Daily Roshni News

♣️ہم اب ایک دوسرے کو برداشت کیوں نہیں کر پاتے؟♣️

♣️جدید انسان کی تھکن: ہم ایک دوسرے کے قریب ہو کر بھی اتنے دور کیوں ہو گئے؟♣️

♣️ہم اب ایک دوسرے کو برداشت کیوں نہیں کر پاتے؟♣️

​ایک وقت تھا جب لوگ ایک دوسرے کے قریب بیٹھتے تھے۔ کیفے میں قریب، بسوں میں قریب، اور خاموشی میں بھی ایک دوسرے کے قریب۔

​آج کوئی ہمارے برابر میں پانچ سیکنڈ کے لیے بھی آکر بیٹھ جائے، تو ہمارا اعصابی نظام (Nervous System) یوں ردِعمل دیتا ہے جیسے ہم پر کوئی حملہ ہو گیا ہو۔ قطار میں کھڑا کوئی اجنبی اگر ہمارے بہت زیادہ قریب ہو جائے، تو ہمارے اندر کچھ سکڑنے لگتا ہے۔ کوئی بہت اونچی آواز میں بولے، کھل کر ہنسے، یا ہمارے قریب آ کر سانس بھی لے—تو ہمارے اندر فوراً چڑچڑاہٹ جاگ اٹھتی ہے۔

​تو آخر بدلا کیا ہے؟
کیا لوگ دوسروں کی زندگیوں میں زیادہ مداخلت کرنے لگے ہیں؟
یا ہم خود اندر سے زیادہ نازک اور کمزور ہو گئے ہیں؟

​شاید یہ اب صرف نفسیات کا مسئلہ نہیں رہا۔ یہ عمرانیات (Sociology)، اعصابی سائنس (Neurology)، رویوں کی کنڈیشننگ، اجتماعی صدمے (Collective Trauma) اور شاید انسانی ارتقا کا کھیل ہے۔

♠️​کارل یونگ (Carl Jung): ♠️

نے لکھا تھا کہ جدید دور کا انسان اپنی اندرونی دنیا سے کٹتا جا رہا ہے، اور جو لوگ اپنے اندر سے کٹ جاتے ہیں، وہ بیرونی دنیا کے معاملے میں حد سے زیادہ حساس (Hypersensitive) ہو جاتے ہیں۔ ہمارے اندر جتنا کم سکون ہوگا، باہر موجود انسانوں کے لیے ہمارے دل میں اتنی ہی کم برداشت ہوگی۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج معمولی سا انسانی رابطہ بھی ہمیں نچوڑ کر رکھ دیتا ہے۔

♠️دنیا نے ہمارے اعصابی نظام کو قربت سے ڈرنا سکھایا♠️

​کرونا وبا کے دوران اور اس کے بعد، انسانی دماغ کی کنڈیشننگ (Conditioning) اس انداز میں کی گئی جس کا اندازہ ہم آج بھی نہیں لگا سکتے۔ فاصلہ امان بن گیا، تنہائی ذمہ داری بن گئی، اور دوسروں پر شک کرنا ذہانت کہلایا۔ سالہا سال تک ہمارے جسم نے صرف ایک بات سیکھی: “دوسرا انسان تمہارے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔”

​بیہیویئرل سائیکالوجی میں اسے کنڈیشننگ کہتے ہیں۔ بی ایف اسکنر (B. F. Skinner) نے واضح کیا تھا کہ کس طرح ماحول کے بار بار دہرائے جانے والے پیٹرنز انسان کے خودکار ردِعمل (Reflexes) کو بدل دیتے ہیں۔ دنیا بھر میں یہی ہوا۔ ہم نے صرف عادتیں نہیں بدلیں، ہم نے اپنے اضطراری افعال بدل لیے۔ اب ہمارا اعصابی نظام سوچنے سے پہلے ہی ردِعمل دے دیتا ہے۔ کوئی شخص اگر بہت قریب کھڑا ہو، تو وہ اب نارمل نہیں لگتا، بلکہ وہ ایک حملہ آور محسوس ہوتا ہے۔

♠️معاشرہ بھی بدل گیا♠️

​زیگمونٹ باؤمین (Zygmunt Bauman): نے جدید معاشرے کو “مائع جدیدیت” (Liquid Modernity) کا نام دیا ہے—ایک ایسی دنیا جہاں رشتے، شناخت، شہر، نوکریاں اور یہاں تک کہ جذبات بھی غیر مستحکم اور عارضی ہو چکے ہیں۔ لوگ مسلسل نقل مکانی کر رہے ہیں، برادریاں ٹوٹ رہی ہیں، اور محلے اب اپنے نہیں لگتے۔

​جبکہ انسانی دماغ کی تخلیق مانوسیت (Familiarity)، قبیلے، بار بار دیکھے جانے والے چہروں اور قابلِ پیشن گوئی رویوں کے لیے ہوئی تھی۔ اب ہم روزانہ ایسے اجنبیوں سے گھرے رہتے ہیں جن کی توانائیاں، زندگی کی رفتار، جذباتی اظہار اور سماجی طور طریقے بالکل الگ ہیں۔ دماغ ہر وقت چوکنا رہتا ہے کیونکہ وہ اپنے ماحول کو نفسیاتی طور پر محفوظ تسلیم نہیں کر پاتا۔ یہ کوئی نفرت یا تعصب نہیں ہے، یہ صرف اعصاب پر پڑنے والا بوجھ (Overstimulation) ہے۔

♠️ہم انسانوں سے تھک چکے ہیں♠️

​ایک عجیب تضاد دیکھیے:

​انسان ڈیجیٹل طور پر دنیا سے جتنا زیادہ کنیکٹڈ ہے، نفسیاتی طور پر وہ انسانوں سے اتنا ہی زیادہ تھک چکا ہے۔

