کعبہ کی کائناتی فزکس، الحاد کے بصری مغالطے اور طواف کا الہامی شعور
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔ بلال شوکت آزاد
انتخاب ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ کعبہ کی کائناتی فزکس، الحاد کے بصری مغالطے اور طواف کا الہامی شعور تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔ بلال شوکت آزاد ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی)انسانی شعور، علمِ بشریات اور فکری ارتقاء کی تاریخ کا اگر ایک بے لاگ، خالص اور غیر جانبدارانہ مطالعہ کیا جائے تو یہ کائناتی اور دو ٹوک حقیقت بڑی صراحت کے ساتھ ہمارے سامنے ابھر کر آتی ہے کہ جب انسانی عقل اپنے الہامی مرکز سے کٹ جاتی ہے، تو وہ حقائق کو ان کے اصل اور تاریخی تناظر میں سمجھنے کے بجائے محض کگنیٹو ڈس اوننس (Cognitive Dissonance) اور بصری مغالطوں کا شکار ہو جاتی ہے۔
نفسیات کی دنیا میں اس کیفیت کو پیریڈولیا (Pareidolia) کہا جاتا ہے، جس میں انسان کا دماغ بکھری ہوئی یا بے ربط شکلوں میں زبردستی اپنی مرضی کی مانوس شکلیں اور پیٹرنز تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے کوئی آسمان پر بادل کے ٹکڑے کو دیکھ کر کہے کہ اس میں کسی جانور کی شکل بنی ہوئی ہے۔
آج کے اس ڈیجیٹل دور میں جہاں علم، تحقیق اور منطق کے نام پر سطحی معلومات کا ایک بے ہنگم سیلاب آیا ہوا ہے، جدید الحاد (Atheism) اور کچھ مخصوص پڑوسی مذاہب کے انتہا پسندوں نے اسلام کے خالص توحیدی عقائد، اس کی تاریخ اور اس کے کائناتی شعائر پر حملہ کرنے کے لیے ایک انتہائی مضحکہ خیز، غیر تاریخی اور جاہلانہ بیانیہ گھڑنے کی کوشش کی ہے۔
ان کا مقصد حقائق کی تلاش نہیں، بلکہ ایک پروپیگنڈے کے تحت نئے اور کچے ذہنوں کو تشکیک کے اس اندھے غار میں دھکیلنا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ مسدود ہو جائے۔
گزشتہ دن میری نظر سے ایک ایسا ہی تبصرہ گزرا جس میں ایک ملحد نے انتہائی ڈھٹائی، ہٹ دھرمی اور علمی دیوالیہ پن کا ثبوت دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ کعبے کے گرد سات چکر دراصل ہندو مت کے سات جنموں یا پھیروں کی کاپی ہیں، اور ہر چکر کے بعد حجرِ اسود کے چاندی کے خول کو کالی ماتا یا شیو لنگ کی یونی (Yoni) سے تشبیہ دے کر یہ سوال اٹھایا کہ یہ کون سا اسلام ہے؟
یہ وہ مقام ہے جہاں ایک باشعور انسان، ایک مفکر اور ایک طالبعلم کو غصہ آنے کے بجائے ان معترضین کی جہالت، ان کی تاریخ سے مکمل ناواقفیت اور ان کی ذہنی پستی پر شدید ترس آتا ہے۔
