Daily Roshni News

خون، خلافت اور حقیقت: تاریخِ امت کا شعوری اور ارتقائی سفر!۔۔۔ تحریر۔۔۔بلال شوکت آزاد

خون، خلافت اور حقیقت: تاریخِ امت کا شعوری اور ارتقائی سفر!

تحریر۔۔۔بلال شوکت آزاد

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ خون، خلافت اور حقیقت: تاریخِ امت کا شعوری اور ارتقائی سفر!۔۔۔ تحریر۔۔۔بلال شوکت آزاد )خون، خلافت اور حقیقت: تاریخِ امت کا شعوری اور ارتقائی سفر! (قسط 7: خلافتِ علیؓ کا آغاز، بیعت کا کٹھن مرحلہ اور قصاصِ عثمان کا پیچیدہ مسئلہ) – بلال شوکت آزاد

مدینہ منورہ کی گلیوں اور چوراہوں پر طاری وہ مہیب اور دم گھٹاتا ہوا سکوت جو اٹھارہ ذی الحجہ سن پینتیس ہجری کو خلیفہِ مظلوم سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خونِ ناحق کے بعد پوری بستی پر مسلط ہو چکا تھا، محض ایک بستی کا عارضی سوگ نہیں تھا بلکہ وہ اس اسلامی ریاست کے پورے ادارہ جاتی نظام اور آئینی مرکزیت کے لیے ایک گہرا وجودی بحران تھا۔

جب کسی نظریاتی ریاست کا سپریم کمانڈر اور روحانی سربراہ دارالخلافہ کے مرکز میں، اپنے ہی شہریوں اور بیرونی صوبوں سے آئے ہوئے مسلح بلوائیوں کے ہاتھوں اپنے ہی حجرے میں بے دردی سے شہید کر دیا جائے، تو اس کے بعد پیدا ہونے والا پولیٹیکل ویکیوم کسی بھی معاشرے کی کلیکٹو انٹیلی جنس اور سیاسی عمرانیات کا سب سے کڑا امتحان بن جاتا ہے۔

مدینہ اس وقت کسی باقاعدہ یا منظم ریاستی فورس کے کنٹرول میں نہیں تھا، بلکہ مصر، کوفہ اور بصرہ سے آئے ہوئے ہزاروں سرکش شورش پسند اور سبائی کارندے شہر کے چوک چوراہوں پر ننگی تلواریں لیے گشت کر رہے تھے، اور خوف و ہراس کی اس فضا میں ہر ذی روح یہ سوچنے پر مجبور تھا کہ اب اس بکھرتے ہوئے شیرازے کو دوبارہ ایک مرکز پر کون جمع کرے گا؟

تاریخ کے اس انتہائی حساس، نازک اور خونچکاں چوراہے پر، جہاں سے امتِ مسلمہ کا ایک بالکل نیا، انوکھا اور کٹھن ترین ارتقائی سفر شروع ہونا تھا، ہمیں کسی بھی واقعے کا تجزیہ کرنے اور اس کی جڑوں تک پہنچنے سے پہلے اپنے علمی، تحقیقی اور تاریخی طریقہ کار کی تصحیح کرنا ہوگی، کیونکہ یہیں سے وہ فکری لغزشیں اور مصلحت پسندانہ نظریات جنم لیتے ہیں جنہوں نے امت کو صدیوں سے مسلکی عصبیتوں اور جھوٹے بیانیوں کے اندھیروں میں دھکیل رکھا ہے۔

معاصر دور میں، اور تاریخ کے بعض پرانے زمانوں میں بھی، کچھ مخصوص فکری حلقے، نامور مفکرین اور مصلحت پسند دانشور یہ عجیب و غریب اور نہایت گمراہ کن بیانیہ پیش کرتے ہیں کہ جو سخت اصول، قواعد، قوانین اور ضوابط محدثینِ عظام نے حدیثِ مبارکہ کی تصدیق اور اس کی اسناد کو پرکھنے کے لیے وضع کیے ہیں، وہ تاریخِ اسلامی کے واقعات اور روایات کے لیے لازم نہیں ہیں۔

ان کا دعویٰ ہوتا ہے کہ تاریخ کی کتابوں میں جو بات ایک بار درج ہو گئی، یا کسی قدیم مورخ نے اپنی کتاب کے صفحے پر لکھ دی، اسے من و عن اسی شکل میں قبول کر لینا چاہیے، اور اس کی سند، راویوں کے احوال، ان کے فکری رجحانات یا واقعاتی مطابقت کی جانچ پھٹک کرنے کی کوئی شرعی یا عقلی ضرورت نہیں ہے۔

واللہ!