​بایونگ چول ہان (Byung-Chul Han): کا کہنا ہے کہ جدید معاشرہ ایک “کارکردگی کا معاشرہ” (Achievement Society) بن چکا ہے جہاں اعصابی نظام کو کبھی آرام ہی نہیں ملتا۔ شور کبھی نہیں تھمتا، نوٹیفیکیشنز کبھی نہیں رکتے، آوازیں اور رائیں پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ دماغ مستقل طور پر اوور لوڈ رہتا ہے۔ اور تھکے ہوئے دماغ برداشت کھو دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بے ضرر سا انسانی رابطہ بھی اچانک بھاری لگنے لگتا ہے۔ لوگ برے نہیں ہوئے، ہمارے اعصاب کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔

♠️کیا ہماری “کشش” (Aura) بدل گئی؟♠️

​شاید پرانی روحانی زبان اسی چیز کو بیان کرنے کی کوشش کر رہی تھی جسے آج نیورو سائنس سمجھا رہی ہے۔ لوگ جسے کبھی “اورا” (Aura) کہتے تھے، آج کے ماہرینِ نفسیات اسے ذاتی حدود (Personal Boundaries)، سنسری پروسیسنگ، اور جذباتی چھوت (Emotional Contagion) کہتے ہیں۔
​فرائڈ کا ماننا تھا کہ انسان لاشعوری طور پر دوسروں کا ذہنی دباؤ خود میں جذب کرتا رہتا ہے۔

🔸️​ولہیم ریش (Wilhelm Reich) نے جسم کے گرد ایک
🔸️ “توانائی کے حصار” (Energetic Armor) کی بات کی تھی۔

​جدید نیورو سائنس دباؤ کے متحرک ہونے والے زونز اور دفاعی نظاموں کی زبان بولتی ہے۔

♣️جدید زندگی کا خاموش تشدد♣️

​شہر اب زیادہ شور والے ہو گئے ہیں، لوگوں کی رفتار تیز ہو چکی ہے اور توجہ کا دورانیہ (Attention Span) ختم ہو چکا ہے۔ ہر کوئی بات کاٹتا ہے، ہر کوئی ریکارڈنگ کر رہا ہے، ہر کوئی پرفارم کر رہا ہے۔ انسانی اعصابی نظام روزانہ ہزاروں مائیکرو سماجی
رابطوں کو پروسیس کرنے کے لیے ڈیزائن ہی نہیں کیا گیا تھا۔

​ارونگ گوفمین (Erving Goffman): نے سمجھایا تھا کہ سماجی زندگی ایک اسٹیج کی طرح ہے جہاں ہمیں پرفارم کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اب یہ پرفارمنس مستقل ہو چکی ہے۔ کوئی بیک اسٹیج نہیں ہے، کوئی خاموشی نہیں ہے، کوئی نفسیاتی فاصلہ نہیں ہے۔ اسی لیے اب چھوٹی سی مداخلت بھی بہت بڑی لگتی ہے۔ کوئی ہمارے برابر میں بیٹھا ہو تو ہمارا تھکا ہوا دماغ اسے صرف بیٹھنا نہیں سمجھتا، بلکہ اسے یوں پروسیس کرتا ہے: “میری بقیہ توانائی پر ایک اور ڈکیتی۔”

​نام بدل گئے، مگر حقیقت شاید ایک ہی ہے۔ ہمارا اورا غائب نہیں ہوا، بلکہ جدید زندگی نے اسے کھینچ کر اتنا باریک اور کمزور کر دیا ہے کہ اب اس میں کسی دوسرے کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رہی۔

♠️یا شاید ہم ارتقا کے عمل میں ہیں♠️

​ارتقا صرف حیاتیاتی نہیں ہوتا، یہ نفسیاتی بھی ہوتا ہے۔ شاید انسانیت اب جذباتی توانائی، تناؤ، ہیرا پھیری، اور پسِ پردہ چلنے والے حسد کے معاملے میں پہلے سے زیادہ حساس ہو رہی ہے۔ ایلین آرون (Elaine Aron) نے حد سے زیادہ حساس لوگوں (Highly Sensitive People) پر ریسرچ کر کے دکھایا کہ کچھ اعصابی نظام محرکات کو دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ گہرائی سے محسوس کرتے ہیں۔ اور آج کا ماحول اس حساسیت کو شدید ترین بنا رہا ہے۔ جو کبھی نارمل لگتا تھا، اب ناقابلِ برداشت لگتا ہے۔

♠️سچائی بہت سادہ ہے♠️

​شاید لوگ برے نہیں ہوئے۔
شاید ہم نے صرف خاموشی کو کھو دیا ہے۔
​اور خاموشی کے بغیر، ہر انسان کی موجودگی شور لگنے لگتی ہے۔ مسئلہ قربت کا نہیں ہے، مسئلہ اندرونی تھکن کا ہے۔ ایک تھکا ہوا اعصابی نظام ہر نزدیکی کو ایک دباؤ کے طور پر محسوس کرتا ہے۔

​یہی وجہ ہے کہ لوگ ہیڈ فونز، موبائل فونز، بند اپارٹمنٹس اور اپنی الگ تھلگ دنیاؤں میں پناہ لے رہے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ انسانیت سے نفرت کرتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ نفسیاتی طور پر ان کے اندر اب انسانوں کے اس قدر ہجوم اور شور کو ہضم (Metabolize) کرنے کی ہمت نہیں رہی۔

​اور شاید اس کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ:
ہم انسانوں سے جتنا زیادہ تھکتے جائیں گے، ہم خود بھی آہستہ آہستہ اتنے ہی کم انسان ہوتے جائیں گے۔

Presented By: Psychoremedy

Loading