Daily Roshni News

حصہ سوم: عہدِ خلافت، فتوحات کا سیلاب اور اسلامی پرچم کی سربلندی

حصہ سوم: عہدِ خلافت، فتوحات کا سیلاب اور اسلامی پرچم کی سربلندی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )باب اول: فاروقِ اعظمؓ کی شہادت، شوریٰ کا قیام اور منصبِ خلافت پر فائز ہونا

۱. سیدنا عمر فاروقؓ کی وصیت اور چھ رکنی کمیٹی:جب ۲۳ ہجری میں ابو لؤلؤ فیروز ملعون نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کیا اور آپ بسترِ علالت پر تشریف لائے، تو امتِ مسلمہ کے مستقبل اور خلافت کے سنگین معاملے کے لیے آپ نے ایک نہایت حکیمانہ راستہ اختیار فرمایا۔ آپ نے خلافت کو کسی ایک فرد کے سپرد کرنے کے بجائے قریش کے ان چھ جلیل القدر صحابہ کرام کی ایک کمیٹی (شوریٰ) تشکیل دی جن سے رسول اللہ ﷺ اپنی وفات کے وقت راضی اور خوش تھے۔ اس کمیٹی میں یہ چمکتے ہوئے ستارے شامل تھے:

* سیدنا عثمان بن عفانؓ

* سیدنا علی بن ابی طالبؓ

* سیدنا عبد الرحمن بن عوفؓ

* سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ

* سیدنا زبیر بن العوامؓ

* سیدنا طلحہ بن عبید اللہؓ

سیدنا عمرؓ نے حکم دیا کہ یہ چھ افراد تین دن کے اندر اپنے اندر سے کسی ایک کو خلیفہ منتخب کریں، اور اس دوران صدارت اور نمازوں کی امامت حضرت صہیب رومیؓ کریں گے۔

۲. حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کی غیر جانبدارانہ مہم:

شورائی کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا تو معاملات تعطل کا شکار ہونے لگے۔ اس نازک موڑ پر حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے ایک بے مثال قربانی دی۔ انہوں نے فرمایا: *”میں خود کو خلافت کی دوڑ سے باہر کرتا ہوں، بشرطیکہ آپ سب مجھے یہ اختیار دیں کہ میں آپ میں سے کسی ایک کا انتخاب کروں۔”* تمام ارکان اس پر راضی ہو گئے۔

اب حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے مدینہ منورہ کی تاریخ کا پہلا اور سب سے بڑا “عوامی ریفرنڈم” شروع کیا۔ انہوں نے تین دن اور تین راتیں آرام نہیں کیا۔ وہ ایک ایک صحابی، انصار و مہاجرین کے گھروں، یہاں تک کہ مدینہ میں آئے ہوئے تجارتی قافلوں کے مسافروں، پردہ نشین خواتین اور نوجوانوں تک گئے اور ان سے رائے لی کہ: *”عمرؓ کے بعد آپ کس کو خلیفہ دیکھنا چاہتے ہیں؟ عثمان کو یا علی کو؟”*

۳. مسجدِ نبوی کا فیصلہ کن اجتماع اور بیعت:

تین دن کی انتھک محنت کے بعد، چوتھے دن کی صبح مسجدِ نبوی میں مدینہ کا ہجوم امنڈ آیا۔ ہر شخص یہ جاننے کے لیے بے تاب تھا کہ امت کا اگلا ناخدا کون ہوگا۔ حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ منبر پر تشریف لائے۔ انہوں نے پہلے سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اپنے قریب بلایا اور ان کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا: *”اے علی! کیا آپ عہد کرتے ہیں کہ آپ اللہ کی کتاب، اس کے رسول ﷺ کی سنت اور شیخین (ابوبکر و عمر) کے نقشِ قدم پر چلیں گے؟”* سیدنا علیؓ نے فرمایا: *”میں اپنی طاقت اور علم کے مطابق کتاب و سنت پر چلوں گا۔”*

پھر انہوں نے سیدنا عثمان غنیؓ کو بلایا اور یہی سوال دہرایا۔ سیدنا عثمانؓ نے پورے عزم اور غیر مبہم الفاظ میں فرمایا: *”جی ہاں! میں اللہ کی کتاب، رسول اللہ ﷺ کی سنت اور ابوبکر و عمر کے طریقے پر مکمل عمل کروں گا۔”*

