Daily Roshni News

اقبالیات۔۔۔صبح خیزی

اقبالیات

صبح خیزی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )علّامہ اقبال، مہاراجا سرکشن پرشاد کے نام ۳۱ ؍اکتوبر ۱۹۱۶ء کے خط میں لکھتے ہیں: ’’صبح چار بجے، کبھی تین بجے اٹھتا ہوں، پھر اس کے بعد نہیں سوتا‘ سواے اس کے کہ مصلّے پر کبھی اُونگھ جاؤں‘‘۔(اقبال بنام شاد، ص ۱۸۸)

تقریباً دو سال بعد ۱۱ جون ۱۹۱۸ء کے خط میں پھر لکھتے ہیں: ’’بندۂ رو سیاہ کبھی کبھی تہجّد کے لیے اٹھتا ہے اور بعض دفعہ تمام رات بیداری میں گزر جاتی ہے۔ سو خدا کے فضل و کرم سے، تہجّد سے پہلے بھی اور بعد میں بھی، دعا کروں گا کہ اس وقت عبادتِ الٰہی میں بہت لذت حاصل ہوتی ہے‘‘۔(ایضاً، ص ۲۴۵)

ان بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ علّامہ اقبال اوائلِ عمر ہی سے سحرخیزی کا ایک طبعی ذوق رکھتے تھے اور یورپ کے نسبتاً مختلف اور ناسازگار ماحول میں بھی ان کا یہ ذوق برقرار رہا:

زمستانی ہوا میں گرچہ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شمشیر کی تیزی

نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی ۔۔۔۔آداب سحرخیزی

اقبال کے نزدیک، حیات و کائنات کی حقیقت و ماہیت پر تفکّر اور دنیا و مافیہا کے مسائل پر غور کرنا ہے اور یہ بھی کہ ہم حقیقت آشنا ہو کر صراطِ مستقیم کو پا لینے کے لیے حضورِ ایزدی میں دست بہ دُعا ہوں۔

شب کی تنہائیوں میں تفکّر، رجوع الہی القرآن اور عبادتِ شب کے نتیجے میں شاعر کے حسّاس دل کو کچھ ایسا سکون و ثبات نصیب ہوا کہ اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہ نکلے۔ یہ تشکّر کے آنسو تھے۔ اس خدا کی بارگاہ میں عقیدت کے آنسو جس نے شاعر کو طمانیت کی ویسی ہی کیفیت عطا کی تھی جو صحرا کے ایک مسافر کو اچانک کسی نخلستان میں پہنچنے کے بعد نصیب ہوتی ہے۔ چنانچہ شب کی تنہائیوں میں جاگ جاگ کر آنسو بہانا اور آہ و فغاں کرنا اس کا مستقل شِعار بن گیا۔ یہ شِعار، اقبال کے ہاں ابتدائی دور کی شاعری سے لے کر آخری دور کی شاعری تک، ہر مرحلے اور ہر دور میں ایک مستقل رجحان کی شکل میں موجود ہے:

یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صبح گاہی

کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی

تری زندگی اسی سے، تری آبرو اسی سے

جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو روسیاہی

نہ دیا نشانِ منزل مجھے اے حکیم تو نے

مجھے کیا گلہ ہو تجھ سے، تو نہ رہ نشیں نہ راہی

مرے حلقۂ سخن میں ابھی زیر تربیت ہیں

وہ گدا کہ جانتے ہیں رہ و رسم کج کلاہی

یہ معاملے ہیں نازک، جو تری رضا ہو تو کر

کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریق ِخانقاہی

تو ہما کا ہے شکاری، ابھی ابتدا ہے تیری

نہیں مصلحت سے خالی یہ جہانِ مرغ و ماہی

تو عرب ہو یا عجم ہو، ترا ’لَا اِلٰہ اِلاَّ‘

لغتِ غریب، جب تک ترا دل نہ دے گواہی

#allamaiqbal #iqbalpoetry #iqbal

#Pakistan #کلیات_اقبال

Allama Iqbal Open University Allama Iqbal Allama Iqbal School Education Department, Government of the Punjab Higher Education Commission, Pakistan Munib Iqbal Government of Pakistan

Loading