گولڈن ریکارڈ
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عالم نامہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ گولڈن ریکارڈ۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عالم نامہ)وائیجر 1 میں رکھا گیا گولڈن ریکارڈ ہمارے انسانوں کی طرف سے کائنات میں موجود ذہین خلائی مخلوق کےلیے ایک پیغام ہے۔ کہ ہم انسان اس بڑے کائنات میں کہا ہے. ہماری زبان سقافت روایات کیسے ہیں اس گولڈن ڈسک میں ہمارے پہچان اج زمین سے اربوں کلومیٹر دور تنہائی میں سفر کر رہا ہے اس امید کے ساتھ کہ شاید یہ کسی ذہین مخلوق کے ہاتھ لگ جائے گا۔ اس ریکارڈر کو ناسا نے 1977 میں دو خلائی جہازوں ووئیجر 1 اور ووئیجر 2 کے ساتھ خلا میں روانہ کیا۔ سائنس دانوں کا خیال تھا کہ اگر مستقبل میں کبھی یہ خلائی جہاز کسی غیر زمینی ذہین مخلوق تک پہنچ جائیں تو وہ اس ریکارڈ کی مدد سے زمین، انسانوں اور ہماری تہذیب کے بارے میں جان سکیں گے۔
گولڈن ریکارڈ ایک سنہری رنگ کی دھاتی ڈسک ہے جس کا قطر تقریبا 30 سینٹی میٹر ہے۔ اسے خاص طور پر اس طرح بنایا گیا کہ یہ کروڑوں سال تک خلا کے سخت ماحول میں محفوظ رہ سکے۔ اس کے ساتھ ایک سوئی اور اسے چلانے کی بنیادی ہدایات بھی دی گئی ہیں تاکہ کوئی بھی ذہین مخلوق اسے سمجھ کر استعمال کر سکے۔
اس ریکارڈ کے کور پر بنے ہوئے دائرے لکیریں اور مختلف نشانات صرف سجاوٹ نہیں ہیں بلکہ ایک مکمل ہدایت نامہ ہیں۔ ان نشانات کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ ریکارڈ کو کیسے چلانا ہے، سوئی کو کہاں رکھنا ہے اور اس کے اندر موجود معلومات کو کس طرح پڑھنا ہے۔ چونکہ ممکنہ طور پر خلائی مخلوق ہماری زبان نہیں جانتے ہوں گے، اس لیے یہ معلومات ریاضی اور طبیعیات کی بنیادی زبان میں دی گئی ہیں۔
کور پر ایک خاص نقشہ بھی بنایا گیا ہے جسے پلسر میپ کہا جاتا ہے۔ اس میں کائنات کے کئی پلسر ستاروں کی پوزیشن دکھائی گئی ہے۔ پلسر ایسے مردہ ستارے ہوتے ہیں جو انتہائی باقاعدگی سے ریڈیو لہریں خارج کرتے ہیں۔ ان کی مدد سے کوئی بھی ذہین مخلوق یہ اندازہ لگا سکتی ہے کہ یہ ریکارڈ کہکشاں میں کس مقام سے آیا ہے اور زمین کہاں واقع ہے۔
گولڈن ریکارڈ میں 115 تصاویر محفوظ کی گئی ہیں۔ ان تصاویر میں زمین کے مختلف مناظر پہاڑ دریا سمندر جنگلات جانور پرندے حشرات پودے انسانی جسم خاندان بچے اور روزمرہ زندگی مختلف ثقافتیں اور سائنسی کامیابیاں شامل ہیں۔ ان تصاویر کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ زمین پر زندگی کتنی حیرت انگیز ہے۔
اس میں زمین کی قدرتی آوازیں بھی شامل کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر سمندر کی لہروں کی آواز ہوا کے جھونکے بارش گرج چمک آتش فشاں پرندوں کی چہچہاہٹ وہیل مچھلیوں کی آوازیں دل کی دھڑکن اور دیگر قدرتی آوازیں۔ یہ سب آوازیں اس لیے شامل کی گئیں تاکہ کوئی بھی سننے والا زمین کی زندگی کا حقیقی احساس حاصل کر سکے۔
گولڈن ریکارڈ میں دنیا بھر کی موسیقی بھی محفوظ کی گئی ہے۔ اس میں مختلف قوموں اور تہذیبوں کی روایتی موسیقی کے ساتھ ساتھ کلاسیکی موسیقی بھی شامل ہے۔ موسیقی کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ موسیقی ایک ایسی چیز ہے جو زبان اور ثقافت کی حدود سے بالاتر ہو کر جذبات کا اظہار کر سکتی ہے۔
اس ریکارڈ میں 55 مختلف زبانوں میں سلام بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ان میں عربی انگریزی چینی ہندی اردو اور دنیا کی بہت سی دوسری زبانیں شامل ہیں۔ کچھ زبانوں میں مختصر پیغامات بھی دیے گئے ہیں جن میں انسانیت کی طرف سے امن اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے۔
امریکہ کے اس وقت کے صدر جمی کارٹر اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کرٹ والڈہائم کے خصوصی پیغامات بھی اس ریکارڈ میں شامل کیے گئے تھے۔ ان پیغامات میں زمین کے لوگوں کی طرف سے دوستی اور امن کا پیغام دیا گیا تھا۔
اس پورے منصوبے کی قیادت مشہور فلکیات دان کارل سیگن نے کی تھی۔ ان کے ساتھ سائنس دانوں، ماہرین موسیقی فنکاروں اور مختلف شعبوں کے ماہرین کی ایک ٹیم نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ زمین کی نمائندگی کے لیے کون سی معلومات شامل کی جائیں۔
ووئیجر 1 اج انسانوں کی بنائی ہوئی سب سے دور جانے والی مشین بن چکا ہے۔ یہ اب سورج کے اثر و رسوخ والے علاقے سے بھی باہر نکل کر بین النجمی خلا میں سفر کر رہا ہے۔ دوسری طرف ووئیجر 2 بھی مسلسل اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دونوں خلائی جہاز اربوں کلومیٹر دور خلا میں سفر کر رہے ہیں۔
شاید یہ ریکارڈ کبھی کسی غیر زمینی مخلوق تک نہ پہنچے، اور شاید اسے کروڑوں سال تک کوئی نہ دیکھے۔ لیکن اس کے باوجود گولڈن ریکارڈ انسانیت کی ایک خوبصورت کوشش کی علامت ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان صرف اپنے سیارے تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ وہ کائنات کو سمجھنے، اپنی کہانی سنانے اور دوسرے ممکنہ ذہین جانداروں سے رابطہ قائم کرنے کا خواب بھی دیکھتا ہے۔
یہ سنہری ڈسک آج بھی خلا میں سفر کر رہی ہے، اپنے ساتھ زمین کی آوازیں تصویریں موسیقی زبانیں اور انسانیت کی یادیں لے کر۔ یہ دراصل کائنات میں بھیجا گیا ایک وقت کا کیپسول ہے جو آنے والے کروڑوں سال تک یہ گواہی دیتا رہے گا کہ کبھی ایک چھوٹے سے نیلے سیارے پر ایک ایسی مخلوق رہتی تھی جو ستاروں کی طرف دیکھ کر سوال پوچھتی تھی اور کائنات کے راز جاننے کی کوشش کرتی تھی۔
تخریر۔۔۔۔۔عالم نامہ Aalam nama
![]()

