شباب کی باتیں
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
تحریر ۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔ میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے ۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب)ایک انگریزی فلم ائی تھی ون مین آرمی، یہ تو یاد نہیں کہ وہ ہالی وڈ میں بنی تھی یا کسی اور مغربی ملک میں تاہم اسی کی طرز پر ہمارے ہاں ایک کرم فرما کو بھی دیکھا جائے تو معاشرتی مسائل کے خلاف ون مین ارمی جیسا کردار ادا کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے عوام کا تعاون حاصل کرنے کے لیے ایک فلاحی تنظیم بھی بنا رکھی ہے جس کا نام انہوں نے “پختونخوا قومی جرگہ” رکھا ہے اور اس تنظیم کی صورتحال کچھ یوں بنتی چلی گئی کہ بقول ایک شاعر
ہم اکیلے ہی چلے تھے جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
ہمارے اس کرم فرما کا نام ہے خالد ایوب، جو سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ معاشرتی مسائل کے حوالے سے بھی بہت فعال ہیں اور ان کے پرخلوص کردار کو دیکھ کر جس تنظیم کی انہوں نے بنیاد رکھی اس میں ان کے ساتھ چلنے والوں کے جم غفیر کو دیکھ کر اس پر واقعی ایک کارواں کا گمان ہونے لگتا ہے۔ پختون خوا قومی جرگہ کی بنیاد خالد ایوب نے یونیورسٹی روڈ پر اپنے دفتر میں رکھی تھی مگر اب صورتحال یہ ہے کہ اس فلاحی تنظیم کی شاخیں صوبے کے تقریبا ہر بڑے چھوٹے شہروں میں قائم ہو چکی ہیں جو مقامی سطح پر عوامی مسائل کے حل کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔
پختون خوا قومی جرگہ کی نظریں ہر قومی مسئلے پر ہوتی ہیں اور تنظیم کے تحت متعلقہ مقامی یا صوبائی انتظامیہ اور حکومتی اداروں کے سامنے ایسے مسائل لائے جاتے ہیں جن سے عوام کے مفادات وابستہ ہوں اس سلسلے میں واٹس ایپ اور فیس بک پر عید قربان کے حوالے سے جو سب سے بڑا مسئلہ عوام کو درپیش تھا اس پر ایک پوسٹ سوشل میڈیا پر ڈالتے ہوئے خالد ایوب نے جو الفاظ لکھے وہ کچھ یوں تھے
48 گھنٹوں میں جانور کس طرح افغانستان بہ حفاظت پہنچ کر اربوں روپوں کی کمائی کس کے لیے عمل میں آئی؟
اس پوسٹ پر تبصروں اور ان تبصروں پر لائکس کی بھرمار ہوتی چلی گئی, راقم نے بھی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا. ” اپنے لوگوں کے گلے پر مہنگائی کی چھری پیھر کر دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا کس قانون میں آتا ہے؟ اتنی مدت سے تجارت پر لگی پابندی کو راتوں رات اٹھا کر جانوروں کی غیر قانونی نقل و حمل سے گزشتہ تین چار روز میں جانوروں کی قیمتیں آسمان کو چھو گئی اور جانور ناپید ہو گئے تھے۔ کس کس نے کتنی دولت اکٹھی کی کوئی تو بتائے ؟؟؟
ایک اور صاحب محمد ہارون صابر نے یوں تبصرہ کیا۔ “ہم نے کل سارا دن اور عید کی ساری رات خوار ہو کر پشاور کی ساری منڈیاں چھان ماریں، ایک لاکھ پچاس ہزار کا جانور چار لاکھ روپے سے کم میں نہیں مل رہا تھا، رات تین بجے گھر آئے صبح عید کی نماز پڑھنے کے بعد دوبارہ منڈیوں میں سرگرداں ہوئے کافی خوار ہوئے اخر کار ابھی تقریبا دو بجے اللہ اللہ کر کے ایک جانور تین لاکھ روپے میں خریدا جس کی نارمل قیمت ایک لاکھ 40 ہزار سے ایک لاکھ 60 ہزار کے قریب ہوگی یعنی تقریبا دگنی قیمت میں خریدا۔ قیمتوں پر، منڈیوں پر، سوداگروں پر، اہلکاروں پر اور با اثر “ملک و قوم دشمن” لوگوں پر حکومت کی کوئی رٹ نہیں ہے اندھیر نگری اور چوپٹ راج ہے جس کی جو مرضی میں آتا ہے کر گزرتا ہے ۔
