Daily Roshni News

۔79 سال تقریروں کے باوجود بھی مسجد سے چپل چوری ہوتی ہے۔

79 سال تقریروں کے باوجود بھی مسجد سے چپل چوری ہوتی ہے۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جواب  :حقیقت میں تقریر میں کمی نہیں۔ ورنہ یہ تو عام انسانی فطرت ہے کہ چوری غلط ہے۔ یہ تقریر یا دین کی کمزوری نہیں۔

*نظام کا نام تھا، نظام اسلام کا نہیں تھا*

79 سال سے ریاست کا نام اسلامی ہے، مگر قانون، تعلیم، معیشت، عدلیہ، پولیس، سزا و جزا سب پر مغربی نظام۔۔۔۔۔ حدود معطل، تعزیرات کمزور، بدل ناقص۔ جب نظام ہی اسلام کا نہ ہو تو صرف  تقریر سے معاشرہ نہیں بدلتا۔ قرآن کا اصول واضح ہے: ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم۔ اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود نظام اور عمل نہ بدلیں۔ رعد 11۔

مسجد میں جوتا چوری ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ریاستی نظام نے فرد کو لگام نہیں دی۔ نہ نظام اسلام کا قائم کیا، نام اسلام کا، عمل برطانیہ کا۔ تو نتیجہ برطانیہ والا ہی نکلے گا۔ شکوہ ان سے کرو جنہوں نے نظام نہیں دیا۔

دین کا حکم مکمل تھا، نفاذ نہیں تھا

اسلام نے چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا مقرر کی۔ مقصد بدلہ نہیں، خوف تھا۔ تاکہ کوئی ہاتھ بڑھانے سے پہلے ہزار بار سوچے اور امن قائم ہو جائے۔ مگر جب سزا عدالتوں میں 20 سال لٹکے، وکیل جھوٹ بیچے، پولیس مدعی سے پیسے مانگے، اور قانون دفعہ 220، 302 کا کھیل بن جائے تو مجرم بے خوف ہو جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسجد نبوی کا نظام کیسا تھا؟ جب بھی اسلامی نظام قائم رہا، تاریخ گواہ ہے کہ سونا راتوں رات راستوں پر پڑا رہا، کسی نے اٹھانے کی جرأت نہیں کی۔ کیونکہ نظام بھی کھڑا تھا۔ آج ایمان کمزور اور نظام لاغر، تو جوتا بھی غیر محفوظ۔

دنیا کی مثال سے بات سمجھیں

یورپ نے 1000 سال عیسائیت کے نام پر حکومت کی، پھر بھی چرچ سے چندہ چوری ہوتا تھا۔ جاپان 150 سال سے سیکولر ہے، وہاں لاکر کٹ جاتے ہیں۔ لاکھوں کیمرے ہونے کے باوجود سامان محفوظ نہیں۔ امریکہ میں ہر 5 سیکنڈ بعد چوری رپورٹ ہوتی ہے، گرجے کھلے ہیں مگر خیرات کا صندوق تالا لگا کر رکھتے ہیں۔

یہ ثابت کرتا ہے کہ مسئلہ مذہب کا نہیں، نظام کے نفاذ کا ہے۔ جہاں قانون ہو، نظام ہو، سزا فوری اور نگرانی سخت ہو، وہاں چوری کم ہوتی ہے۔ چاہے مسجد ہو یا پارلیمنٹ۔

ورنہ ریاستی اور عدالتی سطح پر بڑی چوری کس وجہ سے ہوتی ہے؟

اصل حل صرف نظام ہے

1) نظام کا نفاذ: اسلام نام سے نہیں، حدود و تعزیرات کے عملی نفاذ سے قائم ہو گا۔ جب چور کو فوری، شفاف سزا ملے گی تو ہاتھ خود رک جائے گا۔ قانون کا خوف ایمان کے بعد دوسری دیوار ہے۔ اور یہی امن ہے۔

2) معاشی نظام: زکوٰۃ، عشر، بیت المال کا حقیقی نظام۔ جب پیٹ بھرے گا تو ہاتھ چوری کی طرف کم جائے گا۔ معیشت جب ظالمانہ تقسیم دولت پر کھڑی ہو تو ایسا ہی ہوتا ہے۔

3۔) تربیت + نگرانی: یہ سب جب بزور قانون شرعی نہ ہو تو وعظ کی حد تک رہ جاتی ہے۔

(خلاصہ)

مسجد میں جوتا خطرے میں ہے کیونکہ 79 سال میں اسلام کا نظام نافذ ہی نہیں ہوا۔ صرف نام، تقریر اور نعرہ رہا۔ جب تک مکمل اسلامی نظام نافذ نہیں ہو گا، حدود جاری نہیں ہوں گی، عدالتیں تیز نہیں ہوں گی، معیشت عادلانہ نہیں ہو گی، تب تک جوتا بھی غیر محفوظ رہے گا اور جان و مال بھی۔ الزام دین پر نہیں، ادھورے نظام پر ہے۔ نظام آئے گا تو امن آئے گا۔ نظام کے بغیر تقریر ہوا ہے۔

اب یہ مت کہنا کہ تم مسلمان نہیں جو اس طرح چوری کرتے ہو۔

جواب یہ ہے کہ یہ نظام آیا ہی مسلمانوں کے لیے ہے، اس لیے۔ صرف وعظ و نصیحت نہیں، قانون ہے۔

رد الالحاد و الفساد

Loading