یہ ایک ایسا باطل، سطحی اور فکری طور پر تباہ کن نظریہ ہے جس کی شریعتِ اسلامیہ کے کسی بھی حکم، اصول یا سائنسی میتھڈالوجی سے کوئی تائید و توثیق نہیں ملتی۔

اگر ہم کمالِ انصاف کے ساتھ غور کریں تو علمِ حدیث کی تحقیق، اس کی اسناد کی چھان بین اور جرح و تعدیل کی پوری اساس خود قرآنِ مجید کی اسی ابدی آیت پر کھڑی ہے جو دراصل اپنے سببِ نزول کے اعتبار سے ایک تاریخی خبر، ایک سیاسی واقعے اور ایک زمینی رپورٹ کے متعلق ہی امت کو کڑا حکم دیتی ہے۔

اللہ رب العزت نے سورۃ الحجرات کی آیت نمبر 6 میں واشگاف اور غیر مبہم الفاظ میں ایمان والوں کو یہ ضابطہ عطا فرمایا:

“ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی اچھی طرح تحقیق اور تبیّن کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں کوئی نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونا پڑے۔”

ذرا اس الہامی قانون کی گہرائی اور اس کے دائرہِ اثر پر غور کیجیے!

جب کائنات کا پروردگار ایک تاریخی خبر کی تصدیق اور اس کے پیچھے چھپے ہوئے حقائق کی تبیّن کا حکم اتنے سخت الفاظ میں دے رہا ہے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم خلافتِ راشدہ، مشاجراتِ صحابہ اور تاریخِ امت کے نازک ترین اور فیصلہ کن معاملات کو بغیر کسی فلٹر، بغیر کسی کڑی تحقیق اور بغیر اسناد کے، محض ابنِ اسحاق، الواقدی، ابو مخنف یا دیگر ضعیف، مجروح اور متعصب مورخین کے اقوال کی بنیاد پر سچ مان کر بیٹھ جائیں؟

حقیقت تو یہ ہے کہ علمِ حدیث کو محفوظ اور پاکیزہ رکھنے کے لیے جو علومِ عالیہ تیار کیے گئے، جن میں علمِ اسماء الرجال، جرح و تعدیل، تواریخِ موالید، تواریخِ وفیات، اور معاصرتِ رواۃ و سماع شامل ہیں، یہ سب کے سب بنیادی طور پر تاریخ ہی کا تو حصہ ہیں۔

جب محدثینِ عظام نے تاریخ کے اصولوں کو استعمال کر کے حدیث کے راویوں کا سچا یا جھوٹا ہونا ثابت کیا، اور جرح و تعدیل کے ثبوت و تحقیق کے لیے وہی کڑے معیار رکھے، تو پھر تاریخِ اسلامی کی اپنی روایات کو ان اصولوں سے آزاد کیسے کیا جا سکتا ہے؟

بالخصوص خلافتِ راشدہ کی تاریخ میں، جہاں امت کے پورے سیاسی اور مذہبی تشخص کا دارومدار ہے، ان قواعد کی پابندی کرنا پچاس گنا زیادہ ضروری ہے، تاکہ ہم اس دھول اور پروپیگنڈے کو صاف کر سکیں جو منافقین اور سبائیوں نے دانستہ طور پر تاریخ کے مصلے پر اڑائی تھی، اور یہی وہ منہجِ انصاف ہے جو ناصبیت اور رافضیت دونوں کے وار سے ایمان کو محفوظ رکھتا ہے۔

جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی وفادار زوجہ محترمہ سیدہ نائلہؓ اور ان کے مخلص غلاموں نے رات کے اندھیرے میں خلیفہِ وقت کا جنازہ پڑھا کر انہیں سپردِ خاک کر دیا، تو مدینہ منورہ کا نظامِ حکومت عملی طور پر مفلوج ہو چکا تھا اور منبرِ رسول پر باغیوں کی مرضی کا پہرہ تھا۔

یہ بلوائی اور شورش پسند چاہتے تھے کہ مدینہ کی قیادت میں سے کوئی ایسا کمزور یا ان کے زیرِ اثر شخص مسندِ خلافت پر براجمان ہو جائے جو ان کے اس بھیانک جرم پر پردہ ڈال سکے، انہیں سرکاری وظائف سے نوازے اور قتلِ عثمان کو وقت کی گرد میں دفن کر دے۔

انہوں نے یکے بعد دیگرے سیدنا علی المرتضیٰ، سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم اجمعین کے پاس جا کر انہیں خلافت سنبھالنے کی پیشکشیں کیں، مگر ان نفوسِ قدسیہ نے، جن کی تربیت براہِ راست آفتابِ نبوت کے زیرِ سایہ ہوئی تھی، ان قاتلوں اور منافقوں کو سخت ذلیل کر کے اپنے سامنے سے بھگا دیا۔ (یہ ان ناصبیوں کے منہ پر زوردار تماچہ ہے جو آج کے دور میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی نیت پر شک کرتے ہیں اور ہر جگہ یہ بات کرتے پھرتے ہیں کہ حضرت عثمان کے قتل کے بعد بینیفشری کون تھا، یعنی اشارے کنائے میں وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے قلم کی ذد پر لاتے ہیں جو کہ ناصبیت کا سب سے انتہائی درجہ ہے۔)

 مدینہ کے انصار اور مہاجرین، جو اس وقت ایک شدید نفسیاتی دباؤ اور بے چینی کا شکار تھے، وہ بخوبی سمجھ رہے تھے کہ اگر اس سیاسی خلا کو فوری طور پر پُر نہ کیا گیا، تو یہ مسلح باغی اور سبائی تحریک پوری اسلامی ریاست کے فیڈرل اسٹرکچر کو ہمیشہ کے لیے تباہ کر دے گی اور دنیا کی دیگر پرانی سلطنتوں کی طرح یہاں بھی انارکی کا دور دورہ ہو جائے گا۔

امام ابن کثیر اپنی مایہ ناز تصنیف ‘البدایہ والنہایہ’ (جلد 7، صفحہ 226) میں اس کٹھن مرحلے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مدینہ کے تمام اکابر صحابہ کرام، انصار کے سردار اور مہاجرین کے بزرگ یکجا ہو کر شیرِ خدا سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے حجرے پر پہنچے اور انہوں نے انتہائی اصرار کے ساتھ عرض کیا کہ

“اے علی! اس وقت پوری امتِ مسلمہ کے پاس آپ سے بہتر، سینئر، عالم اور موزوں ترین کوئی شخصیت موجود نہیں ہے، اور ریاستِ مدینہ کو اس ہولناک طوفان سے نکالنا آپ کے بغیر ممکن نہیں، لہٰذا آپ خلافت کی یہ بھاری ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھائیے۔”

سیدنا علی رضی اللہ عنہ، جو حالات کی سنگینی، مدینہ میں باغیوں کی مسلح موجودگی اور امت کے اندر پھیلے ہوئے اس گہرے فکری و نفسیاتی اضطراب کو اپنی مجتہدانہ بصیرت سے دیکھ رہے تھے، انہوں نے کمالِ زہد، خوفِ خدا اور احساسِ ذمہ داری کے تحت اس پیشکش کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا اور فرمایا کہ

“مجھے خلیفہ بنانے کے بجائے تم کسی اور کو اپنا امیر چن لو، میں امیر بننے کے بجائے تمہارا مشیر، تمہارا وزیر اور تمہارا اسٹریٹجک ایڈوائزر رہنا زیادہ پسند کروں گا۔”