یہ اعتراض دراصل اس بات کا حتمی ثبوت ہے کہ جب انسان کے پاس کسی نظریے کو رد کرنے کے لیے کوئی ٹھوس علمی، تاریخی اور آرکیالوجیکل (Archaeological) دلیل نہیں ہوتی، تو وہ محض شکلوں کی اتفاقیہ مشابہت اور لغوی ہیر پھیر سے اپنے باطل اور کھوکھلے نظریات کو سچ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔
آج کی اس تفصیلی، مربوط، ضخیم اور تاریخی دستاویز میں ہم اس کھوکھلے دعوے کا ایک ایسا منطقی، سائنسی اور شرعی حوالوں سے مزین بے رحم پوسٹ مارٹم کریں گے کہ تاریخ کی کوئی بھی دھند اس کائناتی سچائی کو دوبارہ چھپا نہیں سکے گی۔
سب سے پہلے اس انتہائی بودے اور غیر منطقی دعوے کا تاریخی اور کرونولوجیکل (Chronological) جائزہ لیتے ہیں جس میں کعبے کے سات چکروں، یعنی طواف کے عمل کو ہندو مت کے سات جنموں (Reincarnation) یا شادی کے سات پھیروں کے ساتھ جوڑنے کی بھونڈی کوشش کی گئی ہے۔
تاریخ، بشریات اور تقابلِ ادیان (Comparative Religion) کا ادنیٰ سا طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ ہندو مت کے فلسفے، بالخصوص سات جنموں یا آواگون کا نظریہ، برصغیر پاک و ہند کے مخصوص جغرافیائی اور ثقافتی ماحول میں ویدک دور کے بہت بعد، اپنشدوں کے زمانے میں پروان چڑھا۔
اس کے برعکس، خانہ کعبہ کی بنیاد اور اس کے گرد طواف کا تصور آج سے ہزاروں سال قبل، حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کے دور میں جزیرہ نما عرب کے اس سنگلاخ، کٹے ہوئے اور بے آب و گیاہ صحرا میں رکھا گیا تھا جس کا ہندوستان کی تہذیب، اس کے دیوتاؤں یا اس کے فلسفوں سے دور دور تک کوئی جغرافیائی، تجارتی یا فکری رابطہ موجود نہیں تھا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی سورہ الحج کی آیت 26 میں کعبہ کی تعمیر اور طواف کے اس الہامی حکم کی تاریخ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ
“وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ”
(اور یاد کرو جب ہم نے ابراہیم کے لیے اس گھر کی جگہ مقرر کر دی کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھنا)۔
اس قرآنی فزکس اور تاریخی حقیقت کی روشنی میں یہ دعویٰ ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے کہ طواف کا عمل کسی دوسرے خطے کے مذہب سے مستعار لیا گیا تھا۔
کعبے کے گرد سات چکر دراصل ہندو مت کے جنموں کی کاپی نہیں ہیں، بلکہ عدد “سات” سامی (Semitic) اور ابراہیمی روایات میں تکمیل، پرفیکشن اور کائناتی فزکس کا ایک الٹیمیٹ سمبل (Symbol) ہے۔
اللہ نے آسمان سات بنائے، زمینیں سات بنائیں، ہفتے کے دن سات ہیں، اور انسانی تخلیق کے مراحل سات ہیں۔
طواف کا یہ عمل دراصل اس کائنات کی اس بنیادی فزکس اور کاسمولوجی (Cosmology) کا عملی اور بائیولوجیکل مظاہرہ ہے جس میں ہر چھوٹی شے ایک بڑے مرکز کے گرد گھوم رہی ہے۔
ذرا اس طواف کی فزکس پر ایک سائنسی زاویے سے غور کیجیے!
