Daily Roshni News

رہ گئی رسمِ اذاں، روحِ بلالی نہ رہی

رہ گئی رسمِ اذاں، روحِ بلالی نہ رہی

فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اقبالؒ کا یہ شعر محض ایک ادبی مصرعہ نہیں بلکہ امت کے باطن کا مرثیہ ہے۔ یہ ایک ایسی فریاد ہے جو اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ ہم نے دین کے قالب کو محفوظ رکھا مگر اس کی روح کھو دی، ہم نے الفاظ کو سنبھال لیا مگر معانی سے رشتہ کمزور کر لیا، ہم نے رسموں کو زندہ رکھا مگر ان کے مقاصد کو فراموش کر دیا۔ اقبالؒ کا درد یہی تھا کہ اذان باقی ہے مگر روحِ بلالی نہیں، فلسفہ باقی ہے مگر تلقینِ غزالی نہیں۔ گویا جسم موجود ہے مگر جان رخصت ہو چکی ہے۔

اسی تناظر میں ایک جملہ صدیوں سے لوگوں کی زبان پر ہے کہ “جب حضرت بلالؓ نے اذان نہیں دی تو سورج نہیں چڑھا، صبح نہیں ہوئی اور اندھیرا باقی رہا۔” اگر اس جملے کو ظاہری معنوں میں لیا جائے تو یہ حقیقت کے مطابق معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ سورج کسی انسان کی آواز کا محتاج نہیں۔ کائنات کا نظام افراد کے گرد نہیں بلکہ ربِ کائنات کے حکم کے گرد گردش کرتا ہے۔ سورج اپنے مقررہ وقت پر طلوع ہوتا ہے اور اپنے مقررہ وقت پر غروب۔ مگر اس جملے کا راز فلکیات میں نہیں، انسانیات میں پوشیدہ ہے؛ اس کا تعلق آسمان کے سورج سے کم اور انسان کے اندر طلوع ہونے والے سورج سے زیادہ ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ سورج نکلا یا نہیں نکلا۔

اصل سوال یہ ہے کہ انسان کے اندر صبح ہوئی یا نہیں ہوئی؟

کیونکہ انسان کے وجود میں بھی ایک سورج رکھا گیا ہے، اور اس سورج کا نام خودی ہے۔

یہ وہ خودی نہیں جسے عام فہم میں غرور، تکبر یا خود پسندی کہا جاتا ہے۔ اقبالؒ کی خودی دراصل انسان کے اندر ودیعت کردہ وہ الٰہی جوہر ہے جو اسے اس کی اصل حقیقت، اس کے مقصدِ وجود اور اس کی ذمہ داری کا شعور عطا کرتا ہے۔ یہی وہ نور ہے جو انسان کو خواہشات کے ہجوم سے نکال کر مقصد کی طرف لے جاتا ہے، منتشر خیالات سے اٹھا کر مرکزیت عطا کرتا ہے، اور حیوانی زندگی سے بلند کر کے شعوری زندگی کے مقام تک پہنچاتا ہے۔ جب یہ خودی بیدار ہوتی ہے تو انسان کے اندر ایک نئی فجر طلوع ہوتی ہے۔ اس کی نگاہ بدل جاتی ہے، اس کے فیصلے بدل جاتے ہیں، اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں، حتیٰ کہ اس کی زندگی ایک نئے محور کے گرد گھومنے لگتی ہے۔ لیکن جب یہی خودی سو جائے تو باہر لاکھ سورج طلوع ہوں، اندر اندھیرا ہی باقی رہتا ہے۔

آج کا انسان اسی المیے کا شکار ہے۔ اس نے کائنات کو ناپ لیا مگر خود کو نہ جان سکا۔ اس نے سمندروں کی گہرائی اور ستاروں کی دوری کو ماپ لیا مگر اپنے دل کی وسعت اور اپنی روح کی پیاس کو نہ سمجھ سکا۔ اس نے معلومات کے پہاڑ کھڑے کر لیے مگر معرفت کا چراغ بجھا بیٹھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج علم بہت ہے مگر سکون کم، ذرائع بہت ہیں مگر مقصد کم، رابطے بہت ہیں مگر تعلق کم، اور آوازیں بہت ہیں مگر بیداری کم۔

یہی وہ مقام ہے جہاں اذان کی حقیقت سمجھ میں آتی ہے۔

اذان محض وقت کا اعلان نہیں، نہ ہی صرف نماز کی دعوت ہے۔ اذان دراصل انسان کے منتشر وجود کو اس کے اصل مرکز کی طرف بلانے والی ایک الٰہی صدا ہے۔ یہ ایک روحانی دستک ہے جو غفلت کے دروازے پر دی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی پکار ہے جو انسان کو یاد دلاتی ہے کہ تم صرف جسم نہیں ہو، تم صرف دنیا کے مسافر نہیں ہو، تم صرف خواہشات کا مجموعہ نہیں ہو؛ تم ایک زندہ روح ہو، ایک امانت دار شعور ہو، ایک ایسے سفر کے مسافر ہو جس کی منزل معرفت ہے۔

مگر یہاں ایک نہایت باریک اور اہم نکتہ ہے جسے ہم نے بتدریج فراموش کر دیا ہے۔ اذان کا اصل مقصد صرف آواز بلند کرنا نہیں۔ اگر محض بلند آواز ہی انسان کو بدل سکتی تو آسمان کی گرج سب سے بڑی دعوت ہوتی اور طوفان سب سے بڑے مربی ہوتے۔ مگر آواز صرف متوجہ کرتی ہے، تربیت نہیں کرتی۔ پکار صرف دروازے تک لاتی ہے، منزل تک نہیں پہنچاتی۔ اصل اذان وہ ہے جو انسان کو اپنے قریب بٹھائے، اس کے سوال سنے، اس کے باطن کی گرہیں کھولے، اس کے منتشر شعور کو یکجا کرے اور اس کی سوئی ہوئی خودی کو بیدار کر دے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں اقبالؒ کے تصورِ صحبت اور مرشدِ کامل کی اہمیت سامنے آتی ہے۔

