آخر ایسا کیا ہوا کہ ،جب پچاس سال میں دنیا بدل گئی!
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل) (یہ ایک مفروضہ ہے ۔ اور تاریخ کا ایک دوسرا رخ جس کا دل کرے پڑھے ۔۔ ورنہ یہ مضمون ضروری بالکل نہیں )
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ انسانی تاریخ میں جب سے “زرعی انقلاب” (Agricultural Revolution) آیا اور انسان نے غاروں سے نکل کر باقاعدہ بستیاں بسانا شروع کیں، تب سے لے کر انیسویں صدی کے آغاز تک—یعنی لگ بھگ دس ہزار سال—انسان ایک ہی مادی رفتار سے جی رہا تھا؟ سفر کے لیے وہی گھوڑے اونٹ تھے، اندھیرے کے لیے وہی مٹی کے چراغ تھے اور پیغام رسانی کے لیے وہی کبوتر یا قاصد تھے۔ انسان صرف اسی چیز کو سچ مانتا تھا جسے وہ چھو سکتا تھا۔
لیکن پھر 1820ء سے 1939ء کے درمیان اچانک کائنات میں ایک ایسا “مابعدالطبیعیاتی ری سیٹ” آیا جس نے پچھلے دس ہزار سال کے مادی جمود کو محض پچاس سال کے اندر ایک ہولناک شعوری دھماکے سے بدل کر رکھ دیا۔ انسان ہزاروں سال پرانی دھیمی رفتار سے نکل کر اچانک جیٹ انجنوں اور راکٹ ایج میں پہنچ گیا۔
اس حیرت انگیز دور میں روشنی اور اندھیرے کی باطنی طاقتوں کے درمیان ایک عجیب جنگ شروع ہوئی۔ ایک طرف مثبت اور سائنسی دماغ متحرک ہوئے تو دوسری طرف شدید ترین منفی اور خبیث ترین شیطانی قوتیں بھی پوری طاقت سے زمین پر اتریں۔
روس کی وادیوں سے ایک جادوئی خاتون میڈم بلاواتسکی نمودار ہوئی، جس نے اپنی باطنی توانائی کو بیدار کر کے ایک کتاب لکھی: “دی سیکرٹ ڈاکٹرائن”۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ٹھوس مادہ کچھ بھی نہیں، بلکہ یہ صرف جمود کا شکار انرجی (Energy) ہے اور پوری کائنات کے پیچھے ایک ہی عالمگیر شعور کام کر رہا ہے۔
بلاواتسکی کا یہ جادو اس دور کے عظیم ترین سائنسدانوں کے سر چڑھ کر بولا۔ دنیا کے ہوش تب اڑے جب یہ معلوم ہوا کہ البرٹ آئن سٹائن کی میز پر ہمیشہ یہ کتاب موجود رہتی تھی، جس سے اثر لے کر انہوں نے مادی فزکس کا بت توڑا اور E= mc ² کا فارمولا پیش کیا۔ یہاں تک کہ بلب بنانے والا ایڈیسن اس کی سوسائٹی کا ممبر تھا اور بجلی کا جینیئس نکولا ٹیسلا بھی اسی فریکوئنسی اور وائبریشن کی زبان بول رہا تھا۔
جب سائنسدانوں نے ایٹم کو توڑا تو کوانٹم فزکس سامنے آئی۔ اس فزکس نے ثابت کیا کہ کائنات کے ذرات اربوں نوری سال دور ہو کر بھی آپس میں جڑے ہیں (کوانٹم اینٹینٹگلمنٹ) اور کائنات کا وجود مادی نہیں بلکہ شعور کا مرہونِ منت ہے۔ یہ بالکل وہی بات تھی جو صوفیا صدیوں سے “وحدت الوجود” کے نام سے کہہ رہے تھے۔
لیکن اسی ٹائم فریم میں لوسیفر (شیطانی قوتوں) نے ایک ہولناک فریب کا تانا بانا بنا۔ لوسیفر کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ خود کو “روشنی کا خدا” بنا کر پیش کرتا ہے اور شر کو اعلیٰ حکمت، باطنی علم اور جدید روحانیت کا خوبصورت لبادہ پہنا دیتا ہے۔
اسی دور میں روس کے دربار میں گرگوری راسپوٹین ابھرا، جو مائنڈ کنٹرول کا ایسا تاریک شاہکار تھا جس کی آنکھیں لوگوں کے دماغ مفلوج کر دیتی تھیں، جو آگے چل کر جدید دور کی نفسیاتی جنگ (Psychological Warfare) کی بنیاد بنا۔
برطانیہ سے دنیا کا خبیث ترین انسان الیسٹر کراؤلی ابھرا، جس نے مصر اور بابل کے قدیم سیاہ جادو کو زندہ کیا۔ اس کی تاریک انرجی کا کرنٹ یہ تھا کہ جدید راکٹ سائنس کا بانی اور ناسا کی جے پی ایل (JPL) لیبارٹری بنانے والا جیک پارسنز، کراؤلی کا پکا مرید تھا اور راکٹ کے کامیاب تجربات سے پہلے شیطانی چّلے کاٹتا تھا۔