ان دونوں تبصروں پر سینکڑوں لوگوں نے پسندیدگی کا ٹھپا لگا کر ان کے ساتھ اتفاق کیا ہے یعنی ہمارے تبصرے پر تادم تحریر 242 افراد جبکہ محمد ہارون صابر صاحب کے تبصرے پر 265 افراد نے مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ ان کے علاوہ کچھ اور تبصروں کو بھی جو اکا دکا سے لے کر ایک پر 102 دوسرے پر 55 اور چند ایک پر 20 اور 30 کے اوپر تصدیق کی مہریں لگی دکھائی دیتی ہیں جن سے عوام الناس کی مشکلات کا اندازہ اسانی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ ایک تبصرہ مخالفت میں بھی آیا جیسے کہ ایک صاحب نے لکھا ہے کہ اگر کسی کے پاس جانوروں کی سمگلنگ کا کوئی ثبوت ہو تو سامنے لے ائے۔
سوال تو اپنی جگہ اہم بھی ہے اور توجہ طلب بھی، مگر اس سوال سے یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ چور ثبوت چھوڑ کر کب جاتا ہے؟ یعنی بقول منیر نیازی
خیال جس کا تھا وہی خیال میں ملا مجھے
سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے
چلیں مان لیتے ہیں کہ جانوروں کی سمگلنگ ہوئی ہی نہیں، تو سوال کا پیدا ہونا کہ اچانک عید سے دو راتیں قبل پشاور کی منڈیوں میں جانوروں کی بہتات کی وجہ سے وہ جو تل دھرنے کو جگہ نہیں مل رہی تھی اچانک اگلی صبح ساری منڈیاں کرکٹ کے میدان میں کیوں تبدیل ہو گئیں؟ اور کرکٹ کے شائقین وکٹ بیٹ اور بال لے کر جاتے تو ون ڈے یا کم از کم ٹوینٹی 20 تو کھیل سکتے تھے اور جو اکا دکا گرںہ مسکین قسم کے لاغر جانور تھے تو ان کی قیمتیں ایک رات پہلے کے ایک لاکھ بیس ہزار کے لگ بھگ ہونے کی نسبت اچانک 4 لاکھ یا اوپر تک کیوں جا پہنچیں؟
باقی کس نے کس کس طرح اس صورتحال سے اپنے ہاتھ رنگے یعنی خود ہمارے ہی ایک شعر کے مطابق
میری ناکامیوں میں کس کس نے
کتنے پہنے نقاب دہرائیں
خالد ایوب نے جو سوال اٹھایا ہے اس کی اہمیت سے انکار اس لیے نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ایک باخبر اور ذمہ دار انسان ہے اگر انہوں نے فیس بک پر لگی ہوئی پوسٹ میں نہایت وضاحت اور صراحت کے ساتھ یہ الفاظ لکھے ہیں کہ 48 گھنٹوں میں جانور کس طرح افغانستان باحفاظت پہنچ کر اربوں روپے کی کمائی کا باعث بنے ؟ تو ان الفاظ کے پیچھے موجود حقائق کا انہیں کسی ذمہ دار ذریعے ہی کی وساطت سے معلوم ہوا ہوگا. اس لیے تو یہ پیغام عوام کے دلوں کو چھو گیا کہ عوام بھی تو اخر ان طریقہ ہائے واردات سے کچھ نہ کچھ باخبر ہی رہتی ہے جو ایک عرصے سے ان کے ساتھ مبینہ وارداتی روا رکھتے ہیں اور ان پر مہنگائی کے پہاڑ توڑتے رہتے ہیں. اس حوالے سے جو لوگ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کے مطالبات اپنی جگہ مگر جب ہر طرف مبینہ عوام دشمن دندناتے پھرتے ہوں اور با اثر و طاقتور بھی ہوں تو بیچارے قسم کے عوام کی فریاد کون سنے گا کہ بقول غالب
بازیچہء اطفال ہے دنیا میرے اگے
ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے اگے
![]()