یہ ان کی اقتدار سے بے نیازی اور اس ریاستی بوجھ کی سنگینی کا اعتراف تھا جو اس وقت خلافت کے منصب کے ساتھ جڑا ہوا تھا، لیکن جب اہل مدینہ نے دیکھا کہ کوئی دوسرا اس نازک وقت میں یہ لوہے کا چنا چبانے کو تیار نہیں، تو انہوں نے اپنا اصرار مزید بڑھا دیا۔

سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر ایک ایسا شاندار، تاریخی اور آئینی اصول وضع کیا جو اسلام کے ‘انسٹیٹیوشنل طریقہ کار’ کی عظمت کو رہتی دنیا تک کے لیے ثابت کر دیتا ہے۔

انہوں نے مدینہ کے اکابرین سے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ

” میری بیعت کسی بند کمرے میں، کسی خفیہ ملاقات کے ذریعے یا رات کے اندھیرے میں نہیں ہو سکتی، اور نہ ہی یہ محض چند افراد کا کوئی ذاتی یا گروہی فیصلہ ہو سکتا ہے۔ خلافت کا انتخاب مسلمانوں کا اجتماعی، عوامی اور شورائی حق ہے، اس لیے اگر بیعت ہوگی تو وہ مسجدِ نبوی کے صحن میں، منبرِ رسول کے سامنے، تمام مسلمانوں کی موجودگی میں مکمل طور پر علانیہ اور شفاف طریقے سے ہوگی۔”

امام محمد بن جریر طبری اپنی تاریخ ‘تاریخ الامم والملوک’ (جلد 4، صفحہ 427) میں لکھتے ہیں کہ ذی الحجہ سن پینتیس ہجری کے آخری ایام کی ایک صبح سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ مسجدِ نبوی کے منبر پر تشریف لائے اور مدینہ میں موجود تمام مہاجرین، انصار، عام مسلمانوں اور یہاں تک کہ مختلف صوبوں سے آئے ہوئے عام شہریوں نے نہایت خوش دلی، عقیدت اور اطمینان کے ساتھ ان کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت ادا کی۔

سب سے پہلے آگے بڑھ کر بیعت کرنے والوں میں سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر صحابہ شامل تھے، اگرچہ ان کے گھروں اور بازاروں میں اس وقت باغیوں کی تلواریں بھی تنی ہوئی تھیں اور وہ گردن پر تلوار رکھ کر زبردستی لائے جانے کا تاثر قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن ان اکابرین کا یہ عمل اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کی اہلیت اور ان کے بلند مقام و مرتبے کے دل سے معترف تھے اور ریاست کے شیرازے کو بکھرنے سے بچانا ان کا واحد مقصد تھا۔

صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3700 کے مطابق، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ انتخاب اس وقت کا سب سے معقول اور متوازن فیصلہ تھا جس نے امت کو ایک بہت بڑے فوری انتشار سے بچا لیا۔

جوں ہی اسلام کے اس چوتھے خلیفۂ راشد نے ریاستِ مدینہ کی باگ ڈور سنبھالی، ان کے سامنے سب سے پہلا، سب سے بڑا، سب سے حساس اور سب سے زیادہ پیچیدہ مسئلہ ‘قصاصِ عثمان’ کا تھا۔

یہ وہ چیلنج تھا جس نے پورے عالمِ اسلام کے شہریوں کے جذبات کو غیر معمولی حد تک گرم کر رکھا تھا اور ہر دل اس خونِ ناحق پر تڑپ رہا تھا۔

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، اور شام کے طاقتور گورنر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہم اجمعین کا مطالبہ بالکل واضح، شرعی، آئینی اور برحق تھا کہ خلیفہِ مظلوم کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے، ان کی گردنیں اڑائی جائیں اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

شریعتِ اسلامیہ کا قانونِ قصاص اس مطالبے کی مکمل تائید کرتا تھا، اور مکہ سے لے کر شام تک ہر مسلمان اس سفاکانہ شہادت پر غم و غصے کی آگ میں جل رہا تھا۔

