Daily Roshni News

امریکا کی قشم اور گورک پر بمباری کے بعد کویت میں ایران کے ڈرونز اور میزائل حملے

امریکی فوج نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے ایک امریکی ایم کیو-1 پریڈیٹر نامی ڈرون مار گرائے جانے کے بعد امریکا نے ایران میں ریڈار اور ڈرون کنٹرول مراکز کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے بھی جوابی کارروائی کی تصدیق کردی ہے۔

اُدھر کویت نے بھی آنے والے ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے کے لیے اپنے فضائی دفاعی نظام کو متحرک کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے تصدیق کی کہ ہفتہ اور اتوار کو ایران کے شہر گورک اور جزیرہ قشم کے اطراف کارروائیاں کی گئیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر آک ایک تازہ بیان میں کہا کہ یہ حملے سوچے سمجھے اور محدود نوعیت کے تھے اور ان کا مقصد ایران کی ان کارروائیوں کا جواب دینا تھا جن میں بین الاقوامی فضائی حدود کے اوپر پرواز کرنے والے امریکی ڈرون کو مار گرایا گیا تھا۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے ایرانی فضائی دفاعی نظام، ایک گراؤنڈ کنٹرول اسٹیشن اور دو یکطرفہ حملہ آور ڈرونز کو تباہ کیا، جنہیں خطے کے سمندری راستوں سے گزرنے والے جہازوں کے لیے واضح خطرہ قرار دیا گیا۔

امریکی فوج نے بتایا کہ ان حملوں میں کوئی امریکی فوجی زخمی نہیں ہوا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اگرچہ امریکی فضائیہ نے ایم کیو – ون پریڈیٹر ڈرون کو اپنی سروس سے مرحلہ وار نکال دیا ہے اور اب ایم کیو نائن ریپر استعمال کرتی ہے، تاہم امریکی فوج اب بھی پریڈیٹر ڈرون استعمال کر رہی ہے۔

دوسری جانب ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے اِرنا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے ایک جزیرے پر واقع ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور کو نشانہ بنایا تھا۔

ایرانی فورسز نے کہا کہ اس کے جواب میں حملہ کیا گیا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حملہ کہاں کیا گیا۔ امریکی اور علاقائی ذرائع کے مطابق اس بیان کا تعلق غالباً کویت کی جانب حملے سے ہے۔

کویت نے پیر کی صبح اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے آنے والے ڈرون اور میزائل حملوں کو روکنے کے لیے فائرنگ کی۔ کویتی حکام نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

یہ تازہ جھڑپیں ایران جنگ میں کئی ہفتوں سے جاری جنگ بندی کی نازک صورتحال کو اجاگر کرتی ہیں۔ اگرچہ امریکی اور ایرانی حکام جنگ بندی میں توسیع کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں، تاہم اس دوران دونوں جانب سے بار بار حملوں کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔

ادھر ایران آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور قدرتی گیس کی تجارت کے لیے ایک انتہائی اہم سمندری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے اور عالمی تجارت ہونے والے تیل اور گیس کا تقریباً پانچواں حصہ اس راستے سے گزرتا رہا ہے۔

Loading