں بدل دیا تھا اور ان کے پاس یورپ سے آیا ہوا اسلحہ تھا جنگ دس مہینے چلی اس دوران اسرائیل نے اقوام متحدہ کی دی ہوئی چھپن فیصد زمین سے بڑھ کر اٹھہتر فیصد زمین پر قبضہ کر لیا مغربی یروشلم بھی اسرائیل کے پاس چلا گیا اردن نے مشرقی یروشلم اور ویسٹ بینک پر قبضہ کر لیا مصر نے غزہ کی پٹی سنبھال لی جنگ کے نتیجے میں تقریبا سات لاکھ فلسطینی بے گھر ہو گئے جن کو نکبہ یعنی تباہی کہا جاتا ہے یہ لوگ اردن لبنان شام اور غزہ میں مہاجر کیمپوں میں چلے گئے 1949 میں جنگ بندی ہوئی لیکن کوئی امن معاہدہ نہیں ہوا۔۔
اسرائیل نے 1950 میں قانون واپسی پاس کیا جس کے تحت دنیا کا کوئی بھی یہودی اسرائیل آ کر شہریت لے سکتا ہے اس سے اگلے دس سال میں آٹھ لاکھ یہودی آئے جن میں زیادہ تر عرب ملکوں سے نکالے گئے یہودی تھے 1956 میں مصر نے نہر سویز کو قومی ملکیت میں لیا تو اسرائیل نے برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر مصر پر حملہ کر دیا لیکن امریکہ اور سوویت دباؤ پر پیچھے ہٹنا پڑا 1967 میں چھ روزہ جنگ ہوئی جس میں اسرائیل نے صرف چھ دن میں مصر سے غزہ اور سینائی اردن سے ویسٹ بینک اور مشرقی یروشلم اور شام سے گولان کی پہاڑیاں چھین لیں اس جنگ کے بعد اسرائیل کا رقبہ تین گنا ہو گیا 1973 میں مصر اور شام نے یوم کپور کے دن حملہ کیا لیکن اسرائیل نے جوابی حملے میں ان کو پیچھے دھکیل دیا 1979 میں مصر نے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کر کے اسرائیل کو تسلیم کر لیا اور سینائی واپس لے لیا 1993 میں اوسلو معاہدہ ہوا جس میں فلسطینی تنظیم پی ایل او نے اسرائیل کو تسلیم کیا اور اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کو ویسٹ بینک اور غزہ میں محدود خود مختاری دی ۔۔لیکن یہ سب اسرائیل نے اکیلا نہیں کیا امریکہ برطانیہ فرانس یورپ سب اس میں شریک کار تھی اس لئے ہمارے پٹھان بزرگ کہتے ہیں
اسرائیل دہ امریکی اور برطانیی ناجائز اولاد دے
مطلب اسرائیل امریکہ اور یورپ کی ناجائز بچہ ہیں
آج اسرائیل مشرق وسطی کا سب سے مضبوط ملک ہے اس کی آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے جس میں پچھتر فیصد یہودی اور اکیس فیصد عرب شہری ہیں اس کی فوج دنیا کی جدید ترین فوجوں میں ہے اور اس کے پاس غیر اعلانیہ ایٹمی ہتھیار بھی ہیں دوسری طرف پچاس لاکھ سے زیادہ فلسطینی ویسٹ بینک اور غزہ میں رہتے ہیں اور لاکھوں اب بھی مہاجر کیمپوں میں ہیں یروشلم کا مسئلہ حل نہیں ہوا اسرائیل پورے یروشلم کو اپنا دارالحکومت کہتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں ویسٹ بینک میں اسرائیلی بستیاں مسلسل بن رہی ہیں جن کو دنیا غیر قانونی کہتی ہے غزہ پر 2007 سے حماس کی حکومت ہے اور اسرائیل نے اس کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔اور مسلمان خاموش تماشائ بنی ہیں ۔
اس موضوع پر بات جاری ہیں
![]()