لیکن یہاں ہمیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے موجود اسٹریٹجک، عسکری اور انتظامی مجبوریوں کا تجزیہ خالصتاً اسٹیٹ کرافٹ اور امن و امان کی داخلی حرکیات کے تناظر میں کرنا ہوگا، تاکہ ہم اس باعمل، مخلص اور فرقہ پرستی سے پاک خلیفہ کے طرزِ فکر اور ان کے کاگنیٹو فریم ورک کو سمجھ سکیں، نہ کہ کسی جذباتی بیانیے کا شکار ہو کر ان کی نیت پر شک کریں۔

سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا موقف یہ ہرگز نہیں تھا کہ وہ معاذ اللہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خون کا قصاص نہیں لینا چاہتے تھے، یا ان کے دل میں اپنے اس عظیم بھائی اور پیشرو کے لیے کوئی محبت یا ہمدردی نہیں تھی۔ وہ تو خود اس قتل پر سب سے زیادہ رنجیدہ تھے، انہوں نے خود اللہ کے حضور اپنی براءت پیش کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ

“اے اللہ! میں تیرے سامنے عثمان کے خون سے براءت کا اظہار کرتا ہوں، میں نے نہ تو انہیں قتل کیا اور نہ ان کے قتل پر کسی کو ابھارا۔” (الطبقات لابن سعد: جلد 3، صفحہ 50)۔

لیکن خلیفہِ وقت کے طور پر ان کا سامنا کسی ایک یا دو انفرادی مجرموں سے نہیں تھا جنہیں مدینہ کی پولیس بھیج کر گرفتار کر لیا جاتا۔

قتلِ عثمان کا یہ سانحہ ایک وسیع، گہری اور منظم مسلح شورش کا نتیجہ تھا، اور وہ قاتل اور بلوائی اس وقت کسی صوبے کے کونے میں چھپے ہوئے نہیں تھے، بلکہ وہ پانچ ہزار سے زائد مسلح جنگجوؤں کی شکل میں مدینہ کے اندر ریاستی اداروں، فوج اور خلافت کی نئی کابینہ کے اندر سرائیت کر چکے تھے۔

جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے قصاص کا بارہا مطالبہ کیا گیا، تو انہوں نے کمالِ تدبر، زمینی حقیقت اور انتظامی دور اندیشی کا نقشہ سامنے رکھتے ہوئے صحابہ سے فرمایا کہ

“اے میرے بھائیو! جو کچھ تم جانتے ہو، میں اس سے بے خبر نہیں ہوں، لیکن میں ان لوگوں کو کیسے قابو کروں جو اس وقت پورے مدینہ پر مسلط ہیں؟ تمہارے پاس اس وقت کیا طاقت ہے کہ ہم ان ہزاروں مسلح بدویوں اور باغیوں سے لڑ سکیں، جن کے پیچھے ان کے بڑے بڑے قبائل کا اثر و رسوخ کھڑا ہے؟ اگر آج ہم نے ان پر ہاتھ ڈالا، تو یہ قبائل مدینہ کو خون ریزی کا اکھاڑا بنا دیں گے اور یہ نوخیز اسلامی ریاست اپنے ہی مرکز میں دفن ہو جائے گی۔ پہلے ریاست کی عملداری (Writ of the State) کو بحال ہونے دو، امن و امان قائم ہونے دو، صوبوں کے گورنر میری خلافت کی اطاعت قبول کر لیں اور حکومت کا اسٹرکچر مستحکم ہو جائے، تو میں خود ایک باقاعدہ عدالت قائم کر کے ان تمام مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لاؤں گا۔”

یہ ایک ایسے دور اندیش اور سوجھ بوجھ رکھنے والے حکمران کا زاویہ تھا جو ایک چھوٹے فتنے کو مٹانے کے لیے پوری ریاست کو خانہ جنگی کی آگ میں نہیں جھونکنا چاہتا تھا، اور ان کا یہ فیصلہ خالصتاً سیاستِ شرعیہ اور بقائے امت کے اصولوں کے عین مطابق تھا۔

