فلکیاتی یاد گار
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )آج سے تقریباً 3,600 سال پہلے ایک نامعلوم کاریگر نے کانسی کی ایک گول تختی پر سونے کے چند نشانات بنائے۔ شاید اُس وقت اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ ہزاروں سال بعد یہی تختی دنیا کی قدیم ترین فلکیاتی یادگاروں میں شمار کی جائے گی۔
یہ نایاب نوادرات “نیبرا اسکائی ڈسک” (Nebra Sky Disk) کے نام سے مشہور ہے، جسے جرمنی میں 1999ء میں دریافت کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ تقریباً 1600 قبل مسیح کی تخلیق ہے اور اسے دنیا میں رات کے آسمان کی سب سے قدیم معلوم تصویری نمائندگیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
اس گول کانسی کی تختی پر سونے سے سورج یا مکمل چاند، ہلالی چاند اور ستاروں کی شکلیں بنائی گئی ہیں۔ ان ستاروں میں ایک چھوٹا سا جھرمٹ بھی نمایاں ہے جسے بیشتر ماہرین پلئیڈیز (Pleiades) یا “ثریا” ستاروں کا مجموعہ قرار دیتے ہیں، جسے آج بھی دنیا کے مختلف حصوں میں آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نوادرات کسی باقاعدہ آثارِ قدیمہ کی کھدائی میں نہیں ملے تھے بلکہ دو افراد نے میٹل ڈیٹیکٹر کے ذریعے اسے غیر قانونی طور پر دریافت کیا تھا۔ بعد میں جرمن حکام نے ایک خفیہ کارروائی کے دوران اسے برآمد کیا اور یوں یہ قیمتی تاریخی خزانہ محفوظ ہو سکا۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ صرف ایک آرائشی چیز نہیں تھی۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ قدیم لوگ اسے موسموں، سورج کی حرکت اور زرعی اوقات کے تعین کے لیے استعمال کرتے تھے۔ تختی کے کناروں پر بعد میں شامل کیے گئے سنہری محراب نما نشانات سورج کے طلوع و غروب کے مخصوص زاویوں کی طرف اشارہ کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُس زمانے کے لوگ فلکیات کے بارے میں ہماری توقع سے کہیں زیادہ علم رکھتے تھے۔
نیبرا اسکائی ڈسک نے ماہرین کو یہ سمجھنے میں بھی مدد دی کہ کانسی کے دور کی یورپی تہذیبیں آسمان کا مشاہدہ کس حد تک کرتی تھیں اور فلکیاتی علم کو اپنی روزمرہ زندگی سے کس طرح جوڑتی تھیں۔
آج یہ تاریخی نوادرات جرمنی کے شہر ہالے (Halle) کے میوزیم میں محفوظ ہے اور اسے یونیسکو کی “Memory of the World” فہرست میں بھی شامل کیا جا چکا ہے۔
ہزاروں سال پہلے بنائی گئی یہ تختی اس چیز کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسان نے زمین پر رہتے ہوئے ہمیشہ آسمان کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ دوربینوں، سیٹلائٹس اور خلائی جہازوں سے بہت پہلے بھی لوگ ستاروں کو دیکھتے تھے، ان کے راز سمجھنے کی کوشش کرتے تھے، اور اپنے علم کو آنے والی نسلوں کے لیے کسی نہ کسی شکل میں محفوظ کر جاتے تھے۔
پوسٹ اچھی لگے تو آگے تک ضرور پہنچائیے۔
دعا کا طالب
محمد عظیم حیات
لندن
حوالہ جات:
UNESCO Memory of the World Register
State Museum of Prehistory, Halle (Germany)
German Archaeological Institute
#funpaaray #Amazing #science #history
![]()

