مزار یا مظہر
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ سید اسلم شاہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ سید اسلم شاہ)* اسلام میں قبر پرستی، مزار پرستی کا حکم نہیں۔ روز مرہ کا مشاہدہ ہے ہم انہیں سے ملنے قبرستان جاتے ہیں جن سے جیتے جی ہماری نسبت اور واقفیت رہی ہو۔
۔
* ہر فرد اپنے مرحومین (ماں، باپ، استاد، پیرو مرشد، بہن بھائی، چاچا، ماما) سے ملنے ہی ان کے مقبرے پر جاتے ہیں۔ جہاں نسبت ہوتی وہا جانے کا حکم بھی لاگو ہوتا ہے۔ جہاں نسبت نہیں ہوتی وہاں جانے یا نا جانے کا حکم لاگو نہیں ہوتا۔ چلے گئے تو بری بات نہیں مگر حکم لاگو نہیں ہوتا۔
۔
* جس صاحب مزار سے کسی کی اُس کی زندگی میں صحبت و سنگت رہی ہو، اُس سے کچھ اللہ و رسول کے بارے میں سیکھا ہو، تعلیم لی ہو، گُر کی بات سُنی ہو، تزکیہ کیا ہو، ساتھ اٹھے بیٹھے ہو کھایا پیا ہو پھر تو حق بنتا ہے اس کے مزار پہ جانے کا۔ اپنے دلی جذبات کے اظہار میں اگر آپ مزار کو چومتے ہو تو آپ کا حق بنتا ہے اگر یہ سب نہیں کیا ہو تو پھر کسی پر حکم لاگو نہیں ہوتا۔
۔
* نسبت والا کرے تو عین توحید باقیوں پر حکم نہیں لاگو نہیں۔ اگر آپ کی نسبت صاحب مزار سے نہیں رہی تو آپ ان کے مزار پر جانے کے پابند نہیں۔ اگر آپ اس اصول کو سمجھ لینے کے بعد بھی مزار جانا چاہتے ہیں تو اس صورت میں، بجائے صاحب مزار کے پاس جانے کے صاحب مظہر کے پاس چلا جائے۔
۔
صاحب مزار کستوری کی طرف اشارہ تو دے سکتا ہے کہ فلاں بندے کے پاس چلے جاوُ اس کے پاس کستوری ہے اس سے حاصل کر لو مگر بذات خود کستوری دے نہیں سکتا۔ کستوری صرف اور صرف صاحب مظہر دے سکتا ہے۔
۔
جس کی لگن جہاں پر اس کا رام وہیں پر۔
۔
* مزار ایک سیمبل ہے کہ یہاں وہ فرد محو استراحت ہے جو خود شناس و خدا آگاہ ہے۔ جس نے اس دھرتی پر آکر اپنے مقصد کو دریافت کر کے اس کی تکمیل کر چکا ہے۔ مزارات موٹیویشن کے لیے بنائے جاتے ہیں۔
۔
جس طرح صاحب مزار کے باطن کا پھول کھل چکا ہے یا رب ہمارے اندر کے پھول کو بھی کھلا دے۔ جس طرح یہ روشن ہے اسی طرح میری زندگی بھی اسی پروانے کی صورت بنا دے۔
۔
* جب بھی کوئی اللہ کا بندہ اس دنیا سے کوچ کرتا ہے تو وہ اپنی جگہ ایک فرد دے کر جاتا ہے، اللہ کا بندہ اس دنیا سے اس وقت تک کوچ نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ ایک فرد تیار نہ کروا دے۔
۔
* ہر استاد شاگرد چھوڑ کر جاتا ہے۔ اگر آپ کی نسبت حاضر گدی نشین سے ہے تو پھر اس صورت میں آپ کا جانا مباح ہو سکتا ہے۔ اگر مقصد تربیت ہے تو پھر صاحب مزار نے جو مظہر تیار کیا ہے اس تک پہنچیں۔
۔
ؐ * جے کوئی مل جائے بخشیا تے توں وی بخشیا جا۔
۔
* بصورت دیگر آپ سب سمجھدار انسان ہیں۔ اگر آپ روحانیت کے طالب علم ہیں اور سالک ہیں تو اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں سالک کو جو کچھ بھی ملنا ہوتا ہے تو وہ اس کے ہیڈ آفس سے ہی ملتا ہے باقی وہ کہیں پر بھی چلا جائے اس کا مقصود پورا نہیں ہو سکتا۔ عورت کو جو کچھ بھی چاہیئے ہوتا ہے وہ اپنے خصم کو کہتی ہے اگر کسی اور سے کہتی پھرے تو مناسب نہیں ہے نا۔
۔
پیر ملے جے پیڑھ نا جاوے
اوہ پیر پڑح کے کیہہ کرنا۔
۔
* صاحب مزار اور صاحب مظہر میں کیا فرق ہوتا ہے؟
جو فرق حاضر ڈیوٹی اور سابقہ فرد کے اختیارات میں ہوتا ہے۔ صاحب مظہر آن ڈیوٹی، حاضر سروس صاحب حال ہوتا ہے جبکہ صاحب مزار سابقہ عہدیدار۔ صاحب مزار بھی کبھی صاحب مظہر تھا جو اپنی ڈیوٹی بحسن و خوبی سر انحام دے کر اپنے قابل ترین اور ہونہار ترین شاگرد کو اپنے تمام فرائض سونپ کر ہی وصال کرتا ہے۔
۔
مثال کے طور پر: عمران خان حاضر سروس صدر ہے تمام اختیارات کا حامل جبکہ نواز شریف سابقہ حکمران۔ اگر نواز شرءف نے موجودہ حکومت سے کچھ کام کروانے ہو تو اس کے لیے عمران خان کے دستخط چاہیے ہونگے۔
۔
سابقہ صدر نے بھی اگر کچھ سفارش کرنی ہو تو اس کو حاضر فرد کی پرمیشن کی ضرورت پڑھتی ہے۔ صاحب امر کے ہی احکامات جاری ہوتے ہی، صاحب حال کا سکہ و اختیار چلتا ہے۔
۔
دعائیں مانگنے سے دعائیں لینا بہتر ہے اور کسی غریب مجبور یا درویش سے لی ہوئی دعا کسی صاحب مزار یا خدا سے مانگی ہوئی دعا سے جلد مقبول ہوتی ہے۔
۔
![]()