اسی پیچیدہ، اعصاب شکن اور مبہم صورتحال کے بطن سے امتِ مسلمہ کے اندر دو انتہائی خطرناک، انتہا پسندانہ اور تفرقہ آمیز فکری رویوں نے جنم لیا، جنہوں نے بعد کے ادوار میں مستقل مسلکوں اور فرقوں کی شکل اختیار کر لی اور امت کا چہرہ بگاڑ کر رکھ دیا۔

ایک طرف وہ انتہا پسند عناصر تھے جو یہ فتنہ برپا ہونے پر دل ہی دل میں بہت خوش تھے، جو عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کو معاذ اللہ جائز قرار دینے کی ناپاک کوششیں کر رہے تھے اور اس بات پر مسرور تھے کہ خلافتِ راشدہ کا وہ پرانا، سخت اور عادلانہ نظم و ضبط جو عمر فاروق رضی اللہ عنہ قائم کر کے گئے تھے، وہ اب ٹوٹ چکا ہے اور اب ان کا احتساب کرنے والا کوئی نہیں رہا۔ یہ وہ تخریبی اور منافقانہ ذہنیت تھی جس کی کوکھ سے بعد میں رافضیت کے فتنے نے جنم لیا، جس کا کام ہی خلفائے راشدین اور اکابر صحابہ کرام کی تکذیب، تنقیص اور ریاست کے استحکام کو برباد کرنا تھا۔

اس کے برعکس، دوسری طرف وہ طبقہ ابھرا جو حالات کی اس لچک، وقت کی نزاکت اور خلیفہِ وقت کی انتظامی مجبوریوں کو ٹھنڈے دل سے سمجھنے سے یکسر قاصر رہا۔ وہ اس بات پر شدید ناخوش، غصے میں اور جذباتی ماحول میں گرم تھے کہ قتلِ عثمان کا قصاص فوری طور پر کیوں نہیں لیا جا رہا، اور انہوں نے اس عارضی تاخیر کو خلیفہ کی معاذ اللہ مصلحت پسندی یا قاتلوں کی سرپرستی پر محمول کیا۔ اس شدید ردِعمل اور قبائلی عصبیت کے نتیجے میں اس طبقے نے جنم لیا جسے تاریخ میں ناصبیت کا گھٹیا اور سطحی عمل کہا جاتا ہے، جن کا کام اہل بیتِ اطہار اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نیتوں پر شک کرنا، ان پر تبرہ بازی کرنا اور ان کے خلاف محاذ گرم کرنا تھا۔

یہیں پر ہمیں ایک اور انتہائی گہرے اور تاریخی مغالطے کی گرہ کھولنا ہوگی جسے بعد کے ادوار میں سیاسی مفادات اور جذباتی داستان گوئی کی بھینٹ چڑھا کر ایک خوفناک شکل دے دی گئی۔

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور سیدنا امیر معاویہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس مؤقف اور طرزِ عمل کو، جو انہوں نے قصاصِ عثمان کے برحق مطالبے کے لیے اختیار کیا، کسی ذاتی دشمنی، عناد یا بغض کے خانے میں فٹ کرنا تاریخ کے ساتھ سب سے بڑی علمی اور اخلاقی ناانصافی ہے۔

یہ نفوسِ قدسیہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی ذاتِ گرامی اور ان کے مقامِ فضل کے معاذ اللہ منکر یا دشمن نہیں تھے، اور نہ ہی ان کا مقصد کوئی ذاتی اقتدار حاصل کرنا یا خلافت کی چھین جھپٹ تھا، جیسا کہ بعد کے رافضی اور ناصبی بیانیے اپنے اپنے مسلکی مفادات کے لیے ثابت کرنے کی ناپاک کوششیں کرتے ہیں۔

ان کا اختلاف خالصتاً ایک قانونی، اجتہادی اور انتظامی نوعیت (Administrative and Ijtihaadi Difference) کا تھا۔

