Daily Roshni News

لندن کی فضاؤں سے۔۔۔سو سال پہلے…تحریر۔۔۔فیضان عارف

لندن  سے ایک خط

فیضان  عارف

سو سال پہلے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔لندن کی فضاؤں سے۔۔۔تحریر۔۔۔فیضان عارف) عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ا نسان  کی لمبی عمر کاتعلق اچھی غذا، ماحول اور لائف سٹائل سے ہوتا ہے، جو لوگ متوازن  خوراک کھاتے، ورزش کرتے اور سادگی کو اپناتے ہیں وہ طویل ز ندگی پاتے ہیں۔ ذہنی طور پر پرسکون رہنے والے انسان ہر طرح کی بیماریوں اور امراض سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ میڈیکل سائنس کی یہ توجیحات اپنی جگہ اصل حقیقت یہ ہے کہ صحت اور زندگی خالصتاً اللہ کا کرم ہے۔ انسانی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پہلے وقتوں میں لوگوں کی عمریں کئی سو سال اور جسامت کئی گنا زیادہ ہوا کرتی تھی۔ طویل زندگی کے حوالے سے مجھے یہ خیال اس لئے آیا کہ گزشتہ ہفتے یونائیٹڈ کنگڈم میں ڈیوڈایٹنبرا (DAVID ATTENBOROUGH)کی سوویں سالگرہ کا بہت چرچا رہا۔ گزر نے والے ستر پچھتر سال کے دوران پوری د نیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے وائلڈ لائف یعنی جانوروں، پرندوں، حشرات الارض اور نباتات کے علاوہ سمندروں، صحراوں، دریاؤں، جنگلوں اور پہاڑوں کے بارے میں ڈیوڈایٹنبرا کی دستاویزی فلمیں اور پروگرام نہ دیکھے ہوں۔ اس ایک شخص نے ہمیں دنیا کے ایسے ایسے اسرار ورموز سے آگاہ کیا جن کے بارے میں معلومات سے ہم پر غور و فکر کے  نئے دروازے کھلے اور دیگر مخلوقات کے بارے میں ہماری دلچسپی میں اضافہ ہوا۔

       گریٹ بریٹن میں صرف ڈیوڈ اٹینبرا نے ہی اپنی عمرکی ایک صدی مکمل نہیں کی بلکہ اس ملک میں 16 ہزار چھ سو افراد ایسے ہیں جن  کی عمریں سو برس سے زیادہ ہیں اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ِان میں اکثریت خواتین  کی ہے یعنی13600 عورتیں اپنی زندگی کی سینچری مکمل کر چکی ہیں۔ ویسے بھی یوکے میں عورتوں کی اوسط عمر83 سال اور مردوں کی79 برس ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ اوسط عمر مناکو کے لوگوں کی ہوتی ہے اس ملک کے رہنے والے ساڑھے چھیاسی برس کی عمر تک بقید حیات رہتے ہیں جبکہ سب سے کم عمر کا تناسب افریقی ممالک نائیجیریا، چاڈاور سوڈان کے لوگوں کا ہے جہاں کے مکینوں کی اوسط عمر 53 اور 54 سال کے درمیان  ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ جن ملکوں اور خطوں میں متوازن غذا اور صحت کی سہولتوں کی قلت ہے، کھا نے پینے کی اشیا میں مضر صحت چیزوں کی ملاوٹ معمول بن  چکا ہے، صاف پانی کی دستیابی کا فقدان ہے اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے وہاں نہ صرف بیماریوں اور امراض نے عام لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے بلکہ وہاں اوسط عمر کا تناسب بھی وقت گزر نے کے ساتھ ساتھ کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ برطانیہ میں لوگوں کی لمبی عمر کا ایک راز یہ بھی ہے کہ یہاں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی عمر رسیدہ لوگ فعال رہتے اور خود کو مثبت کاموں میں مصروف رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یو کے میں بوڑھے لوگوں کی دیکھ بھال اور علاج معالجے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ انگریزوں کی اکثریت بڑھاپے میں بھی انڈی پینڈنٹ لائف گزارنا پسند کرتی ہے۔جب تک وہ چلنے پھر نے کے قابل رہتے ہیں وہ اپنے سب کام خود کرنا پسند کرتے ہیں۔ ضعیف لوگوں کی بڑی تعداد خریداری کے علاوہ بل بھر نے، میڈیکل چیک اپ کے لئے ہسپتال یا ڈاکٹرکے پاس جانے،اپنے دیگر معمولات اور کام کر نے کو خود ترجیح دیتی ہے۔ ایسے بزرگوں کی اکثریت جو اپنے گھر پر تنہائی سے عاجز آجاتی ہے وہ نرسنگ ہوم یا کیئر ہوم میں رہنا پسند کرتی ہے۔ برطا نیہ میں جولوگ اپنی سوویں سالگرہ مناتے ہیں انہیں شاہی خا ندان  (بادشاہ) کی طرف سے مبارکباد کا خصوصی کارڈ بھیجا جاتا ہے۔

