تقدیر کیا ہے؟
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسان کا معاملہ تقدیر کے تحت ہے یا تدبیر کے تحت- اگر تقدیر کے تحت ہے تو اس کا مطلب ہے کہ انسان مجبور ہے- پهر انسان کا امتحان کیوں؟ اور اگر تدبیر کے تحت ہے تو سمجهہ میں نہیں آتا، کیوں کہ بہت سے معاملات میں انسان اپنے آپ کو بے بس پاتا ہے-
جواب
یہ معاملہ پیچیده اس لیے نظر آتا ہے کہ لوگ اس معاملہ میں ثنائی طرز فکر (Dichotomous thinking) کا شکار ہیں- یعنی وه سمجهتے ہیں کہ یا تو سارا معاملہ تقدیر پر مبنی ہے یا سارا معاملہ تدبیر پر- حالانکہ یہ معاملہ ففٹی ففٹی کا ہے- یعنی جزئی طور پر تقدیری اور جزئی طور پر تدبیری- ایسا اس لیے ہے کہ انسان موجوده دنیا میں آزمائش کے لیے رکها گیا ہے اور آزمائش کی مصلحت چاہتی ہے کہ ایسا ہی هو- آدمی جب اپنے آپ کو مجبور محسوس کرے تو وه عاجزانہ طور پر خدا کو پکارے اور جب وه اپنے آپ کو آزاد پائے تو وه خدا کی اس نعمت پر اس کا شکر ادا کرے- قرآن میں خدا کے مطلوب بندوں کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے : یدعون ربهم خوفا و طمعا- (السجده – 16) اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ : الایمان بین الرجاء والخوف- اس سے معلوم هوتا ہے کہ اللہ تعالی کو یہ مطلوب ہے کہ بندے کے اوپر اپنے رب کی نسبت سے دو مختلف قسم کی کیفیات طاری هوں- کبهی خوف کی کیفیت اور کبهی امید کی کیفیت- یہ دو طرفہ کیفیات کسی بنده کے اوپر صرف اسی وقت طاری هو سکتی ہیں جب کہ وه اس دنیا میں خوف کی حالت کا تجربہ کرے اور کبهی امید کی حالت کا- چونکہ حالات کے بغیر کیفیات پیدا نہیں هو سکتیں اس لئے انسان کو بیک وقت جبر اور اختیار کے دو طرفہ نظام کے تحت اس دنیا میں رکها گیا——-
![]()

