Daily Roshni News

خاموش تصویریں

خاموش تصویریں

حیدرآباد کے پرانے شہر میں ایک گلی ایسی تھی جہاں سورج کی روشنی بھی پوری طرح نہیں پہنچتی تھی۔ اسی گلی کے آخری کونے پر ایک چھوٹی سی فوٹو اسٹوڈیو موجود تھی، جس کے باہر زنگ آلود بورڈ پر لکھا تھا:

“نور اسٹوڈیو”

یہ دکان اتنی پرانی تھی کہ لوگ کہتے تھے یہاں صرف تصویریں نہیں بنتیں… یادیں قید ہوجاتی ہیں۔

اکثر لوگ اس جگہ سے گزرتے ہوئے نظریں چرا لیتے تھے، کیونکہ اس اسٹوڈیو کے بارے میں عجیب باتیں مشہور تھیں۔

کہتے تھے بعض تصویروں میں ایسے لوگ بھی نظر آتے ہیں… جو حقیقت میں وہاں موجود نہیں ہوتے۔

پچیس سالہ احمر ایک نوجوان فوٹوگرافر تھا۔ اسے پرانی تصویروں اور بلیک اینڈ وائٹ کیمروں سے خاص دلچسپی تھی۔ وہ ہمیشہ ایسی تصویریں بنانا چاہتا تھا جن میں صرف چہرے نہیں، جذبات بھی نظر آئیں۔

ایک دن وہ پرانے شہر میں تصویریں کھینچتے ہوئے اُس گلی تک پہنچ گیا۔

بارش کے بعد گلی میں نمی کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔

احمر کی نظر جیسے ہی “نور اسٹوڈیو” پر پڑی، نہ جانے کیوں وہ اندر چلا گیا۔

اندر مدھم زرد روشنی تھی۔ دیواروں پر بےشمار پرانی تصویریں لگی ہوئی تھیں۔

کچھ چہرے مسکرا رہے تھے، کچھ اداس تھے۔

کاؤنٹر کے پیچھے ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا۔

“کیا آپ یہاں کام کرتے ہیں؟” احمر نے پوچھا۔

بوڑھے نے آہستہ سے سر اٹھایا۔

“کام نہیں… یادیں سنبھالتا ہوں۔”

احمر ہلکا سا مسکرایا۔

“میں بھی فوٹوگرافر ہوں۔”

بوڑھے کی نظریں چند لمحے اُس پر ٹکی رہیں۔

پھر اس نے ایک پرانا کیمرہ نکال کر میز پر رکھا۔

“اگر واقعی تصویروں کو سمجھتے ہو… تو یہ استعمال کرکے دیکھو۔”

کیمرہ عجیب تھا۔ سیاہ رنگ، دھندلا شیشہ اور کناروں پر چاندی کے نقش۔

“یہ خاص ہے؟”

بوڑھے نے دھیمی آواز میں کہا:

“یہ وہ چیزیں بھی دکھاتا ہے جو عام آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں۔”

احمر نے اسے مذاق سمجھا۔

اس نے کیمرہ لیا اور باہر نکل آیا۔

اگلے دن وہ شہر کی مختلف جگہوں پر تصویریں لینے لگا۔

شروع میں سب معمول کے مطابق تھا۔

مگر شام کو جب اس نے تصویریں کمپیوٹر میں منتقل کیں، تو اس کا دل رک گیا۔

ہر تصویر میں ایک لڑکی موجود تھی۔

کبھی دور کھڑی، کبھی کسی کھڑکی کے پاس، کبھی لوگوں کے ہجوم میں خاموش۔

احمر کو یقین تھا کہ اُس نے وہاں کسی لڑکی کو نہیں دیکھا تھا۔

وہ فوراً اگلے دن دوبارہ انہی جگہوں پر گیا۔

اور پھر…

اس نے اُسے حقیقت میں دیکھ لیا۔

وہ سفید لباس پہنے پرانی کتابوں کی دکان کے سامنے کھڑی تھی۔

بالکل ویسی ہی… جیسی تصویروں میں تھی۔

احمر آہستہ آہستہ اس کے قریب گیا۔

“سنیں…”

لڑکی نے مڑ کر دیکھا۔

اس کی آنکھیں غیرمعمولی حد تک خاموش تھیں۔

“جی؟”

“میں نے… شاید آپ کی تصویریں کھینچی ہیں۔”

لڑکی ہلکا سا مسکرائی۔

“میں اکثر تصویروں میں آجاتی ہوں۔”

اس کا جواب عجیب تھا۔

“آپ کا نام؟”

“عنایا۔”

“کیا ہم پہلے کبھی ملے ہیں؟”

عنایا نے چند لمحے خاموش رہ کر کہا:

“شاید کسی یاد میں۔”

احمر اس کی بات نہ سمجھ سکا، مگر اس کے اندر عجیب کشش تھی۔

اس دن کے بعد دونوں کی ملاقاتیں بڑھنے لگیں۔

عنایا اکثر پرانے شہر کی سنسان جگہوں پر ملتی۔

وہ پرانی عمارتوں، خاموش گلیوں اور بارش کے بعد بھیگی دیواروں کو دیر تک دیکھتی رہتی۔