یہ سنتے ہی حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور بلند آواز سے فرمایا: *”اے اللہ! گواہ رہنا، میں نے اپنی گردن کا بوجھ عثمان کی گردن پر رکھ دیا ہے!”* اور انہوں نے سب سے پہلے سیدنا عثمانؓ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اس کے فوراً بعد سیدنا علی المرتضیٰؓ آگے بڑھے اور انہوں نے عثمان غنیؓ کے ہاتھ پر بیعت کی، جس کے بعد پوری مسجدِ نبوی تکبیر کے نعروں سے گونج اٹھی اور تمام مسلمانوں نے بحیثیت تیسرے خلیفہ آپ کی اطاعت کا حلف اٹھایا۔ یہ محرم الحرام ۲۴ ہجری کا واقعہ تھا۔

باب دوم: سلطنتِ اسلامیہ کی جغرافیائی وسعت اور فتوحات کا سیلاب

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے ابتدائی ۶ سے ۸ سال اسلام کی تاریخ کے سنہری ترین سال کہلاتے ہیں۔ سیدنا عمر فاروقؓ کے دور میں جو فتوحات شروع ہوئی تھیں، سیدنا عثمانؓ کے دور میں وہ اپنے عروج پر پہنچ گئیں۔ آپ کے دور میں اسلامی سلطنت کی حدود تین براعظموں (ایشیا، افریقہ اور یورپ کے کچھ حصوں) تک پھیل گئیں۔

۱. ایران کی مکمل فتح اور یزدگرد کا خاتمہ:

سیدنا عمرؓ کے دور میں ساسانی سلطنت کی کمر ٹوٹ چکی تھی، لیکن آخری ایرانی بادشاہ یزدگرد ابھی زندہ تھا اور وہ بار بار مختلف صوبوں میں بغاوتیں کروا رہا تھا۔ سیدنا عثمانؓ نے اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے قابل جرنیلوں کو روانہ کیا۔

* **خراسان اور سجستان کی فتح:** حضرت عبد اللہ بن عامرؓ کی قیادت میں اسلامی لشکر نے نیشاپور، طوس اور ہرات کو فتح کرتے ہوئے خراسان کے آخری کونے تک اسلام کا پرچم لہرایا۔

* آخری ساسانی بادشاہ یزدگرد مفرور ہو کر مارا گیا اور یوں اس مجوسی سلطنت کا نام و نشان ہمیشہ کے لیے مٹ گیا جس کی پیشگوئی صادق ﷺ نے فرمائی تھی۔

۲. قوقاز (Caucasus) اور وسطی ایشیا کی طرف پیش قدمی:

اسلامی لشکر نے آذربائیجان اور آرمینیا سے آگے بڑھ کر دربند (Derbent) کے راستے بحیرہ خزر (Caspian Sea) کو پار کیا اور پہلی بار ترکستان اور موجودہ روس کے جنوبی علاقوں تک رسائی حاصل کی۔

۳. شمالی افریقہ کی فتوحات (برقہ، طرابلس اور کارتھیج):

مصر کے گورنر حضرت عبد اللہ بن سعد بن ابی سرحؓ کی قیادت میں اسلامی لشکر نے مغرب کی طرف پیش قدمی کی۔

* انہوں نے **طرابلس (Tripoli)** اور موجودہ **تیونس (Tunisia)** کے علاقوں کو فتح کیا۔

* سبیطلو (Sufetula) کے میدان میں ایک عظیم معرکہ ہوا جہاں رومی گورنر جرجیر (Gregory) کی ایک لاکھ سے زائد فوج کو مسلمانوں کے صرف بیس ہزار کے لشکر نے بدترین شکست دی، اور افریقہ کا ایک بہت بڑا حصہ خلافتِ راشدہ کا صوبہ بن گیا۔

باب سوم: تاریخِ اسلام کے پہلے “بحری بیڑے” (Navy) کی تشکیل

۱. امیرِ معاویہؓ کا اصرار اور عثمانی بصیرت:

شام کے گورنر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا عمرؓ کے دور سے ہی یہ محسوس کر رہے تھے کہ جب تک مسلمانوں کے پاس اپنی بحری فوج (Navy) نہیں ہوگی، وہ رومی سلطنت (Byzantine Empire) کے سمندری حملوں سے شام اور مصر کو محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ سیدنا عمرؓ نے سمندری سفر کے خطرات کے پیشِ نظر اس کی اجازت نہیں دی تھی۔

جب سیدنا عثمانؓ کا دور آیا، تو امیر معاویہؓ نے دوبارہ دلائل کے ساتھ درخواست بھیجی۔ سیدنا عثمانؓ نے گہری عسکری بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی اجازت اس شرط پر دی کہ: *”کسی مسلمان کو زبردستی سمندری جہاد پر مجبور نہیں کیا جائے گا، بلکہ جو اپنی مرضی سے جانا چاہے، اسے ہی لے جایا جائے۔”*

۲. بحری تاریخ کا پہلا معرکہ — غزوہ ذات الصواری (Battle of the Masts):

