Daily Roshni News

نور کا راستہ۔۔۔قسط نمبر2

نور کا راستہ

سلسلہ عظیمیہ کی تعلیمات کا سر چشمہ اغراض و مقاصد کی تشریح

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ نور کا راستہ ) (2) حکمت مومن کا گمشدہ سرمایہ ہے ، جہاں بھی ملےوہ اس کا سب سے زیادہ حق دار ہے۔[ترمذی، ابن ماجه ]

(3) علم والے تو انبیاء کے (حقیقی) وارث ہیں۔[ترمذی۔ ابو داؤد۔ ابن ماجہ ]

(4) اپنی اولاد کو تیرا کی، تیرانداز نی اور گھڑ سواریسکھاؤ۔ [بخاری]

كلام صوفیاء :

بوالبشر کو علم الاسما   رگست

 صد ہزاران لمن اندر ہر رگست

 (ابوالبشر آدم کو علم اسماء جو علم کا سردار ہےعطا کیا، جس کی ہر رگ میں لاکھوں علم ہیں۔) آدم خاکی ز حق آموخت علم

تا به ہفتم آسمان، افروخت علم

آدم نے خدا سے جو علم سیکھا ہے، اس سے ساتوں آسمان اس کے سامنے روشن ہو گئے ہیں۔)

 علامہ اقبال فرماتے ہیں

علم کا مقصود ہے پاکی عقل وخرد

 فقر کا مقصود عفت قلب و نگاه

 علم از سامان حفظ زندگی است

 علم از اسباب تقویم خودی است

 سلسلہ عظیمیہ کا بنیادی نصب العین علوم کا فروغ ہے۔ انبیاء کی طرز فکر عام کرنے کے ساتھ ساتھ سلسلہ عظیمیہ کے اراکین پر لازم ہے کہ وہ موجودہ دور کے رائج علوم حاصل کریں اور لوگوں کو باطنی علوم اور سائنسی علوم ( رائج علوم سکھائیں۔ سلسلہ عظیمیہ روحانی اور سائنسی دونوں علوم کے فروغ میں دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ سائنسی علوم (نیچرل سائنس اور روحانی علوم (میٹا فنر کس) دونوں اپنےاپنے دائرہ کار میں کائنات کی حقیقت کی تلاش میں ہیں۔ فزکس کے ذریعے درجہ بہ درجہ حقیقتیں اور آیات رای دریافت ہوتی ہیں جبکہ مختلف میٹا فنر کس کے ذریعے برا اور است حقیقت تک رسائی ہوتی ہے۔

لوگوں کے اندر ایسی طرز فکر پیدا کرنا جس کےذریعے وہ روح اور اپنے اندر روحانی صلاحیتوں سے باخبر ہو جائیں۔

فرمان الہی: اور میں نے اس میں اپنی روح میں سے پھونک دی۔ [ سورۂ حجر: 29، سور کا ص: 72]

 اور خود تمہارے اندر ( بھی نشانیاں ہیں) کیا تم دیکھتے نہیں ؟ [ سور والذاریات: 21]

خبردار! دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر ہیسے ہے۔ [سور دارند: 28]یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کو پاک کر لیا۔“ [ سور کا شمس: 9]

فرمان رسول ﷺ : تمہارے جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے، اور اگر وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے، سن لو! وہ قلب ہے۔“ [بخاری، مسلم] اللہ تعالی تمہاری صورتوں اور مال کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ [مسلم]

 کلام صوفیاء : مولانارومی اپنے اشعار میں انسان کو اپنی اصل ، اپنے باطن کی جانب متوجہ کرتے ہیں۔

 ای نسخه ی نامہ ی الہی که توئی

 وی آیندی جمال شاہی که توئی

 بیرون ز تو نیست ہر چه در عالم ہست

 در خود بہ طلب هر آنچه خواہی  کہ توئی(دیوان شمس، رباعیات : 1759)

ترجمہ : کیا تم نہیں جانتے، اسی پیغام کا اصل نسخہ تم ہی ہو ، تم ہی وہ آئنہ ہو جس میں شاہ کا جمال اور صفات نظر آتی ہیں ،اس کا ئنات میں جو کچھ ہے، تمہارے اندر بھی موجود ہے۔ خود اپنے اندر جھانکو، تم جس کے متلاشی ہو وہ تمہیں مل جائے گا۔ “ این نکته رمز اگر بدانی دانیهر چیز که در جستن آنی آنی[ دیوان شمس، رباعیات: 1815]

ترجمہ: یہ راز ا گر تو سمجھ لے، تو سمجھ لے کہ جو کچھ تو تلاش کر رہا ہے وہ خود تیرے اندر ہے۔“ سلسلہ عظیمیہ انفرادی اور اجتماعی دونوں طرزوں میں علم کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔تمام نوع انسانی کو اپنی برادری سمجھنا، بلا تفریق مذہب و ملت ہر شخص کے ساتھ خوش اخلاقیکے ساتھ پیش آنا اور حتی المقدور ان کے ساتھہمدردی کرنا۔

فرمان الہی: “جو لو گوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ دنیا میں تادیر قائم رہتا ہے“۔ [ سور دار عد – 17]

اور احسان کرو، اللہ احسان کرنے والوں کو دوسترکھتا ہے“ [سورہ بقرہ: 195] “

 بیشک اللہ ان لوگوں کو اپنی معیت (خاص) سےنوازتا ہے جو صاحبان تقویٰ ہوں اور وہ لوگ جو صاحبان احسان بھی ہوں“ [سورہ محل: 128] اگر تم احسن عمل کرو گے تو خود اپنے ہی فائدہ کے لیے کرو گے، اور اگر تم برائی کرو گے تو اپنی (ہی) جان کے لیے ” [ سور اپنی اسرائیل: 7]

 تم اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو، اور رشتہ داروں، اور یتیموں، اور محتاجوں (سے)، اور نزد یکی ہمسائے، اور اجنبی پڑوسی، اور ہم مجلس اور مسافر (سے) ، اور جن کے تم مالک ہو چکے ہو، ( سے بھی حسن سلوک کرو) [سوره نساء: 36] فرمان رسول علیہ : ” مخلوق اللہ تعالی کی عیال ہے مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب اللہ کے نزدیک وہ شخص ہے جو اللہ کی عیال کے ساتھ بھلائی اور اچھے سلوک کے ساتھ پیش آئے۔ [ مخلوق ] مومن محبت اور الفت کا حامل ہوتا ہے اور اس مخصص میں کوئی خوبی اور بھلائی نہیں جو نہ خود محبت کرے اور نہ لوگوں کو اس سے الفت ہو۔ [مسند احمد ] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : جس کو یہ پسند ہوں کہ اس کے رزق میں کشادگی پیدا ہو اور اس کی عمر دراز ہو جائے تو اس کو چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔ [صحیح بخاری]

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جنوری 2026

Loading