آپ کائنات کے مائیکرو کاسم (Microcosm) یعنی ایٹم سے لے کر میکرو کاسم (Macrocosm) یعنی کہکشاؤں تک نظر دوڑائیں، آپ کو ہر جگہ ایک ہی طواف نظر آئے گا۔
جس طرح ایٹم کے اندر الیکٹران اپنے مرکز (نیوکلیس) کے گرد اینٹی کلاک وائز (Anti-clockwise) طواف کرتے ہیں، جس طرح انسانی جسم کے اندر خون دل کے گرد گردش کرتا ہے، جس طرح نظامِ شمسی میں تمام سیارے سورج کے گرد مدار میں گھومتے ہیں، اور جس طرح اربوں کہکشائیں ایک عظیم بلیک ہول کے گرد چکر لگاتی ہیں، بالکل اسی طرح ایک موحد انسان جب کعبہ کے گرد، جو کہ زمین پر توحید کا جیوگرافیکل مرکز ہے، اینٹی کلاک وائز گھومتا ہے تو وہ دراصل اس پوری کائنات کی فزکس کے ساتھ خود کو الائن (Align) کر رہا ہوتا ہے۔
وہ اس بات کا عملی اور کائناتی اعلان کرتا ہے کہ اس کی زندگی کا مرکز، اس کی محبتوں کا محور اور اس کی بندگی کا الٹیمیٹ فوکس صرف اور صرف ایک اللہ کی ذات ہے۔
طواف کو سات جنموں کی اساطیری کہانیوں سے جوڑنا دراصل اس وسیع کائناتی فزکس کو سمجھے بغیر محض اعداد کی بنیاد پر ایک جاہلانہ اور متعصبانہ قیاس آرائی ہے۔
ہندو مت میں سات جنموں کا تصور روح کی ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقلی اور کرما کی سزا و جزا پر مبنی ہے، جبکہ اسلام میں طواف کا عمل بندگی کے اقرار، اللہ کی کبریائی کے اظہار اور اپنی انا کو خالق کے مرکز پر قربان کرنے کا نام ہے۔
ان دونوں نظریات میں زمین اور آسمان، مادہ اور اینٹی میٹر (Antimatter) کا فرق ہے، جسے ملحدین اپنی سطحی سوچ کی وجہ سے خلط ملط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اب ہم اس اعتراض کے دوسرے، سب سے غلیظ، گمراہ کن اور خطرناک حصے کی طرف آتے ہیں جس میں حجرِ اسود (سیاہ پتھر) کی موجودہ ظاہری شکل کو ہندو دیوی کالی ماتا یا شیو لنگ کی یونی (Yoni) سے تشبیہ دے کر اسلام کے پاکیزہ چہرے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ اعتراض ان لوگوں کی ذہنی پستی، پیریڈولیا کے مرض اور تاریخِ اسلام سے ان کے مکمل اندھے پن کا سب سے بڑا، حتمی اور ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔
جو لوگ یہ شرمناک دعویٰ کرتے ہیں، وہ یہ تک نہیں جانتے کہ حجرِ اسود آج جس شکل میں کعبے کی دیوار میں نصب ہے، اور جس چاندی کے خول کے اندر دھنسا ہوا ہے، وہ اس کی اصل، قدرتی یا ابتدائی الہامی شکل قطعی طور پر نہیں ہے۔
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ تعمیر کیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے انہیں یہ پتھر لا کر دیا، تو حجرِ اسود ایک مکمل، ثابت، یکجا اور قدرے بیضوی شکل کا ایک مقدس پتھر تھا جسے محض طواف شروع کرنے کے مقام (Starting Point) کی نشاندہی کے لیے دیوار میں نصب کیا گیا تھا۔
مستند احادیث میں صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ یہ پتھر جنت سے آیا تھا، جسے جدید سائنسی زبان میں ہم ایک خاص الہامی میٹرائٹ (Meteorite) کہہ سکتے ہیں، جو ابتدا میں دودھ اور برف سے زیادہ سفید تھا لیکن بنی آدم کے گناہوں اور شرک کی کثافتوں نے اسے سیاہ کر دیا۔
