Daily Roshni News

مذہبی تجربہ اور علامہ اقبال

مذہبی تجربہ اور علامہ اقبال

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مذہبی تجربہ سے مراد انسان کا اللہ تعالیٰ یا مافوق الفطرت حقیقت کے ساتھ ذاتی، باطنی اور براہ راست تعلق کا احساس ہے، جس میں مشاہدات اور قلبی کیفیات شامل ہیں۔ یہ باطنی حقائق کی پرکھ اور وجدان کے ذریعے حاصل ہونے والا ایک منفرد علم ہے یہ ایک فرد کا خدا کے ساتھ براہ راست اور ذاتی رابطہ ہوتا ہے یہ وحی یا الہام (پیغمبروں کے لیے)، کشف (اولیاء کے لیے)، اور القاء (شاعروں یا صوفیاء کے لیے) کی صورت میں ہو سکتا ہے

A religious experience is a subjective, often fleeting, personal encounter with a perceived divine, sacred, or transcendent reality. These events, which can include mystical experiences, feelings of awe, or profound conversions, are interpreted within a religious framework and often profoundly change a person’s life.

علامہ اقبال کے نزدیک مذہبی تجربہ باطنی حقائق کو جاننے، عشق اور وجدان کے ذریعے خدا سے براہ راست تعلق پیدا کرنے کا نام ہے، جو عقل کی حدود سے بلند ہے۔ انہوں نے اسے “علم اور مذہبی تجربہ” (خطبہ اول) میں بیان کیا کہ یہ ایک ذاتی مشاہدہ ہے جو انسان کی روحانی بالیدگی اور کائنات کی تسخیر کے لیے ضروری ہے  اقبال کے مطابق مذہب کی بنیاد صرف عقل پر نہیں، بلکہ وجدان (Intuition) پر ہے۔ وجدان باطنی حقائق کو دیکھنے کی صلاحیت ہے مذہبی تجربہ انسان کے اندرونی احساسات اور روحانی مشاہدات کی ایک قسم ہے، جس کے ذریعے انسان حقیقتِ مطلق (خدا) تک رسائی حاصل کرتا ہے اقبال نے مذہبی تجربے کو سائنسی تجربے کی طرح باطنی دنیا کے لیے ایک حقیقت مانا ہے۔ یہ محض تصور نہیں بلکہ ایمان اور معرفت کا ذریعہ ہے۔عشق و مستی: اقبال کے نزدیک مذہب کا اصل جوہر خشک عقلیت نہیں بلکہ عشق اور وجدان ہے، جو انسان کو خودی کی بلندی عطا کرتا ہے اپنے مشہور خطبات (“تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ”) میں، اقبال نے یہ واضح کیا کہ دورِ حاضر کا انسان تجرباتی علوم (Scientific Knowledge) کی روشنی میں مذہب کو سمجھنا چاہتا ہے، اور مذہبی تجربہ ہی وہ ذریعہ ہے جو انسان کو مشاہداتی علوم کے ساتھ روحانیت سے بھی جوڑتا ہے۔

Loading