Daily Roshni News

پاکستانی ایٹمی قوت معجزہ الٰہی ہے۔۔۔ تحریر۔۔۔ سید علی جیلانی

پاکستانی ایٹمی قوت معجزہ الٰہی ہے

تحریر ۔۔۔سید علی جیلانی

سوئزرلینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ پاکستانی ایٹمی قوت معجزہ الٰہی ہے۔۔۔ تحریر۔۔۔ سید علی جیلانی)قوموں کی زندگی میں بعض لمحات اتنے اھم منفرد اور تاریخی ھوتے ھیں کہ ان لمحوں کی اھمیت اور حثیت کا مقابلہ کئی صدیاں

مل کر نہیں کر سکتی، یہ منفرد وقیمتی لمحات دراصل تاریخ کا وہ حساس موڑ ھوتے ھیں جہاں کوئی قوم اپنے عزت و وقار 1ور غرور و تمکنت یا زلت و رسوائی اور غلامی و محکومی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتی ھے اور بہادر لوگ ایسے تاریخی فیصے کرتے ھیں جو قومی زندگی کی بقاء ، سلامتی واستحکام اور تحفظ کے لئیےلازم وملزوم ھوتے ھیں

مئی 1974ء میں بھارت نے ایٹمی دھماکہ کرکے عالمی،خصوصاً برصغیر کے امن کو سنگین خطرات سے دوچار کردیا۔ اس وقت کے ایک بھارتی وزیر ایل کے ایڈوانی نے پاکستانی قوم کو للکارتے ہوئے کہا۔

کہ بھارت اب ایک ایٹمی قوت ہے اور پاکستانی قوم اب ہمارے سامنے سر جھکا کر چلنا سیکھے، جس سے واضح طور پر پاکستان کو یہ پیغام دیا گیا کہ بھارت نے ایٹم بم اپنے دفاع کے لئے نہیں، بلکہ اسے پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے لئے بنایا ہے۔ ظاہر ہے کہ امن پسند پاکستانی قوم ایٹم بم کی تباہ کاریوں سے بخوبی آشنا تھی،اس کے لئے یہ ایک لمحہء فکریہ تھا اور وہ بار گاہ خدا وندی سے کسی معجزے کی ملتجی تھی۔ پھر معجزہ ہوہی گیا کہ جذبہء حب الوطنی سے سرشار ایک نوجوان نے، جو اس وقت نیدر لینڈ کے ایک سائنسی ادارے سے منسلک تھے، اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کو ایک مراسلہ تحریر کیا کہ مَیں پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں ایک اہم، موثراور نتیجہ خیز کردار ادا کر سکتا ہوں۔ یہ نوجوان محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھے۔ نیدر لینڈ جیسے خوش حال ملک کے سائنسی ادارے سے وابستگی کے باعث وہ زندگی کی تمام تر سہولتوں سے لطف اندوز ہورہے تھے،لیکن انہوں نے وطن عزیز کے تحفظ اور سلامتی کے لئے سب کچھ قربان کردیا اور خود کو دفاع پاکستان کے لئے وقف کر دیا۔ ان کی ان قربانیوں میں ان کی بیگم صاحبہ، جن کا تعلق نیدر لینڈ سے ہے۔

اور ان کی دو صاحبزادیوں نے بھی ان کا بھر پور ساتھ دیا او ر ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ آپ ہماری پرواہ کئے بغیر پاکستان اور پاکستانی قوم کے لئے جو کچھ کررہے ہیں، وہ کہیں بلند ہے۔آپ اپنا کام جاری رکھیں۔پھر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے رات کو رات اور دن کو دن نہیں سمجھا اور شبانہ روز پاکستان کو ایک ایٹمی قوت بنانے میں مصروف ہوگئے۔ اس مرحلے پر اٹامک انرجی کمیشن میں ان کے خلاف کچھ اندرونی سازشیں شروع ہوگئیں، جن کا انہوں نے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ذکر کیا تو انہوں نے ڈاکٹر صاحب کو کہوٹہ میں ایک الگ ادارہ بنانے کو کہا اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اس کا سربراہ مقرر کر دیا۔ا س کے بعد ڈاکٹر صاحب نے سودو زیاں سے بے نیاز ہوکر شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کے خواب اور اس کی تعبیر کو تکمیل تک پہنچانے والے بابائے قوم قائد اعظم محمدعلی جناح ؒ کے پاکستان کو ایک ناقابل تسخیر ایٹمی قوت بنا دیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے1976ء میں ایٹم بم پر کام شروع کیا اور چھ سات سال کے مختصر عرصے میں اسے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا۔ 1982ء میں بم تیار ہوگیا تھا، جس کا کامیاب تجربہ 28مئی 1998ء میں کیا گیا،جس سے نہ صرف پاکستانی قوم، بلکہ افواج پاکستان کا مورال بھی بلند ہوا اور دنیا کے سات ایٹمی ممالک میں پاکستان کا نام بھی شامل ہوگیا اسے ہم ’’یوم تکبیر‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔

اگر22 سال پیچھے جاکر 28 مئی کے دن کو دیکھا جائے تو چاغی میں اس روز موسم صاف اور خوشگوار تھا۔ گراؤنڈ زیرو (ایٹمی دھماکے والی جگہ) سے متعلقہ لوگوں کے سوا تمام افراد کو ہٹالیا گیا تھا۔ 2 بج کر 30 منٹ پر پی اے ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر اشفاق احمد، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جاوید ارشد مرزا اور فرخ نسیم بھی وہاں موجود تھے۔ تین بجے تک ساری کلیئرنس دی جاچکی تھی۔ پوسٹ پر موجود بیس افراد میں سے محمد ارشد کو، جنہوں نے ’’ٹرگرنگ مشین‘‘ ڈیزائن کی تھی، بٹن دبانے کی ذمہ داری دی گئی۔ تین بج کر سولہ منٹ پر محمد ارشد نے جب ’’اللہ اکبر‘‘ کی صدا بلند کرتے ہوئے بٹن دبایا تو وہ گمنامی سے نکل کر ہمیشہ کیلئے تاریخ میں امر ہوگئے۔ بٹن دباتے ہی سارا کام کمپیوٹر نے سنبھال لیا۔ اب ساری نگاہیں دس کلومیٹر دور پہاڑ پر جمی ہوئی تھیں۔ دل سہمے ہوئے لیکن دھڑکنیں رک گئی تھیں۔ بٹن دبانے سے لے کر پہاڑ میں دھماکہ ہونے تک صرف تیس سیکنڈ کا وقفہ تھا لیکن وہ تیس سیکنڈ، باقی ساری زندگی سے طویل تھے۔ یہ بیس سال پر مشتمل سفر کی آخری منزل تھی۔ جونہی پہاڑ سے دھوئیں اور گرد کے بادل اٹھے، آبزرویشن پوسٹ نے بھی جنبش کی۔ پہاڑ کا رنگ تبدیل ہوا اور ٹیم کے ارکان نے اپنی جبینیں، سجدہ شکر بجالاتے ہوئے خاک بوس کردیں۔ اب وہ لمحہ آن پہنچا تھا جب پاکستان، دنیا کی بڑی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرسکتا تھا

Loading