      گزر نے والی ایک صدی کے دوران  ٹیکنا لوجی کی ترقی کے باعث ہماری یہ د نیا آسائشوں اور سہولتوں سے بھر پور ہوگئی ہے۔ میڈیکل سائنس کے ارتقا اور تحقیق کے  نتیجے میں مختلف بیماریوں اور امراض کا علاج بھی اب آسان ہو گیا۔ ایسی وبائیں اور بیماریاں جنہوں نے گزشتہ صدی کے دوران  لاکھوں لوگوں کو لقمہ اجل بنا لیا تھا اب چند گولیوں، ویکسین یا نشتر (انجیکشن) سے اس کا علاج ممکن  ہے۔ سو سال پہلے اوپن  ہارٹ سرجری، کڈ نی ٹرانسپلانٹ، آ نکھوں کے موتیے اور کینسر وغیرہ کے علاج کا تصور تک نہیں تھا مگر اب نیورو سرجری کے پیچیدہ مراحل بھی آسان اورممکن بنا نے کے لئے میڈیکل سائنس کی ترقی کا سفر جاری ہے۔ سو برس پہلے تک انسان  کو ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک پہنچنے کے لئے کئی مہینے اور سال لگ جاتے تھے مگر اب یہی فاصلے گھنٹوں اور دنوں میں طے ہو جاتے ہیں۔پچھلی صدی میں اگر دنیا کے کسی ایک حصے میں کوئی واقعہ یا سانحہ رونما ہوتا تھا تو اس کی خبر اور اطلاع کرہ ارض کے دوسرے حصے تک پہنچنے میں کئی ہفتے لگ جاتے تھے مگر اب ٹیکنالوجی نے پوری دنیا کو سمیٹ کر موبائل فون کی سکرین  تک پہنچا دیا ہے۔ دنیا بھر کے انسانوں کے آپس میں برق رفتار رابطے کی جو سہولت اب ہمیں میسر ہے سو سال پہلے کوئی بھی انسان ان  امکانات کے بارے میں قیاس بھی نہیں کر سکتا تھا۔

      اس وقت پوری دنیا میں سوا چھ لاکھ سے زیادہ لوگ ایسے ہیں جن کی عمریں ایک صدی سے بھی زیادہ ہیں۔ صرف جاپان میں ایک لاکھ بیس ہزارسے زیادہ افراد اپنی عمر کی سو سے زیادہ بہاریں دیکھ چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں ایک بڑی تعداد ایسے بزرگوں کی ہے جو آج بھی تندرست ہیں،اُن کا حافظہ، بینائی اور ہاتھ پاؤں سلامت ہیں بلکہ ان میں سے کئی بزرگ تو ایک سو دس سال کی عمر کا ہندسہ بھی عبور کر چکے ہیں۔

      میں سوچتا ہوں کہ ایسے لوگ کتنے خوش نصیب ہیں جو اپنی عمر کی ایک صدی مکمل کر چکے ہیں اور اُن کی صحت اور یادداشت قائم ہے۔ اِن لوگوں نے گزرے ہوئے سو برسوں میں اس دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا۔ یہ نایاب لوگ اس کرہ ارض کی برق رفتار ترقی کے گواہ ہیں۔ گزشتہ ایک صدی کے دوران نئی سے نئی ایجادات اور دریافتوں نے اس کائنات کو جس نہج تک پہنچا دیا ہے یہ لوگ اس کے شاہد ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کئی قوموں کے عروج و زوال اور ملکوں کو ٹوٹتے بنتے دیکھا (ایک صدی پہلے تک اس دنیا میں صرف 84 ملک تھے جن  کی تعداد اب 195 تک پہنچ چکی ہے)۔ جو لوگ ایک صدی سے زیادہ زندہ رہے یا زندہ اور صحت مندہیں اُن سے ایک سوال سب سے زیادہ پوچھا جاتا ہے کہ اُن  کی لمبی عمر اور صحت کا راز کیا ہے؟ ان عمر رسیدہ یا ضعیف لوگوں  نے اس ایک سوال کا تقریبا ایک جیسا جواب دیا۔ انہوں  نے کہا کہ لمبی اور اچھی زندگی کا راز سادگی اور سٹریس فری یعنی کسی قسم کے ذہنی دباؤ سے آزاد رہنے میں مضمر ہے۔صاف ستھری اورسادہ غذا انسانی زندگی کے لئے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔

       کئی برس پہلے کی بات ہے کہ ایک شخص کی ایک سو پانچویں سالگرہ پر بہت سے لوگ اُسے مبارکباد دینے آئے، مبارک دینے والا ہر شخص اس بزرگ سے یہ ضرور پوچھتا کہ لمبی عمر کا راز کیا ہے؟ وہ ہر ایک کو یہی جواب دیتا کہ سادہ خوراک،سادہ لباس، سادہ طرز زندگی اور کسی بھی قسم کی ٹینشن  کو سر پر سوار نہ کرنا۔ اس بزرگ نے محسوس کیا کہ استفسار کرنے والے کسی بھی شخص کی اس کے جواب سے تسلی نہ ہوتی۔ اس ضعیف آدمی کے بیٹے اور پوتے کیلوں کی فروخت کا کاروبار کرتے تھے چنانچہ وہ ہر ایک کو بتانے لگا کہ روزآنہ دو کیلے کھانے سے عمر لمبی ہوتی ہے۔ یہ جواب سن  کر  نہ صرف ہر ایک کی تسلی ہوجاتی بلکہ ہر شخص نے روزآنہ دو کیلئے کھانے کو معمول بنا لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس بزرگ کے بیٹوں اور پوتوں کا کاروبار دن دوگنی ترقی کر نے لگا۔

      ہماری اس دنیا میں جو لوگ اپنی عمر کے سو سال مکمل کر کے روبہ صحت اور روبہ حیات ہیں، ہمیں اُن کی قدر کرنی چاہیے۔ معلوم  نہیں ہماری نسل کے کتنے لوگ ایسے ہوں گے جو اپنی زندگی کی سو بہاریں دیکھ پائیں گے؟ جو بچے حال ہی میں پیدا ہوئے ہیں اگر وہ سو برس تک جیتے رہے تو معلوم نہیں وہ آ نے والی صدی کے دوران  کیسے کیسے انقلابات زمانہ کو دیکھیں گے اور ہم جس دنیا کو ان  کے لئے چھوڑ کر جائیں گے وہ سو برس بعدکس طرح کی ہو گی؟

٭٭٭

Loading