وہ خدا سے ملا تھا۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )نہ کسی پہاڑ کی چوٹی پر، نہ کسی سنسان غار میں، نہ کسی کرامت کے ہنگامے میں۔وہ خدا سے ملا تھا ایک ٹوٹے ہوئے لمحے میں۔
جب دنیا کے سارے دروازے بند ہو گئے تھے، جب امید کے آخری چراغ کی لو کانپ رہی تھی، جب آنسو دعا بن کر ہونٹوں سے نکلے تھے اور دل نے پہلی بار اپنی بے بسی کا اعتراف کیا تھا۔
اس رات اسے یوں محسوس ہوا جیسے کائنات کی ساری خاموشیاں ایک جواب میں ڈھل گئی ہوں۔ دل کے اندر ایک نور اترا، ایک سکون جاگا، ایک یقین نے جنم لیا۔
اس نے سجدے میں سر رکھا اور رو پڑا۔
مدتوں بعد اسے لگا کہ وہ تنہا نہیں۔
پھر دن بدلنے لگے۔
مشکلیں آسان ہو گئیں، دعائیں قبول ہونے لگیں، رزق کے در وا ہوئے، چہرے پر رونق لوٹ آئی۔ زندگی نے پھر سے اپنے رنگ بکھیرنے شروع کر دیے۔
اور یہی وہ مقام تھا جہاں کہانی نے رخ بدلا۔
جس ہستی کو وہ تاریکی میں پکارتا تھا، روشنی میں اس کی آواز دھیمی پڑنے لگی۔ سجدے مختصر ہو گئے، شکر کے الفاظ کم ہوتے گئے، اور دنیا کی چمک دمک نے دل کے دریچوں پر پردے ڈال دیے۔
وہ مصروف ہوتا گیا۔
اتنا مصروف کہ جس ذات نے اسے سنبھالا تھا، اسی کو یاد کرنے کی فرصت نہ رہی۔
ایک شام وہ آئینے کے سامنے کھڑا تھا۔ کامیابیاں اس کے گرد تھیں، آسائشیں اس کے قدموں میں، مگر دل میں ایک عجیب سی ویرانی تھی۔
تب کہیں اندر سے ایک صدا ابھری:
“جب تم ٹوٹے ہوئے تھے، تب تم میرے قریب تھے۔ اب تم سنور گئے ہو، تو خود کو کافی سمجھنے لگے ہو۔”
وہ لرز گیا۔
اسے یاد آیا کہ وہ کبھی خدا سے ملا تھا۔
مگر پھر زندگی کے شور میں، نعمتوں کے ہجوم میں، خواہشوں کی گرد میں…
بھول گیا۔
اور اسے اس لمحے یہ راز سمجھ آیا کہ خدا کو کھویا نہیں جاتا، صرف بھلا دیا جاتا ہے۔
اور انسان کی سب سے بڑی محرومی یہ نہیں کہ اسے خدا نہ ملے؛
بلکہ یہ ہے کہ خدا مل جائے، اور پھر وہ اسے یاد رکھنا بھول جائے۔
#منقول
مزید ایسی کہانیوں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کریں:
👉 https://whatsapp.com/channel/0029Vb7Z50j7z4ko6GfJw040
![]()