امام ترمذی نے اپنی جامع میں (کتاب الحج، حدیث نمبر 877) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“نَزَلَ الْحَجَرُ الأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ وَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، فَسَوَّدَتْهُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ”
(حجر اسود جنت سے اترا تو وہ دودھ سے زیادہ سفید تھا، پھر اسے بنی آدم کے گناہوں نے کالا کر دیا)۔
تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج یہ پتھر ایک مخصوص چاندی کے خول کے اندر دھنسا ہوا کیوں نظر آتا ہے، اور یہ ٹکڑوں میں کیوں بٹا ہوا ہے؟
اس کی تاریخ انتہائی دردناک، خونی اور طویل ہے۔
تاریخ کے مستند ترین حوالوں، جن میں امام ابن کثیر کی “البدایہ والنہایہ” اور علامہ طبری کی “تاریخ الطبری” شامل ہیں، کا اگر مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حجرِ اسود کو تاریخ میں کئی بار شدید حادثات، جنگوں اور باطنی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
سب سے پہلے اموی دور میں، سنہ 64 ہجری کے لگ بھگ، جب حجاج بن یوسف کی فوج نے مکہ پر حملہ کیا اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کعبہ کے اندر محصور تھے، تو فوج کی طرف سے پھینکے گئے منجنیق کے بھاری پتھروں اور کعبہ کے غلاف میں آگ لگنے کی وجہ سے کعبہ کی دیواریں منہدم ہوئیں اور حجرِ اسود آگ کی شدت سے گرم ہو کر چٹخ گیا اور اس کے تین بڑے ٹکڑے ہو گئے۔
یہ تاریخ میں پہلی بار تھا کہ یہ پتھر اپنی اصل شکل کھو بیٹھا۔
جنگ کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کعبہ کی تعمیرِ نو کی اور ان بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو ایک ساتھ جوڑ کر رکھنے کے لیے اس کے گرد چاندی کا ایک حلقہ یا فریم (Silver Casing) بنوایا۔
لیکن تاریخ کا سب سے بھیانک اور سیاہ ترین باب اس کے بعد آیا، جب 317 ہجری میں قرامطہ (جو کہ ایک باطنی، گمراہ اور اسلام دشمن گروہ تھا) کے ظالم سردار ابو طاہر القرمطی نے حج کے ایام میں مکہ پر اچانک حملہ کر دیا۔
اس سفاک انسان نے کعبہ کے صحن میں ہزاروں حاجیوں کو بے دردی سے شہید کیا، ان کی لاشوں سے زمزم کے کنویں کو بھر دیا، اور کعبہ کی بے حرمتی کرتے ہوئے حجرِ اسود کو دیوار سے اکھاڑ کر اپنے ساتھ بحرین (احساء) لے گیا۔
یہ مقدس پتھر پورے 22 سال تک ان ظالموں کے قبضے میں رہا، اور جب عباسی خلیفہ کی کوششوں اور بھاری تاوان کے بعد 339 ہجری میں اسے مکہ واپس لایا گیا، تو یہ پتھر مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر کئی درجن چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ چکا تھا، اور اس کا حجم پہلے سے بہت کم رہ گیا تھا۔
عباسی خلفاء اور ان کے بعد آنے والے عثمانی سلاطین، بالخصوص سلطان مراد رابع کے دور میں، ان مقدس اور بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو محفوظ رکھنے، انہیں مزید بکھرنے سے بچانے اور حاجیوں کے بوسہ دینے میں آسانی پیدا کرنے کے لیے خالص چاندی اور بعد ازاں سونے کا ایک خاص بیضوی خول بنوایا گیا جس کے درمیان میں ایک سوراخ رکھا گیا، جس کے اندر موم اور مشک کا لیپ کر کے حجرِ اسود کے وہ چند باقی ماندہ چھوٹے ٹکڑے چپکا دیے گئے جو آج ہمیں نظر آتے ہیں۔
