Daily Roshni News

درگاہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی کا ایک قلبی مشاہدہ۔۔۔قسط نمبر1

درگاہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی کا ایک قلبی مشاہدہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سلسلہ عظیمیہ  کے خانواہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی کا وصال 21 فروری 2025ء کو ہوا۔ چند ہفتوں بعد ہی آپ کے صاحب زادے، سلسلہ عظیمیہ کے سربراہ ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی نے اپنے والد اور سلسلہ عظیمیہ   کے خانوادہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی ؒ کی  در گا ہ تعمیر  کرنے کے لیے پاکستان کے ہر  آرکیٹیکٹس سے رابطے کیے۔

 ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی کی خواہش ہے کہ ان کے عظیم المرتبت والد حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؒ کی درگاہ حضرت کی شخصیت اور افکار کے ساتھ ساتھ صدیوں کی رخشندہ صوفیانہ روایات کی عکاس بھی ہو۔ اس درگاہ کے لیے کراچی کے ایک ممتاز آرکیٹیٹ فہیم انور کھتری صاحب کا تیار کردہ ڈیزائن قلندر شعور فاؤنڈیشن نے منظور کیا۔ اس ڈیزائن کی تقریب رونمائی 17 اکتوبر 2025ء کو کراچی میں ہوئی۔ اس تقریب میں مراقبہ ہال کے نگراں، قلندر شعور فاؤنڈیشن کے اراکین اور سلسلہ عظیمیہ کے چندسینئر اراکین نے شرکت کی۔ بعد ازاں اس تقریب کی ویڈیو مراقبہ ہال میں بھی دکھائی گئی۔ اس پر یز مینٹیشن پر اسلام آباد میں مقیم سلسلہ عظیمیہ کے ایک سینئر رکن جناب مرسلین احمد کے تاثرات روحانی ڈائجسٹ کے قارئین کی خدمت میں پیش کیے جارہے ہیں۔

تعارف : یہ  تحریر سلسلہ عظیمیہ کے خانوادہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی کی درگاہ کی تھری ڈی پیشکش کے شاہدے پر مبنی ایک روحانی تاثر ہے۔ اس میں محض فن تعمیر کا ذکر نہیں بلکہ اس نورانی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے جو ایک عقیدت مند مرید کے دل پر وارد ہوتی ہے۔ یہ مضمون در اصل باطنی کیفیات کا اظہار ہے۔

 یہ  پریزینٹیشن دیکھتے ہوئے ایک مسرت اور روحانی انبساط کا احساس ہوا۔ آنکھوں نے ایک خاصروشنی کو محسوس کیا۔یہ پیش کش میرے نزدیک محض ایک فنی نمونہ نہیں بلکہ ایک روحانی تجربہ ہے، ایک ایسا لطیف عکس جو مر شد کریم کی بابرکت شخصیت، ان کی سادگی، وقاراور ذوق جمال کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ اس میں سادگی کی مٹھاس ہے، جو انسانی روح کو بے ساختہ سکون عطا کرتی ہے، جدید طرز تعمیر کی ترتیب بھی ہے جو فنی مہارت اور جمالیاتی ذوق کی عکاس ہے اور سب سے بڑھ کر وور وحانی توازن ہے جو مرشد کریم کی تعلیمات اور مشن کا خاصہ ہے۔ یہ توازن نہ صرف مادی جمالیات میں محسوس ہوتا ہے بلکہ ایک نرمی اور روشنی کی ہم آہنگی بھی ظاہر ہوتا ہے، جود یکھنے والے کے دل و دماغ کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ کر دیتا ہے۔در گاہ کا یہ ڈیزائن محض ایک فن پار نہیں، بلکہ ایک روحانی تجربہ ہے جو دل و دماغ کو فیضان کی روشنی سے منور کرتا ہے۔ یہاں موجود ہر سامیہ اور روشنی، ہر نقش اور ہر زاویہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ انسان کے اندر چھپی ہوئی روحانی گہرائیوں کو بیدار کر رہا ہو اور ہر نظر کو ایک نئے شعور ، ایک نئی وسعت اور ایک مایک تی وسعت اورا نئی بصیرت عطا کر رہا ہو۔