احمر نے محسوس کیا کہ عنایا کبھی اپنے بارے میں زیادہ بات نہیں کرتی۔

ایک دن اس نے پوچھا:

“تم ہر تصویر میں کیوں آجاتی ہو؟”

عنایا نے آسمان کی طرف دیکھا۔

“شاید کچھ لوگ یادوں سے بندھے ہوتے ہیں۔”

“مطلب؟”

“اگر کسی انسان کی کوئی بات، کوئی خواب یا کوئی احساس ادھورا رہ جائے… تو وہ دنیا سے پوری طرح نہیں جاتا۔”

ہوا میں عجیب سردی پھیل گئی۔

احمر کے دل میں بےچینی اترنے لگی۔

اسی رات وہ دوبارہ نور اسٹوڈیو گیا۔

بوڑھا شخص خاموش بیٹھا تھا۔

“وہ لڑکی کون ہے؟” احمر نے بےچینی سے پوچھا۔

بوڑھے نے گہری سانس لی۔

“تم نے اُسے دیکھ لیا؟”

“ہاں۔”

“پھر شاید اب وقت آگیا ہے کہ تم حقیقت جان لو۔”

بوڑھے نے دیوار سے ایک پرانی تصویر اتاری۔

احمر کے ہاتھ کانپ گئے۔

تصویر میں عنایا کھڑی تھی۔

مگر تصویر بہت پرانی تھی۔

نیچے تاریخ لکھی تھی:

1998

“یہ کیسے ممکن ہے…؟”

بوڑھے نے دھیمی آواز میں کہا:

“عنایا میری بیٹی تھی۔ ایک حادثے میں وہ چلی گئی۔ مگر اُس کے بعد سے بعض تصویروں میں وہ نظر آتی رہی۔”

احمر کی سانس رک گئی۔

“مگر میں تو اُس سے بات کرتا ہوں…”

“کیمرہ تمہیں وہ دکھاتا ہے جو عام لوگ نہیں دیکھ سکتے۔”

اس رات احمر پوری رات سو نہ سکا۔

اگلے دن وہ عنایا سے ملا۔

“تم حقیقت میں کون ہو؟” اس نے دھیمی آواز میں پوچھا۔

عنایا کی آنکھوں میں اداسی اتر آئی۔

“میں نے سوچا تھا تم ڈر جاؤ گے۔”

“تم… زندہ نہیں ہو؟”

عنایا خاموش رہی۔

بارش شروع ہوگئی۔

پرانے شہر کی گلیاں دھندلی ہونے لگیں۔

“میں کبھی اس شہر کو چھوڑ نہیں سکی،” عنایا نے آہستہ سے کہا۔
“کیونکہ میری ایک خواہش ادھوری رہ گئی تھی۔”

“کون سی خواہش؟”

“میں چاہتی تھی کوئی مجھے صرف تصویر نہیں… حقیقت کی طرح یاد رکھے۔”

احمر کی آنکھیں نم ہوگئیں۔

“میں تمہیں نہیں بھولوں گا۔”

یہ سنتے ہی عنایا پہلی بار سکون سے مسکرائی۔

ہوا میں عجیب روشنی پھیلنے لگی۔

اس کا وجود آہستہ آہستہ دھندلانے لگا۔

احمر گھبرا گیا۔

“یہ کیا ہورہا ہے؟”

عنایا کی آواز نرم ہوگئی۔

“شاید اب میری یاد مکمل ہوگئی ہے۔”

“نہیں… مت جاؤ…”

عنایا نے مسکرا کر کہا:

“تصویریں کبھی مکمل خاموش نہیں ہوتیں، احمر…
وہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ کہتی رہتی ہیں۔”

اگلے ہی لمحے وہ بارش کی دھند میں غائب ہوگئی۔

احمر کافی دیر وہیں کھڑا رہا۔

صرف بارش کی آواز باقی تھی۔

کچھ دن بعد وہ دوبارہ نور اسٹوڈیو گیا۔

مگر وہاں کچھ نہیں تھا۔

نہ دکان، نہ بورڈ۔

جیسے وہ جگہ کبھی موجود ہی نہ ہو۔

احمر نے حیرت سے اردگرد دیکھا۔

پھر اس نے اپنا کیمرہ کھولا۔

اس میں آخری تصویر اب بھی موجود تھی۔

بارش میں کھڑی عنایا…

اور اس کے چہرے پر پہلی بار مکمل سکون۔

کئی سال بعد احمر ملک کا مشہور فوٹوگرافر بن گیا۔

لوگ کہتے تھے اُس کی تصویروں میں عجیب جذبات ہوتے ہیں، جیسے ہر تصویر کوئی کہانی سنا رہی ہو۔

مگر احمر جانتا تھا…

کچھ تصویریں صرف کیمرے سے نہیں، دل سے بنتی ہیں۔

Loading