آج وہ چاندی کا فریم جس کی شکل کو دیکھ کر یہ بیمار اور غلیظ ذہنیت کے لوگ کالی ماتا یا یونی کا استعارہ گھڑتے ہیں، وہ فریم نہ تو اسلام کا بنیادی حصہ ہے، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں موجود تھا، اور نہ ہی اس کی وہ شکل کسی الہامی یا مذہبی ڈیزائن کے تحت بنائی گئی ہے۔
وہ تو محض ایک حفاظتی خول ہے جو صدیوں بعد مختلف کاریگروں نے پتھر کے ٹکڑوں کو سنبھالنے کے لیے فزکس اور جیومیٹری کی مجبوری کے تحت ایک بیضوی فریم میں ڈھالا تاکہ وہ دیوار کے کونے میں فٹ آ سکے۔
ایک قرونِ وسطیٰ کے حفاظتی چاندی کے خول کو دیکھ کر اسے قدیم ہندو دیومالا کے ساتھ جوڑنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص آج کی جدید کرسی کو دیکھ کر یہ دعویٰ کر دے کہ یہ قدیم مصری فراعنہ کے تخت کی ہوبہو کاپی ہے اور اس پر بیٹھنا شرک ہے۔
یہ محض بصری مغالطہ، پیریڈولیا اور تاریخی جہالت کی بدترین شکل ہے، اس کا حقیقت، تاریخ یا علم سے کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ ملحدین اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اسلام میں علامتوں کی کوئی الہیاتی حیثیت نہیں ہوتی، اصل چیز وہ نیت اور وہ الہامی فریم ورک ہے جس کے تحت کوئی عمل انجام دیا جاتا ہے۔
یہاں یہ سوال بھی پوری شدت سے ابھرتا ہے کہ آخر اسلام میں حجرِ اسود کی حیثیت کیا ہے؟
کیا ہم مسلمان اسے کوئی دیوتا مان کر اس کی پوجا کرتے ہیں؟
کیا ہم اس سے اولاد، رزق یا مرادیں مانگتے ہیں؟
کیا ہم اسے شیو لنگ کی طرح کائنات کی تخلیق کا منبع سمجھتے ہیں؟
اس کا جواب ایک کائناتی اور الٹیمیٹ “نہیں” ہے۔
اسلام نے توحید کے معاملے میں اس قدر حساسیت، اس قدر گہرائی اور الٹیمیٹ کلیئرنس رکھی ہے کہ کعبہ، جو زمین پر اللہ کا گھر ہے، ہم اس گھر کی بھی عبادت نہیں کرتے، بلکہ ہم صرف اور صرف اس گھر کے رب کی عبادت کرتے ہیں۔
حجرِ اسود کو چومنا محض ایک سنت ہے، کوئی فرض، کوئی واجب یا عقیدہِ الوہیت ہرگز نہیں، اور اس کا واحد، الٹیمیٹ مقصد اس مقام کی نشاندہی کرنا، طواف کا کاؤنٹر (Counter) شروع کرنا، اور اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار کرنا ہے۔
اس توحیدی فزکس اور پتھر کی اصل حیثیت کو تاریخ کے سب سے بڑے، جلیل القدر اور عظیم الشان خلیفہ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ہمیشہ کے لیے ایک ایسے شاندار، دو ٹوک اور تاریخی جملے میں مقفل (Lock) کر دیا ہے جس کا جواب آج تک چودہ سو سال کی تاریخ میں کوئی ملحد، کوئی مستشرق اور کوئی عقلیت پسند نہیں دے سکا۔
صحیح بخاری (کتاب الحج، باب مَا ذُكِرَ فِي الْحَجَرِ الأَسْوَدِ، حدیث نمبر 1597) میں مستند ترین سند کے ساتھ مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حجرِ اسود کے پاس آئے، اسے چوما اور پوری امت کو سناتے ہوئے ایک گرجدار اور الہامی آواز میں فرمایا:
“إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لاَ تَضُرُّ وَلاَ تَنْفَعُ، وَلَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ”
(میں خوب جانتا ہوں کہ تو محض ایک پتھر ہے، تو نہ کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ کسی کو کوئی نفع دے سکتا ہے۔ اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا، تو میں تجھے کبھی نہ چومتا)۔
ذرا اس جملے کی کائناتی طاقت، اس کے جلال اور اس کے اندر چھپے ہوئے توحید کے خالص شعور کو محسوس کیجیے!
