ارتقاء کا نظریہ
انتخاب ۔۔۔۔۔ میاں عاصم محمود
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ارتقاء کا نظریہ ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔۔ میاں عاصم محمود)خود بخود ارتقاء کا نظریہ کہتا ہے کہ نوع یا ذات بدل جاتی ہے۔ مثلاً کھوتے سے شیر بن سکتا ہے۔
کیوں؟ اس لیے کہ ڈھانچہ مل گیا اور انسان بندر سے مشابہت رکھتا ہے۔
لیکن بندر کا سانچہ بندر ہی ملے گا، کھوتا کھوتا ہی رہے گا۔ صرف مشابہت دلیل نہیں بن سکتی۔ انسان اور بندر کی ہڈیوں میں کچھ مماثلت ہے تو باقی کتنی چیزوں میں مماثلت ہے؟ کیا وہ سب بھی انسان کی اصل ہیں؟
مشابہت کیئ چیزوں میں ہو سکتی ہے، مگر صفات مع نوع یا ذات کا خود بخود مکمل بدل جانا نہ عقلی دلیل سے ثابت ہے، نہ مشاہدے سے، نہ سائنس سے، نہ منطق سے۔ یہ محض قیاس باطل ہے۔
سائنسی اعتراض:
سائنس خود کہتی ہے کہ نوع ذات کبھی نہیں بدلتی۔ بلی سے کتا، گندم سے آم، کبھی نہیں بنے۔ لیبارٹری میں ہزاروں تجربے ہو چکے، فروٹ فلائی پر 100 سال تحقیق ہوئی، نسلیں کی نسلیں بدل گئیں، لیکن مکھی مکھی ہی رہی، تتلی نہیں بنی۔
تاریخی اعتراض:
اگر لاکھوں سال آدھے بندر آدھے انسان رہے، تو ان کے فوسل کہاں ہیں؟ ڈارون خود کہتا تھا کہ اگر میرا نظریہ سچ ہے تو زمین لاکھوں درمیانی کڑیوں کے فوسل سے بھری ہوگی۔ آج 150 سال بعد بھی وہ لاکھوں نہیں ملے۔ پوری دنیا کھود ڈالی، لیکن درمیانی کڑی کا ایک بھی مکمل ڈھانچہ نہیں ملا۔ جو ملے وہ یا تو پورے بندر ہیں یا پورے انسان۔ یہ رد فوسل ہے۔
قیاس باطل:
اندھیری کائنات میں اتفاق سے قانون بن گیا، بے جان مادے سے جان پیدا ہو گئی، بے عقل ذروں سے عقل والا دماغ بن گیا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کہا جائے کہ پرنٹنگ پریس خود بخود ہل کر شیکسپیئر کا ڈرامہ چھاپ دے گا۔
خود بخود ۔۔۔
سب سے بڑا مسئلہ “معلومات” کا ہے:
ڈی این اے لاکھوں صفحات کی کتاب ہے، مکمل کوڈ۔ سائنس مانتی ہے کہ معلومات ہمیشہ ذہین دماغ سے آتی ہے، کبھی ہوا سے کتاب نہیں بنی۔ تو بے جان کیمیکلز سے ڈی این اے کی معلومات کیسے پیدا ہو گئیں؟ وہ کیمیکل کہاں سے آئے؟
دوسرا مسئلہ “پیچیدگی” کا ہے:
آنکھ، دل، پر، یہ سب ایک ساتھ مکمل چاہیے۔ آدھی آنکھ اندھی ہوتی ہے، آدھا دل بندہ مار دیتا ہے۔ ارتقاء کہتا ہے “آہستہ آہستہ” لیکن آدھا عضو فائدے کے بجائے نقصان دیتا ہے تو نیچرل سلیکشن اسے بچاتی کیوں؟
نوع اور ذات اپنی حد میں تبدیلی کر سکتی ہے۔ کتا تھوڑا بڑا چھوٹا ہو سکتا ہے، لیکن کتا کبھی شیر نہیں بنے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی ایک حد مقرر کر دی ہے، اور وہی حد سائنس بھی مانتی ہے۔
اور جو چیز خود سائنسی طور پر مردود ہو، عقلی طور پر بکواس ہو، منطق اور دلیل کی رو سے یتیم ہو، اس پر آنکھ بند کر کے ایمان بالغیب رکھنا ملحدین کے لیے واقعی قابل غور ہے۔ یہ ان کی عقل پر سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے۔
ہاں اگر ملحدین کے لیے مشکل ہے تو تمام کائنات سمیت مکمل نظام اور زندگی پیدا کرنے والی ذات پر ایمان لانا، کیونکہ یہ عقل سے پیدل لوگ ہیں۔
اگر اصلاح کرنا چاہتے ہو تو دلیل سے کریں، میں تیار ہوں:
رد الالحاد و الفساد
![]()