داخلی دروازه ایک روحانی عالم کی سرحد

 داخلی دروازے سے قدم رکھتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسان ایک نئی دنیا میں داخل ہو گیا ہو، ایک ایسی دنیا جہاں خاموشی بولتی ہے، روشنی ذکر بن جاتی ہے اور فضا میں ایک غیر مرئی تقدس کی نرمی پھیل جاتی ہے۔ دروازے کی چوکھٹ پر کھڑے ہوتے ہی دل کی دھڑکن جیسے بدل جاتی ہے۔ گویا نگاہوں کے سامنے موجود ہر زاویہ کسی اور جہان کا در کھول رہا ہو ۔ قدم خود بخود رک جاتے ہیں، جیسے دل اجازت مانگ رہا ہو کہ کیا میں اس نوری وادی میں داخل ہو سکتا ہوں ….؟جالی دار دروازوں پر بنے مشرقی طرز کے نقش و نگار ہماری تہذیب کے وقار، روحانی لطافت اور جمالیاتی ورثے کے امین ہیں۔ ان میں صرف فن تعمیر کی نزاکت نہیں بلکہ ایک پوری تاریخ کی خاموش صدا سنائی دیتی ہے۔ ہر نقش، ہر خمیدہ لکیر میں محبت کا پیام ہے۔ یہ دروازے صدیوں کے اس احساس کو زندہ کرتے ہیں کہ اس مرکز میں داخل ہونا دراصل باطن کے دروازے پر دستک کے مترادف ہے۔ دروازہ پار کرتے ہی دل میں ایک انجانی راحت اترتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہوا کا ہر جھونکا خیر مقدم کر رہا ہے اور ہر ڈرے سے محبت کی خوشبو پھوٹ رہی ہے۔

 صحن،محبت، فطرت اور سکون کا سنگم

 صحن میں لگے سر سبز اور سایہ دار شجر مرشد کریم کے ذوق لطیف کا ایک جمالی حسن اور فطرت سے دوستی کے حسین امتزاج کی علامت ہیں۔ ہر درخت، ہر پاتی اور ہر کلی یہ سب جیسے ایک ذوق جمال کی کہانی سنا رہے ہیں۔ مرشد کریم کو باغ بانی سے جو انس و محبت تھی، وہ یہاں کی ہر شاخ، ہر خوشبو اور ہر رنگ میں بولتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ یہ منظر بتاتا ہے کہ ان کے نزدیک فطرت سے محبت دراصل خالق سے محبت کا ایک رنگ، ایک عبادت اور ایک خاموش تسبیح ہے۔ صحن کے وسط میں واقع تالاب اس پورے منتظر کو ایک خاص کشش اور توازن عطا کرتا ہے۔ اس کے شفاف پانی میں آسمان کا عکس ایسا لگتا ہے جیسے زمین اور آسمان کے بیچ کوئی لطیف مکالمہ جاری ہو۔اس تالاب کے کنارے کھڑے ہو کر نگاہ اوپر اٹھتی ہے تو دعا بن جاتی ہے، بیچے جھکتی ہے تو شکر کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ یہ مقام دراصل مراقبے کا وہ لمحہ بن جاتا ہے جہاں انسان خود کو کا نات کے ساتھ جڑا ہوا محسوس کرتا ہے۔صحن کی ساخت بھی دل آویز ہے، اوپر سے ڈھکی ہوئی بھی ہے اور کھلی ہوئی بھی۔ یہ امتزاج انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ یہاں سایہ بھی روشنی کا حصہ ہے۔ چھت پر نصب ہوادار شامیانہ سے چھن کر آتی دھوپ جب زمین پر بکھرتی ہے تو سایہ کے جو نقش بنتے ہیں، وہ دل کو ایک عجیب سا سکون دیتے ہیں۔ کبھی وہ روشنی پھولوں کی طرح جھلک کر رنگوں کو نیا روپ عطا کرتی ہے، کبھی فرش پر گول دائرے بناتی ہے جو گھومتی روشنیوں کی مانند لگتے ہیں۔ یہ صحن محض ایک تعمیراتی حصہ نہیں، بلکہ ایک روحانی تجربہ گاہ بھی ہے۔ لیکچر بالفکر و وجدان کا مرکز

صحن کے ساتھ منسلک ایک پر سکون ہال میں داخل ہوتے ہی نگاہ سب سے پہلے دیوار پر آویزاں ایک بینر پر ٹھہرتی ہے جس پر لکھا ہے ”خوشی اور تم “۔ اس جملے کے ساتھ مرشد کریم کے چہرہ مبارک کا مسکرایا ہوا عکس دل کو چھو جاتا ہے۔ لمحہ بھر کے لیے وقت تھما ہوا محسوس ہوا اور دل کی گہرائیوں سے شکر اور محبت کی کیفیت ابھر نے لگتی ہے۔ ایسا لگتا۔۔۔جاری ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈ ائجسٹ جنوری 2026

Loading