اگر حجرِ اسود نعوذ باللہ کوئی دیوتا ہوتا، کوئی شیو لنگ ہوتا، یا مسلمانوں کے لیے اس میں کوئی باطنی خدائی طاقت پوشیدہ ہوتی، تو کیا خلیفہِ وقت کعبہ کے صحن میں، ہزاروں مسلمانوں کے سامنے کھڑے ہو کر اس پتھر کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہتا کہ تو کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور تیری اپنی کوئی حیثیت نہیں؟
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ ایک جملہ ان تمام مستشرقین اور ملحدین کے منہ پر تاریخ کا وہ سب سے بڑا طمانچہ ہے جو حجرِ اسود کے بوسے کو بت پرستی سے جوڑنے کی ناپاک جسارت کرتے ہیں۔
ہم اسے صرف اس لیے چومتے ہیں کہ ہمارے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہونٹ اس پر لگے تھے، یہ عشقِ رسول کی معراج ہے، کسی مادی پتھر کی پوجا قطعی طور پر نہیں۔
اسلام کی فقہ اس حد تک واضح ہے کہ اگر ہجوم کی وجہ سے پتھر تک رسائی نہ ہو، تو شریعت دور سے محض ہاتھ کے اشارے (استلام) کو بھی طواف کی تکمیل کے لیے کافی سمجھتی ہے، جو اس بات کا حتمی ثبوت ہے کہ اصل چیز طواف کا عمل اور دل کا سرنڈر ہے، پتھر کا مادی لمس یا اس کی ظاہری شکل نہیں۔
مزید برآں، یہ اعتراض کہ اسلام نے قبل از اسلام مکہ کے مشرکین کے رسوم و رواج کو کاپی کیا، ایک اور کگنیٹو مغالطہ ہے۔
ملحدین یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ چونکہ کعبہ کے اندر زمانہِ جاہلیت میں بت رکھے ہوئے تھے اور قریش بھی وہاں طواف کرتے تھے، اس لیے اسلام نے انہی کے مذہب کو نیا رنگ دے دیا ہے۔
اس بیانیے کا الہیاتی پوسٹ مارٹم کریں تو سچائی یہ ہے کہ اسلام نے کسی مشرکانہ رسم کو کاپی نہیں کیا، بلکہ درحقیقت یہ مکہ کے مشرکین اور قریش تھے جنہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ان الہامی اور خالص توحیدی مناسک کو صدیوں کے سفر میں کرپٹ (Corrupt) کر کے ان میں شرک کی آمیزش کر دی تھی۔
عمرو بن لحی وہ پہلا شخص تھا جو شام سے ہبل نامی بت مکہ لے کر آیا اور اسے کعبہ میں رکھ دیا۔ اس کے بعد ہر قبیلے نے اپنا بت لا کر کعبہ میں سجا لیا، یہاں تک کہ ان کی تعداد 360 تک پہنچ گئی۔
طواف کا وہ عمل جو ابراہیمی دور میں خالص اللہ کی یاد کے لیے تھا، قریش نے اسے اس حد تک مسخ کر دیا کہ وہ کعبہ کے گرد تالیاں پیٹتے، سیٹیاں بجاتے اور بعض اوقات برہنہ ہو کر طواف کرتے تھے۔
قرآن مجید نے سورہ الانفال کی آیت 35 میں ان کی اس جاہلانہ عبادت کا نقشہ یوں کھینچا ہے:
“وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِندَ الْبَيْتِ إِلَّا مُكَاءً وَتَصْدِيَةً”
(اور ان کی نماز اس گھر کے پاس سیٹیاں بجانے اور تالیاں پیٹنے کے سوا کچھ نہ تھی)۔
کعبہ کی تاریخ کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب آخری نبی، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے 8 ہجری میں مکہ فتح کیا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے تو اس کے اندر اور چھت پر 360 بت رکھے ہوئے تھے جنہیں مشرکین نے اپنا خدا بنا رکھا تھا۔
