سوال:اللہ تعالیٰ خود کیسے آئے اور یہ دنیا انہوں نے کیسے بنائی؟ کیا یہ سوال پوچھنے سے گناہ ہوتا ہے؟
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جواب:نہیں!!! مگر شاید ہمارے لیے سب سے بڑا مرحلہ یہ ہے کہ آپ دیکھو پہلے زمانے میں اگر کوئی یہ سوال پوچھتا تو یہ اتنا متشابہات میں سے ہوتا کہ ہمیں کچھ پتا نہیں تھا کہ کائنات کیسی ہے؟ زمین کیسی ہے؟ عرش کیا ہے؟ فرش کیا ہے؟ ہمیں کچھ پتا نہیں تھا۔
میں آپ کو ادراک کی ایک جہت بتاتا ہوں، اب عرش کا کیا مفہوم ہوگا۔ پہلے عرش کا مفہوم ایک بڑا تخت جیسے آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے تھے۔ آٹھ فرشتے تو اب بھی اٹھائے ہوئے ہیں مگر کس کو؟ شاید اس کا ہمیں پتا نہیں ہے۔ مگر آئیے تھوڑا سا عرش کے اوپر غور کر لیں تو آپ کو بھی سمجھ آ جائے گی۔
جوں جوں کائنات کھل رہی ہے، حقائق بے نقاب ہو رہے ہیں۔ حدیثِ رسولؐ ہے کہ فرمایا! ابو ذر تمہیں پتا ہے یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ عرض کی کہ اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں، فرمایا! ابو ذر یہ سورج آسمانوں کو بلند ہو کر عرش تک جاتا ہے پھر اسے حکم ملتا ہے کہ لوٹ جا، پھر ایک دن آئے گا اسے کہا جائے گا تم نے لوٹنا نہیں ہے، یہیں سے نکلنا ہے۔
جب یہ حدیث سنی تو جدید مسلمانوں میں پرویز صاحب نے بہت اعتراضات کیے کہ اللہ کے رسولؐ کو تو Cosmology ہی نہیں آتی تھی، Technically Constellation ہی نہیں آتی تھی۔ یہ کیا بڑی غلطی ہوگی، سورج تو چوبیس گھنٹوں میں ایک دائرے میں آتا جاتا ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
مگر جب زمانہ اور آگے بڑھا تو پتا لگا کہ واقعی سورج “Herculean Galaxy” میں اپنی مرکزی اور انتہائی بلندی پہ پہنچتا ہے، اور اس پوائنٹ کو Solar Apex کہتے ہیں۔ اگر آپ Apex کا انگریزی یا اردو ترجمہ کریں تو اس کا مطلب بنتا ہے کہ واقعی کوئی عرش موجود ہے، واقعی سورج وہاں جاتا ہے اور وہاں سے 150 میل فی سیکنڈ کے حساب سے پلٹتا ہے۔
خواتین و حضرات! اب پتا لگا کہ عرش کا جو رسولِ اکرم ﷺ نے لفظ استعمال کیا تھا، وہ آپ نے Upper Galaxies میں کسی بہت بڑے سفر کے لیے استعمال کیا۔ تو عرش درونِ کائنات یا بیرونِ کائنات اس قسم کی بلندی کا نام ہو سکتا ہے۔
اب خداوندِ کریم نے جب قرآن میں فرمایا کہ زمین پر آتے وقت اللہ کا عرش پانی پہ تھا۔ اب غور کیجیے کہ جب ہم تخلیقِ کائنات سے پہلے عرش کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ خدا کا عرش پانی پہ تھا تو اس سے مراد کیا لی جائے؟ کہ ایک بڑا “Huge Most Star” فضائے زمین میں داخل ہوا، اس میں اللہ موجود تھا، اور یہاں آ کر اس نے تخلیقی کام شروع کر دیے۔
اب اگلا سوال پیدا ہوتا ہے؟ کہتے ہیں، اگر یوں کہا جائے کہ اللہ یہاں ہوتا ہے تو بھی کفر ہے، اللہ وہاں ہوتا ہے تو بھی کفر ہے۔ اللہ تو ہر جگہ ہر چیز کو اپنے علم سے سمیٹے ہوئے ہے۔
تو کیا اللہ چیزوں کے بیچ میں ہو سکتا ہے؟ یا ہر چیز کے Above ہوتا ہے؟ اب دیکھیے پھر حدیث کو جانا پڑتا ہے۔
جیسے میں نے ابھی آپ کے سامنے حدیث Quote کی کہ اللہ کے رسولؐ سے پوچھا گیا، کائنات بنانے سے پہلے اللہ کہاں تھا؟
فرمایا:
“كَانَ فِيْ عَمَاءٍ”
“وہ بادلوں میں تھا”
“تَحْتَهُ هَوَاءٌ وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ”
“اور نیچے بھی ہوا تھی اور اوپر بھی ہوا تھی”
یعنی اللہ بادلوں میں تھا اور اس کے اردگرد ہوائیں تھیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ:
“Allah is not known by the size, Allah is not known by his location, Allah is known by the job He does.”
اللہ اپنے کام سے، اپنی کارکردگی سے، اپنی قوتوں سے پہچانا جاتا ہے، جن میں وہ کسی کو شریک نہیں کرتا۔
اس لیے وہ باتیں جو ہمارے ہاں اللہ کے بارے میں رائج ہیں، جیسے اللہ کو ایک جگہ قید کرنا، وہ باتیں غلط ہوں گی۔
“And we will not be able to understand because we do not have that mind and we do not have that information.”
کتاب: سفرِ آخرِ شب
مصنف: پروفیسر احمد رفیق اختر
تالیف: سید انجم محمود گیلانی
صفحہ نمبر: 95 تا 97
#سفر_آخر_شب, #پروفیسر_احمد_رفیق_اختر, #احمد_رفیق_اختر, #متشابہات, #سوال_و_جواب, #اللہ, #عرش, #فرش, #تخلیق_کائنات, #کائنات, #قرآن, #حدیث, #ابوذرؓ, #رسول_اکرمﷺ, #علم, #عرفان, #فکر, #تدبر, #روحانیت, #Cosmology, #SolarApex, #Galaxies, #Universe, #IslamicThought, #UrduQuotes, #BookQuotes, #مطالعہ, #کتاب_دوست, #اسلامی_افکار, #علم_و_حکمت
![]()