ان کا زاویہِ نظر یہ تھا کہ خلیفہِ مظلوم کی دارالخلافہ کے اندر شہادت کے بعد اگر قاتل اور بلوائی آزاد گھومتے رہے اور ریاست نے ان پر فوری ہاتھ نہ ڈالا، تو اس سے خلافت کا رعب و دبدبہ، قانون کی بالادستی اور مسلم خون کا تقدس ہمیشہ کے لیے پامال ہو جائے گا۔

وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی مشروعیت کو تسلیم کرتے تھے، مگر ان کا اصرار صرف اس بات پر تھا کہ قصاص کا نفاذ اولین ترجیح ہونا چاہیے، جبکہ دوسری طرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مخلصانہ اجتہاد یہ تھا کہ پہلے نظمِ ریاست بحال ہو اور فتنے کا سر کچلا جائے، پھر قصاص لیا جائے۔

یہ دو مخلص، دیانت دار اور دین پر جان نچھاور کرنے والے گروہوں کے درمیان طریقِ کار کا وہ ہنگامی اختلاف تھا جس میں دونوں فریق اسلام کی بقا اور عدل کے قیام کے ہی خواہاں تھے، اس لیے ان پاکباز ہستیوں کو ایک دوسرے کا حاسد یا حریف بنا کر پیش کرنا امت کی فکری تاریخ کو مسخ کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

خیر ذرا تاریخ کے اس نازک اور کٹھن کینوس پر ایک نیوٹرل انسان کے طور پر گہری نظر ڈالیں!

ان دونوں انتہاؤں، یعنی رافضیت اور ناصبیت کے مہیب اور زہریلے طوفان کے درمیان، اسلام کا اصل، متوازن اور حقیقی نظریہ کہاں محفوظ رہا؟

تاریخ کے شواہد گواہ ہیں کہ فتنہِ رافضیت و ناصبیت کے اس اندھے بھنور سے صرف اور صرف وہ مخلص، باعمل اور دانا مسلمان محفوظ رہے جن کو ‘حقِ سکوت’ (Right of Silence) اور کامل صبر کے ساتھ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے پیچھے خاموشی سے کھڑے رہنے میں ہی عافیت اور ایمان کی سلامتی نظر آئی۔

انہوں نے یہ حقیقت سمجھ لی تھی کہ خلافتِ راشدہ کا یہ چوتھا ستون اس وقت امت کی بقا کی آخری جنگ لڑ رہا ہے، اور ان کے فیصلوں پر تنقید کرنا یا ان کے گرد شکوک کے بادل کھڑے کرنا دشمن کے ایجنڈے کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس وقت جو بھی عسکری، سیاسی اور انتظامی اقدامات کیے، چاہے وہ صوبوں کے عاملین کی تبدیلی ہو یا باغی گروہوں کے ساتھ وقتی طور پر نرمی کا برتاؤ، وہ سب کے سب بقائے اسلام، بقائے نظریہِ امت اور نظریہِ خلافت کے لیے ازحد ضروری اور ناگزیر تھے۔

ان کے فیصلوں میں نہ تو کوئی ذاتی انا شامل تھی اور نہ ہی اقتدار کو طول دینے کی کوئی خواہش، بلکہ وہ تو اس الہامی مشینری کے آخری محافظ تھے جسے رسول اللہ ﷺ نے اپنے خون اور پسینے سے تیار کیا تھا۔

ریاستی نظام اور پولیٹیکل سائنس کا یہ ایک آفاقی اور ابدی اصول ہے کہ جب بھی معاشرے میں کوئی بڑا داخلی بحران پیدا ہوتا ہے، تو لیڈرشپ کے لیے سب سے اہم اور نازک ترین کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے اردگرد موجود حمایتی اور مخالف انتہا پسند گروہوں کو اپنی سرکاری اور ریاستی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے سے ہر ممکن طریقے سے روکے۔