اگر کعبہ درحقیقت کسی پرانے ہندو مندر کی کاپی ہوتا، یا اس کا تعلق کسی کالی ماتا، شیو لنگ یا کسی دوسرے دیوتا سے ہوتا جیسا کہ آج کے ملحدین دعویٰ کرتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا ضرورت تھی کہ وہ ان تمام بتوں کو، ان تمام مجسموں کو اپنی چھڑی کے اشارے سے توڑتے، انہیں کعبہ سے باہر نکال پھینکتے اور ساتھ ساتھ یہ الہامی قرآنی آیت تلاوت کرتے:
“وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا”
(اور کہہ دیجیے کہ حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بیشک باطل تو مٹنے ہی والا تھا – سورہ الاسراء، آیت 81)۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کو ان تمام دیومالائی، مشرکانہ اور بت پرستی کی غلاظتوں سے پاک کر کے اسے واپس حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خالص توحید کے اسی مرکز پر لا کھڑا کیا جس کے لیے وہ اصل میں تعمیر ہوا تھا۔
آپ نے برہنہ طواف پر پابندی لگا دی، تالیوں اور سیٹیوں کی جگہ تلبیہ (لبیک اللھم لبیک) نے لے لی، اور کعبہ کے اندر موجود تمام تصاویر کو مٹا دیا گیا۔
اسلام نے دراصل ان عبادات کو اس بت پرستی کی غلاظت سے پاک کر کے انہیں ‘بحال’ (Restore) کیا ہے، جسے یہ جاہل ملحدین کاپی کرنا کہتے ہیں۔
یہ وہ حتمی اور الٹیمیٹ سچائی ہے جس کا سامنا کرنے کا انٹلیکچوئل اور اعصابی سٹیمنا آج کے ملحدین کے پاس موجود نہیں ہے۔
وہ تاریخ کی مستند کتابیں پڑھنے، آرکیالوجی کی سائنس کو سمجھنے اور الہیاتی فزکس پر غور کرنے کے بجائے، چند سستی، جعلی اور سیاق و سباق سے کٹی ہوئی تصاویر یا چاندی کے فریموں کی شکلوں پر اپنی گمراہ کن تھیوریز کھڑی کرتے ہیں۔
حق یہ ہے کہ کعبہ اس کائنات کا وہ الہامی قلب ہے جس کی بنیاد خالص بندگی اور توحید پر رکھی گئی ہے، اور حجرِ اسود محض ایک تاریخی اور جنت کا نشان ہے جس کی حیثیت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق ایک پتھر سے زیادہ کچھ نہیں۔
جب تک ایک انسان اپنے دماغ کو ان شیطانی وسوسوں، کگنیٹو بائس اور بصری مغالطوں سے آزاد کر کے، کھلے ذہن کے ساتھ تاریخ کے ان مستند حوالوں اور الہامی شعور کا مطالعہ نہیں کرے گا، وہ اس مادی دنیا کے اندھیروں میں کالی ماتا اور دیوتاؤں کے بے بنیاد استعارے ہی تراشتا رہے گا۔
اسلام وہ واحد، الٹیمیٹ اور آخری الہامی دین ہے جس نے انسان کو ہر قسم کے پتھر، بت، سورج، چاند، درخت اور انسان کی پوجا سے نکال کر، سیدھا اس ایک کائنات کے ماسٹر مائنڈ کے سامنے سجدہ ریز کر دیا ہے جس کی کوئی ظاہری شکل، کوئی جسم، کوئی جہت اور کوئی مادی تمثیل موجود نہیں ہے
(“لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ”)۔
یہی وہ خالص توحید ہے جس پر یہ کائنات کھڑی ہے، اور جس کے دفاع کے لیے، الحاد کے ان فکری مغالطوں کا پردہ چاک کرنے کے لیے، یہ قلم ہمیشہ حقائق، دلائل اور الہامی فزکس کی تلوار لیے کھڑا رہے گا، تاکہ حق اور باطل کی اس جنگ میں کوئی نیا ذہن ان کے بچھائے ہوئے فکری جال کا شکار نہ ہو سکے۔
کعبہ کل بھی توحید کا مرکز تھا، آج بھی ہے، اور قیامت تک اس کائنات کی بندگی کا الٹیمیٹ مرکز رہے گا۔
#سنجیدہ_بات
#آزادیات
#بلال #شوکت #آزاد
![]()

