Daily Roshni News

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ہیبت سے قیصر و کسریٰ کے محل کانپتے تھے

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ہیبت سے قیصر و کسریٰ کے محل کانپتے تھے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یہ سچا واقعہ ہے مدینہ منورہ کا، جہاں خلیفہ وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ہیبت سے قیصر و کسریٰ کے محل کانپتے تھے، لیکن ان کا اپنا حال یہ تھا کہ وہ راتوں کو اپنی نیند قربان کر کے مدینہ کی گلیوں میں گشت کیا کرتے تھے تاکہ اپنی رعایا کا حال معلوم کر سکیں۔

ایک سرد رات، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے غلام اسلم کے ساتھ مدینہ سے دور ایک ویران علاقے کی طرف نکلے۔ اچانک دور انہیں ایک چھوٹا سا خیمہ نظر آیا جس کے اندر سے ہلکی سی روشنی آ رہی تھی اور کسی بچے کے رونے کی آوازیں گونج رہی تھیں۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ خیمے کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ ایک غریب ماں چولہے پر ہانڈی چڑھائے بیٹھی ہے، بچے بھوک سے تڑپ رہے ہیں اور رو رو کر نڈھال ہو رہے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور پوچھا: “مائی! یہ بچے کیوں رو رہے ہیں اور اس ہانڈی میں کیا پک رہا ہے؟”

اس غریب خاتون نے روتے ہوئے جواب دیا: “اے مسافر! اس ہانڈی میں کچھ نہیں ہے، صرف پانی اور چند پتھر ہیں جو میں نے بچوں کو بہلانے کے لیے چولہے پر رکھے ہیں تاکہ وہ یہ سمجھیں کہ کھانا پک رہا ہے اور وہ تھک کر سو جائیں۔ ہم کئی دنوں سے بھوکے ہیں۔” پھر اس نے آٹھو آنسو روتے ہوئے کہا: “ہمارا کوئی سہارا نہیں، اور میرے اور عمر (رضی اللہ عنہ) کے درمیان اللہ فیصلہ کرے گا، جس نے ہماری کوئی خبر نہیں لی۔”

یہ سننا تھا کہ خلیفہ وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دل کانپ اٹھا اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ وہ خاتون نہیں جانتی تھی کہ اس کے سامنے کھڑا مسافر ہی عمر ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک پل بھی ضائع نہیں کیا اور فوراً بیت المال کی طرف بھاگے۔ وہاں سے آٹے کی بوری، گھی، کھجوریں اور بیت المال کا سامان اٹھایا۔ غلام اسلم نے کہا: “امیر المؤمنین! یہ وزن میں اپنے سر پر اٹھا لیتا ہوں۔” لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: “کیا قیامت کے دن میرا بوجھ تم اٹھاؤ گے؟”

آپ رضی اللہ عنہ نے خود وہ بھاری بوری اپنے سر پر اٹھائی اور واپس اس خیمے کی طرف دوڑے۔ وہاں پہنچ کر آپ نے خود چولہے میں پھونکیں مار کر آگ جلائی، آٹا گوندھا اور اپنے مبارک ہاتھوں سے کھانا تیار کر کے ان معصوم بچوں کو کھلایا۔ جب بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ آئی اور وہ پیٹ بھر کر سو گئے، تب جا کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دل کو سکون ملا۔

خاتون نے حیرت اور عقیدت سے دیکھ کر کہا: “واللہ! خلیفہ بننے کے حقدار عمر کے بجائے تم ہو!” تب آپ رضی اللہ عنہ نے مسکرا کر فرمایا: “مائی! جب تم کل خلیفہ عمر کے پاس جاؤ گی، تو مجھے وہیں پاؤ گی۔” اگلے دن جب وہ عورت دربارِ خلافت پہنچی اور اپنے سامنے اسی مسافر کو خلیفہ کی مسند پر دیکھا، تو وہ شرمندہ ہونے لگی، لیکن عدالتِ عمر نے اسے وظیفہ جاری کیا اور اپنی کوتاہی پر خدا سے معافی مانگی۔

💡 سبق (Moral):

سچی قیادت اور حکمرانی صرف طاقت کا نام نہیں، بلکہ اپنے ماتحت اور کمزور لوگوں کے دکھ درد کو محسوس کرنے اور ان کی خدمت کرنے کا نام ہے۔ جو حکمران اپنی آڈینس اور عوام کے حقوق کا خیال رکھتا ہے، تاریخ اس کا نام ہمیشہ کے لیے امر کر دیتی ہے۔

کمنٹس میں اپنی رائے دیں 👇

عدالتِ عمر کے اس دل کو چھو لینے والے واقعے کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟ کیا آج کے دور میں ہمیں ایسے مخلص لیڈرز کی ضرورت ہے؟ نیچے کمنٹس میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار کریں اور اس واقعے کو لازمی شیئر کریں۔

فیس بک پر روزانہ ایسے ہی بہترین، سچے، تاریخی اور سبق آموز واقعات سننے کے لیے ہمارے پروفائل پیج Muzammil Sadaqat کو ضرور فالو کریں۔ آپ کا ایک فالو ہماری حوصلہ افزائی کرتا ہے! 📢✨

#SabakAmozWaqiat #UrduStories #MuzammilSadaqat #IslamicHistory #HazratUmar #JusticeOfUmar #FacebookViral #TrendingUrdu

Loading