اگر کوئی قائد اپنے ہی جذباتی حمایتیوں کے دباؤ میں آ کر فیصلے کرنے لگے، یا اپنے سخت ترین مخالفین کے خوف سے اپنے بنیادی اصولوں پر سودے بازی کر لے، تو اس ریاست کا شیرازہ بکھرنے میں دیر نہیں لگتی۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے بھی یہی سب سے بڑا چیلنج تھا کہ وہ کس طرح ان سبائیوں اور بلوائیوں کو، جو بظاہر ان کی صفوں میں شامل ہو کر خود کو ‘ش*ی*ع*ا*نِ علی’ کہہ رہے تھے، ریاست کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے سے روکیں، اور دوسری طرف ان مخالفین کو کیسے مطمئن کریں جو قصاص کے نام پر مصلحتوں کو سمجھنے سے انکاری تھے۔

قیادت کا اصل کمال یہی ہوتا ہے کہ وہ ایسے فتنہ پرور گروہوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر یا انہیں بتدریج کمزور کر کے، ریاست کے امن و امان کو یقینی بنائے اور امت کے وسیع تر مفاد میں بقائے نظریہ اور بحالیِ عروج کی تحاریک کو جاری رکھے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے ایک ایک لمحے میں اسی اصول پر عمل کرنے کی کوشش کی، اور یہی وجہ ہے کہ ان کا دورِ خلافت مشکلات کے باوجود امت کے ایمان اور عزم کی سب سے بڑی درسگاہ بن کر ابھرا۔

ہمیں تاریخ کے اس نازک موڑ پر کھڑے ہو کر یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم ان واقعات کو کسی ایک فریق کے رنگ میں رنگ کر نہیں دیکھیں گے۔ ہمیں ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم اجمعین کے درمیان موجود اس گہرے، الہامی اور ادارہ جاتی رشتے کو سمجھنا ہوگا جو تاقیامت اس امت کی اساس ہے۔

جب ہم ان چاروں خلفاء کے دورِ خلافت کا ایک تسلسل کے ساتھ مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے وقت کے تقاضوں اور چیلنجز کے مطابق بہترین اجتہاد کیا، اور ان کا مقصد صرف اور صرف کلمۃ اللہ کی سربلندی تھا۔ ع

عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا اپنے خون کا نذرانہ دے کر مدینہ کو بچانا، اور علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا خلافت کے وقار کے لیے ان کٹھن حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرنا، یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو مختلف رخ ہیں۔

اب جبکہ مدینہ سے صلح اور جنگ کی لکیریں کھینچنے لگی تھیں، اور مکہ کی طرف سے اکابر صحابہ کا ایک وفد قصاصِ عثمان کے لیے بصرہ کی طرف روانہ ہو رہا تھا، تو تاریخ ایک اور خونریز اور اعصاب شکن معرکے کی طرف بڑھ رہی تھی جسے زمانہ ‘جنگِ جمل’ کے نام سے یاد کرتا ہے۔

وہ کیا حالات تھے جنہوں نے ان پاکباز ہستیوں کو میدانِ جنگ میں ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا؟

اور کس طرح رات کے اندھیرے میں سبائی سازشوں نے صلح کے معاہدے کو بارود کی چنگاری دکھا کر مسلمانوں کو آپس میں لڑا دیا؟

ان تمام سنسنی خیز، عبرتناک اور مستند تاریخی حقائق کا مکمل پوسٹ مارٹم ہم اس سلسلے کی اگلی قسط میں پیش کریں گے، جہاں سے امت کی تاریخ کا وہ گہرا ترین زخم نمایاں ہوتا ہے جس کی کسک آج بھی ہر مومن کے دل میں باقی ہے۔

جاری ہے!

نوٹ: یہ سلسلہ وار تحریر ہے جو 20 اقساط پہ مشتمل ہوگی انشاءاللہ تعالی، ہم اس میں انشاءاللہ تاریخ کو سلسلہ وار جانچنے کی کوشش کریں گے کہ ہم سے کہاں پر چوک ہو رہی ہے، اور ہم کیوں ان تاریخی واقعات کی آڑ میں فرقہ ورانہ جھگڑوں میں پھنسے ہوئے ہیں؟

#سنجیدہ_بات

#آزادیات

#بلال_شوکت_آزاد

Loading