Daily Roshni News

برف کے نیچے زندہ دنیا —تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

برف کے نیچے زندہ دنیا — انٹارکٹیکا کے اندر خفیہ ایکو سسٹم نے سائنسدانوں کو حیران کر دیا

تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحقیق و ترتیب۔۔۔طارق اقبال سوہدروی)دنیا کے نقشے پر انٹارکٹیکا ایک ایسی سرزمین سمجھی جاتی ہے جہاں صرف برف، خاموشی اور شدید سردی کا راج ہے۔ درجہ حرارت بعض علاقوں میں منفی 80 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے، ہزاروں کلومیٹر تک صرف برف ہی برف دکھائی دیتی ہے، اور انسان کے لیے وہاں زندہ رہنا انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جدید سائنسی تحقیق نے اس منجمد دنیا کے نیچے ایک ایسی حیران کن حقیقت دریافت کی ہے جس نے سائنسدانوں کو بھی حیرت میں ڈال دیا۔

حالیہ برسوں میں سائنسدانوں نے انٹارکٹیکا کی کئی کلومیٹر موٹی برف کے نیچے پوشیدہ جھیلیں، پانی کے ذخائر، اور زندہ مخلوقات پر مشتمل مکمل ایکو سسٹمز دریافت کیے ہیں۔ یہ دریافت اس لیے حیران کن ہے کیونکہ وہاں نہ سورج کی روشنی پہنچتی ہے، نہ عام پودے موجود ہیں، اور نہ ہی وہ ماحول ہے جسے ہم زندگی کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔

NASA اور مختلف بین الاقوامی تحقیقی اداروں کی تحقیقات کے مطابق برف کے نیچے موجود بعض جھیلیں لاکھوں سال سے دنیا سے الگ تھلگ ہیں۔ ان جھیلوں میں ایسے بیکٹیریا اور خوردبینی جاندار دریافت ہوئے ہیں جو انتہائی سخت ماحول میں بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ مخلوقات سورج کی روشنی کے بجائے زمین کے اندر موجود معدنیات اور کیمیائی توانائی سے اپنی زندگی قائم رکھتی ہیں۔

یہ دریافت صرف زمین تک محدود نہیں بلکہ اس نے خلائی تحقیق میں بھی نئی امید پیدا کر دی ہے۔ سائنسدان اب یہ سوچ رہے ہیں کہ اگر زمین کی برف کے نیچے زندگی موجود ہو سکتی ہے تو ممکن ہے مشتری کے چاند Europa یا زحل کے چاند Enceladus کی برف کے نیچے بھی زندگی کے آثار موجود ہوں۔

انٹارکٹیکا کے نیچے یہ پوشیدہ دنیا انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ زندگی کے متعلق ہماری معلومات ابھی کتنی محدود ہیں۔ انسان جن مقامات کو مکمل مردہ سمجھتا تھا، وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے زندگی کے راز چھپا رکھے ہیں۔

قرآنِ مجید بھی انسان کو زمین اور کائنات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«وَفِي الْأَرْضِ آيَاتٌ لِّلْمُوقِنِينَ

“اور زمین میں یقین رکھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں”

(سورۃ الذاریات: 20)»

ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:

«وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ

“اور آپ کے رب کے لشکروں کو اُس کے سوا کوئی نہیں جانتا”

(سورۃ المدثر: 31)»

یہ آیات انسان کو یہی احساس دلاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہماری محدود سوچ سے کہیں زیادہ وسیع اور حیرت انگیز ہے۔ جدید سائنسی تحقیقات بعض اوقات ہمیں ان نشانیوں پر مزید گہرائی سے غور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ البتہ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ قرآنِ مجید ہدایت کی کتاب ہے، سائنس کی نصابی کتاب نہیں۔ سائنس وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے، جبکہ اللہ کا کلام اٹل حقیقت ہے۔

آج انسان برف کے نیچے پوشیدہ زندگی دریافت کر رہا ہے، کل شاید وہ دوسری دنیاؤں میں بھی زندگی کے آثار تلاش کرے۔ لیکن ہر نئی دریافت انسان کو یہی احساس دلاتی ہے کہ کائنات ابھی بھی بے شمار راز اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے۔

حوالہ جات:

  1. NASA Antarctic Research Missions

  2. Nature Journal — Antarctic Subglacial Ecosystems

  3. British Antarctic Survey Reports

  4. قرآنِ مجید — سورۃ الذاریات: 20

  5. قرآنِ مجید — سورۃ المدثر: 31

#انٹارکٹیکا

#سائنس_اور_قرآن

#HiddenWorld

#Antarctica

#SpaceScience

#Europa

#ScientificDiscovery

#GlobalTareekhHub

Loading