حکومت کی جانب سے نئے مالیاتی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو انکم ٹیکس میں ایک بڑا ریلیف دینے کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، ماہانہ ایک لاکھ، دو لاکھ اور تین لاکھ روپے تنخواہ لینے والے ملازمین کے لیے ٹیکس میں چھوٹ کی باقاعدہ ورکنگ مکمل کر لی گئی ہے۔
اس نئی مجوزہ پالیسی کے تحت تنخواہ دار افراد کے لیے موجودہ ٹیکس سلیبز کی تعداد چھ سے بڑھا کر آٹھ کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کا مقصد مختلف آمدنی والے گروہوں کو ان کی بساط کے مطابق ریلیف فراہم کرنا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سالانہ 12 لاکھ، 22 لاکھ اور 32 لاکھ روپے کمانے والے افراد کے لیے ٹیکس کی موجودہ شرح میں نمایاں کمی کی تجویز ہے۔
حکومت نے اس سلسلے میں عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کو تین، پانچ اور دس فیصد تک ٹیکس ریلیف دینے کی مختلف تجاویز ارسال کی ہیں۔
اس کے علاوہ، ایسے کاروباری افراد یا ملازمین جن کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ روپے یا اس سے زائد ہے، ان پر عائد 10 فیصد اضافی سرچارج کو بھی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ 35 فیصد کے سب سے بڑے انکم ٹیکس کی شرح میں کمی لانے کے لیے بھی ہوم ورک مکمل کر لیا گیا ہے۔
ماہرین اور سرکاری ذرائع کا اندازہ ہے کہ اگر ان تجاویز پر عمل درآمد ہوتا ہے تو ماہانہ دو سے تین لاکھ روپے تنخواہ لینے والے ملک کے تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ افراد کو براہِ راست مالی فائدہ پہنچے گا۔
تنخواہ دار طبقے کے ساتھ ساتھ ملکی برآمدات کو بڑھانے کے لیے ایکسپورٹرز پر عائد ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس کو بھی ختم کرنے کی تجویز بجٹ کا حصہ بنائی گئی ہے۔
تاہم، ان تمام ٹیکس ریلیف تجاویز کا مستقبل بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی توثیق سے جڑا ہوا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو ان تجاویز پر آئی ایم ایف کی حتمی منظوری کا انتظار ہے اور اس حوالے سے آئی ایم ایف کا باقاعدہ جواب آج ہی موصول ہونے کا قوی امکان ہے، جس کے بعد ان فیصلوں کو بجٹ دستاویزات میں حتمی طور پر شامل کر لیا جائے گا۔
![]()