انسان کتابوں سے معلومات حاصل کر سکتا ہے، مگر بیداری ہمیشہ زندہ انسانوں سے منتقل ہوتی ہے۔ آگ آگ سے جلتی ہے، چراغ چراغ سے روشن ہوتا ہے، اور شعور شعور سے بیدار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے  انبیاء بھیجے۔  انسان کی تربیت کے لیے ایک زندہ نمونہ، ایک زندہ معلم اور ایک زندہ مربی  ضروری ہے۔ اسی لیے انبیاء علیہم السلام صرف پیغام پہنچانے والے نہیں تھے، وہ دلوں کے معمار تھے، شخصیتوں کے معالج تھے، اور خودی کے بیدار کرنے والے تھے۔

حضرت بلالؓ کی اذان بھی اسی تربیتی نظام کا حصہ تھی۔ بلالؓ لوگوں کو بلاتے تھے، مگر رسول اکرم ﷺ ان کے اندر اترتے تھے۔ بلالؓ مسجد تک لاتے تھے، مگر مصطفیٰ ﷺ دلوں کو خدا تک لے جاتے تھے۔ بلالؓ پکار تھے اور محمد ﷺ اس پکار کی تکمیل۔ بلالؓ صدا تھے اور رسول اللہ ﷺ اس صدا کی روح۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت بلالؓ کو صرف ایک مؤذن سمجھ لینا ان کے مقام کو محدود کر دینا ہے۔ وہ دراصل اس نظامِ بیداری کے نمائندہ تھے جو انسان کو غفلت سے اٹھا کر شعور کے مقام پر کھڑا کرتا ہے۔

اسی لیے جب لوگ کہتے ہیں کہ بلالؓ نے اذان نہیں دی تو سورج نہیں چڑھا، تو اس کا اصل مطلب یہ نہیں کہ آسمان کا سورج رک گیا تھا؛ بلکہ یہ ہے کہ جب روحِ بلالی خاموش ہو جائے تو انسان کے اندر کی صبح رک جاتی ہے۔ پھر زندگی باقی رہتی ہے مگر زندگی کا مقصد کھو جاتا ہے، عبادت باقی رہتی ہے مگر اس کی تاثیر ختم ہو جاتی ہے، علم باقی رہتا ہے مگر حکمت رخصت ہو جاتی ہے۔ بلال کا اذان کا نا دینا حقیقت میں خودی کی بیداری کا کھو جانا ہے اس چاشنی کا نا رہنا ہے جو بلال کی تربیت میں میسر آتی تھی

رسمِ اذاں وہ ہے جب اذان صرف الفاظ بن جائے، جب آواز تو بلند ہو مگر شعور نہ جاگے، جب مساجد آباد ہوں مگر دل ویران رہیں، جب زبان پر اللہ اکبر ہو مگر دل میں دنیا اکبر بنی رہے، جب عبادت عادت بن جائے اور معرفت کی طلب ختم ہو جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دین ایک زندہ حقیقت کے بجائے ایک سماجی شناخت بن جاتا ہے، اور انسان عبادت تو کرتا ہے مگر بدلتا نہیں۔

حضرت بلالؓ کی عظمت صرف ان کی آواز میں نہیں تھی، بلکہ اس آگ میں تھی جو ان کے سینے میں جلتی تھی، اس یقین میں تھی جو تپتی ہوئی ریت پر بھی “احد، احد” کہتا رہا، اس بیدار خودی میں تھی جس نے غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر قربِ نبویؐ کی بلندیوں تک رسائی حاصل کی۔ اسی لیے بلالؓ محض ایک تاریخی شخصیت نہیں، ایک مکتب ہیں؛ محض ایک مؤذن نہیں، ایک تربیت ہیں؛ محض ایک آواز نہیں، ایک پیغام ہیں۔

ہر دور کو ایسے بلال درکار ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ جو انسان کو اس کے اندر واپس لے جائیں، جو اسے اس کے بکھرے ہوئے وجود سے نکال کر اس کے مرکز سے جوڑ دیں، جو اسے یاد دلائیں کہ اس کا سب سے بڑا مسئلہ معاشی نہیں بلکہ شعوری ہے، وسائل کی کمی نہیں بلکہ مقصد کی کمی ہے، معلومات کی کمی نہیں بلکہ معرفت کی کمی ہے۔

آج انسان نے دنیا کو سمجھ لیا ہے مگر خود کو بھول گیا ہے۔ اسی لیے اصل سوال یہ نہیں کہ سورج کب طلوع ہوا، اصل سوال یہ ہے کہ تمہارے اندر کی خودی کب طلوع ہوئی؟ کیونکہ جس دن خودی بیدار ہو جائے وہی حقیقی فجر ہے، جس دن شعور جاگ جائے وہی اصل صبح ہے، اور جس دن انسان اپنی حقیقت کو پہچان لے وہی اس کی معراج کا آغاز ہے۔

پھر باہر سورج نکلے یا نہ نکلے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ جس دل میں خودی کا سورج طلوع ہو جائے وہاں اندھیرا مستقل قیام نہیں کر سکتا۔ یہی اذان کا راز ہے، یہی روحِ بلالی ہے، یہی اقبالؒ کا پیغام ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو رسم سے حقیقت، آواز سے معرفت، اور غفلت سے بیداری کی طرف لے جاتا ہے۔

Loading