فرانس سے ایلفاس لیوی نے جنم لیا جس نے پہلی بار “باپھومیٹ” (شیطانی بکرے) کی وہ ہولناک تصویر بنائی جو آج پوری دنیا میں شیطانیت کا نشان ہے۔ اس نے قدیم علوم کو مسخ کر کے ایک ایسی تاریک سائنس بنائی جس نے دنیا کے بڑے بڑے حکمرانوں اور سائنسدانوں کو پردے کے پیچھے چلنے والی خفیہ سوسائٹیز کا اسیر بنا دیا۔
اس ڈارک انرجی کا سب سے بھیانک روپ جرمنی میں ایڈولف ہٹلر اور اس کی خفیہ “تھول سوسائٹی” کی شکل میں ابھرا، جہاں ہٹلر کے پیچھے کام کرنے والے جادوگروں نے سائنسدانوں سے وہ V-2 راکٹ بنوائے جو آج کی جدید خلائی سائنس اور بیلسٹک میزائلوں کے جدِ امجد بنے۔ یعنی جدید ترین سائنس کی جڑیں اس تاریک شیطانی گود میں پروان چڑھیں۔
اصل میں یہ لوسیفر (شیطانی قوتوں) کا ایک بہت بڑا “کاؤنٹر ری سیٹ” تھا۔ جب کائنات کی طرف سے انسان کو ایک نئے شعوری دور میں لانے کا وقت آیا، تو شیطان نے اس میں ڈارک انرجی اور اینٹی میٹر کا ایسا مخفی انجکشن لگا دیا جس نے سائنسدانوں کو تو لیبارٹری میں بٹھایا لیکن ان کے ڈور کے سرے ان تاریک جادوگروں کے ہاتھ میں دے دیے۔
اصل الٰہی روحانیت وہ تھی جو انسان کو اپنے نفس کی اصلاح، عاجزی اور خالقِ کائنات کے آگے سر تسلیم خم کرنے کا درس دیتی تھی۔ لوسیفر کی مصنوعی روحانیت نے انسان کو پٹی پڑھا دی کہ “تم خود خدا ہو، اپنے دماغ کی فریکوئنسی بدلو اور مادی تسخیر حاصل کرو”۔
نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اصل الٰہی روحانیت جو دل کو پاک کرتی تھی، اسے “دقیانوسی” کہہ کر پیچھے دھکیل دیا گیا اور اس کی جگہ یوگا، مائنڈ کنٹرول اور نیو ایج روحانیت لا کر کھڑی کر دی گئی، جو مادی خواہشات کے پیچھے اندھا دھند بھاگنے کا ایک ٹول ہے۔ پچھلے 30 سے 50 سالوں کی دنیا کے بڑے دماغ، چاہے وہ اسٹار وارز کا جارج لوکاس ہو، آئی فون بنانے والا سٹیو جابز ہو یا نوبل انعام یافتہ روجر پینروز، سب اسی لوسیفرین مائنڈ سیٹ کے زیرِ اثر کام کر رہے ہیں۔
مگر یاد رکھیے، یہ کھیل نیا نہیں ہے۔ قدیم دور میں بالکل یہی جدید ترین مادی ترقی اور ٹیکنالوجی فرعون، نمرود اور عاد و ثمود کو بھی دی گئی تھی۔ اس دور کی اشرافیہ اور مقتدر طبقہ بھی انہی شیطانی طاقتوں کے چنگل میں پھنس کر خود کو ترقی اور نظام کا خدا سمجھ بیٹھا تھا، جس کے خمار میں انہوں نے “دعویٰ خدائی” کر ڈالا۔
آج کی تمام تر سائنسی حیرت کاریاں، کائنات کو مسخر کرنے کے ہولناک سائنسی دعوے اور اس کے پیچھے چھپی عالمی طاقتوں کی فرعونیت دراصل اسی پرانے دعویٰ خدائی کا جدید ترین تسلسل ہے۔ یہ کائناتی ری سیٹ اور علمِ تسخیر دراصل کسی ایک انسان کی کامیابی نہیں، بلکہ لوسیفر کا وہ آخری مادی اور جادوئی جال ہے، جس کی مکمل مادی شکل بہت جلد اس دنیا کے سامنے “دجال” کی صورت میں ظاہر ہونے والی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ زرعی انقلاب کے بعد دس ہزار سال تک گھوڑوں پر سفر کرنے والا انسان پچاس سال میں چاند پر تو پہنچ گیا، جیٹ انجن میں تو بیٹھ گیا، لیکن اس حیرت انگیز چاشنی کے ساتھ ایک خوفناک تنہائی اور اندھیرا بھی اس کا مقدر بن گیا۔ آج کا انسان مادی طور پر جتنا طاقتور ہے، باطنی طور پر اتنا ہی کھوکھلا اور ڈارک انرجی کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے، کیونکہ اس لوسیفرین جادوئی اور مادی چمک دمک کے خوبصورت فریب کے پیچھے اصل الٰہی نور کو بڑی خوبصورتی سے چھپا دیا گیا ہے۔
اان چیزوں کو گوگل بھی کرسکتے ہیں
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
![]()