ہجرت کے ۳۱ویں یا ۳۴ویں سال، رومی شہنشاہ قسطنطین ثانی نے مسلمانوں کی بحری طاقت کو کچلنے کے لیے ۵۰۰ سے زائد جنگی بحری جہازوں کا ایک مہیب بیڑا تیار کیا اور بحیرہ روم (Mediterranean Sea) میں اتر آیا۔ دوسری طرف مسلمانوں کا بیڑا تھا جس کی قیادت حضرت عبد اللہ بن ابی سرحؓ کر رہے تھے۔

تاریخِ اسلام کی یہ پہلی اور سب سے بڑی بحری جنگ تھی جسے **”ذات الصواری”** کہا جاتا ہے۔ سمندر کی لہروں پر جہازوں کے آپس میں ٹکرانے کا ایسا ہولناک منظر تاریخ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ مسلمانوں نے جرات اور بہادری کی وہ داستان رقم کی کہ رومیوں کے غرور کو سمندر میں غرق کر دیا۔ رومی شہنشاہ جان بچا کر بھاگ کھڑا ہوا اور بحیرہ روم، جو کبھی “رومی جھیل” کہلاتا تھا، اس پر مسلمانوں کی حکمرانی قائم ہو گئی۔ اسی بحری بیڑے کے ذریعے مسلمانوں نے **قبرص (Cyprus)** کو بھی فتح کیا۔

باب چہارم: “جامع القرآن” — قرآنِ مجید کو ایک رسم الخط پر جمع کرنا

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا امتِ مسلمہ پر سب سے بڑا احسان، جس کی وجہ سے انہیں قیامت تک **”جامع القرآن”** کے معزز لقب سے یاد کیا جاتا رہے گا، قرآنِ مجید کے رسم الخط کی حفاظت ہے۔

۱. اختلافِ قرات کا فتنہ:

جب اسلامی فتوحات دور دراز کے ملکوں تک پھیل گئیں، تو مختلف علاقوں کے نو مسلم عربی اور عجمی لوگ اپنی اپنی مقامی لغات اور لہجوں (قرات) کے مطابق قرآن پڑھنے لگے۔ آرمینیا اور آذربائیجان کے محاذ پر جب شام اور عراق کے لشکر اکٹھے ہوئے، تو جلیل القدر صحابی **حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ** نے دیکھا کہ مسلمان قرات کے معمولی اختلاف پر ایک دوسرے کی تکفیر کر رہے ہیں اور لڑنے پر اتارو ہیں۔

حضرت حذیفہؓ شدید پریشان ہو کر مدینہ پہنچے اور سیدنا عثمانؓ سے عرض کیا:

*”یا امیر المؤمنین! اس امت کی خبر لیجیے، اس سے پہلے کہ یہ بھی یہود و نصاریٰ کی طرح اپنی کتاب میں اختلاف کرنے لگیں!”*

۲. مصحفِ عثمانی کی تیاری اور لغتِ قریش پر اتفاق:

سیدنا عثمان غنیؓ نے فوراً انصار و مہاجرین کے اکابرین کو جمع کیا اور مشاورت کے بعد ایک تاریخی فیصلہ فرمایا۔ آپ نے ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس پیغام بھیج کر وہ اصل نسخہ (مصحفِ صدیقی) منگوایا جو حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے دور میں تیار کیا گیا تھا۔

آپ نے حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ، حضرت سعید بن العاصؓ اور حضرت عبد الرحمن بن الحارثؓ پر مشتمل چار رکنی کمیٹی بنائی اور انہیں حکم دیا:

*”قرآنِ مجید کو قریش کے اصل لہجے اور رسم الخط کے مطابق نقل کرو، کیونکہ قرآن اسی لغت میں نازل ہوا ہے۔”*

۳. نسخوں کی روانگی اور فتنے کا سدِ باب:

اس کمیٹی نے نہایت عرق ریزی سے قرآنِ مجید کے چند مستند نسخے تیار کیے۔ سیدنا عثمانؓ نے ان نسخوں (مصحفِ امام) کو اسلامی قلمرو کے تمام بڑے مراکز (مکہ، کوفہ، بصرہ، شام، بحرین، یمن) میں ایک ایک قاری کے ساتھ روانہ فرمایا، اور حکم دیا کہ اس کے علاوہ اگر کسی کے پاس کوئی ذاتی یا غیر مستند نسخہ ہے تو اسے تلف کر دیا جائے تاکہ امت میں ہمیشہ کے لیے یکسانیت پیدا ہو جائے۔

آج دنیا کے ہر کونے میں، ہر مسلمان کے ہاتھ میں جو قرآن موجود ہے، وہ اسی **رسمِ عثمانی** کے مطابق ہے، جو آپ کے اس عظیم کارنامے کا زندہ معجزہ ہے۔

Loading