Daily Roshni News

درگاہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی کا ایک قلبی مشاہدہ۔۔۔قسط نمبر2

درگاہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی کا ایک قلبی مشاہدہ

)قسط نمبر(2

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ہے جیسے اس ایک مسکراہٹ میں پوری زندگی کا فلسفہ سمودیا گیا ہو کہ خوشی اور غم دونوں ہی رب کی پیدا کردہ ہیں اور مومن کا کام صرف تعلیم اور رضا ہے۔ دل میں نرمی اترتی ہے، آنکھیں بھیگنے لگتی ہیں اور روح ایک گہری طمانیت میں ڈوب جاتی ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ یہ ہال محض مجلس یا گفتگو کا کمرہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسا مقام ہے جہاں وجدان بیدار ہوتا ہے، شعور نکھرتا ہے اور انسان اپنے باطن سے مکالمہ کرنے لگتا ہے۔ یہ جگہ کسی مراقبے اور تفکر کی وادی معلوم ہوتی ہے جہاں ہر دیوار ، ہر گوشہ ، ہر سانس معرفت کی گواہی دیتا ہے۔ دیواروں پر موجود کا کاتی نقشے مر شد کریم کے اس آفاقی پیغام کی بصری تشریح ہیں جو انہوں نے نوع انسانی کے سامنے پیش کیا کہ انسان اپنے اندر بھی ایک عمل کا ئنات رکھتا ہے۔ ان نقشوں میں دائرے، کہکشائیں، روشنیوں کے بہاؤ اور نورانی خط ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے تخلیق آدم کے راز کسی زبان حال سے بیان ہو رہے ہوں۔ ایک نقشے کے سامنے رک کر جب نگاہ لگتی ہے تو ذہن کی بند گر ہیں کھلنے لگتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انسان اپنے وجود کے پردوں سے آگے جھانک رہا ہو ، اپنی روح کے اندر بسی کا ئنات کو پہنچانے لگا ہو۔ یہ وہی کیفیت ہے جسےمرشد کریم نے فکر انسانی کی وسعت“ قرار دیا ہے، یعنی وسعت نظر ، وہ شعور اور وہ ادراک جو انسان کو بندگی کے اسرار سمجھنے کے قابل بناتا ہے۔ درگاه مبارک محبت کی آغوشپھر نگاہ درگاہ مبارک کے دروازے پر ٹھہرتی ہے وہ لمحہ ایسا ہوتا ہے جیسے دل کی دنیا ایک دم ساکن ہو گئی ہو۔ ایسا محسوس ہوا جیسے فضاء میں نور ملا ہوا ہو۔ دروازے کی چوکھٹ پر کھڑے ہو کر ایسا لگتا ہے جیسے انسان کسی مادی حدود سے گزر کر روحانی وسعت میں قدم رکھ رہا ہو۔ یہاں کی ہوا میں تقدس کی خوشبو بسی ہوئی ہے، ہر سانس میں ایک نرمی، ایک مٹھاس، ایک شفیق لمس محسوس ہوتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سکوت خود ایک تسبیح بن جاتا ہے۔ اس دروازے سے آگے بڑھتے ہی احساسات کی دنیا بدل جاتی ہے۔ دل اپنے محبوب سے ہمکلام ہوتا ہے، آنکھوں سے نظر کے بجائے بصیرت و یھتی ہے۔ دیواروں سے ٹکرا کر لوٹتی ہوئی روشنی روح کو چھو جاتی ہے اور انسان خود کو ایک ایسے حضور میں محسوس کرتا ہے جہاں الفاظ کیضرورت نہیں رہتی۔یہ ماڈل صرف ایک تعمیر نہیں بلکہ محبت کا مظہر ،عطوفت روحانی کا استعار اور خیر خواہی کی دعوت ہے۔ یہاں خاموشی بولتی ہے، روشنی سناتی ہے اور ہر سانس ذکر میں ڈھل جاتا ہے۔ درگاہ کی چھت میں موجود وہ شفاف دائرہ ایک حیرت انگیز علامت ہے۔ دیکھنے والے کو ایسا احساس ہوتا ہے جیسے یہ دائر و زمین و آسمان کے درمیان ایک روحانی ربط کا مظہر ہے۔ یہ منظر اس احساس کو جنم دیتا ہے کہ روحانیت کا سفر کبھی رکتا نہیں وہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔یہ تھری ڈی پریز نیشن محض دیکھنے کے لیے نہیں، محسوس کرنے کے لیے ہے۔ اس کے ہر زاویے میں ایک روحانی مفہوم پوشیدہ ہے اور اس کے ہر رنگ میں مرشد کریم کی فکر، ان کے پیغام اور عشق الہی کیجھلک ملتی ہے۔مرشد کریم نے اپنی حیات مبارکہ میں ہمیں سادگی میں عظمت، سکوت میں معرفت اور محبت میں بندگی کا درس دیا۔ یہ مقام ان کے مشن کا تسلسل محسوس ہوتا ہے ، ان کے فیضان کا ظاہری مظہر بھی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں دل، دماغ اور روح ایک مدت ہی ہم آہنگی میں جھومتے ہیں اور ہر قدم کےساتھ انسان اپنے اندر کی کائنات سے جڑتا چلا جاتا ہے۔ یہ مزار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ روحانیت کا سفر صرف نظریں اٹھانے یا عبادت کے الفاظ ادا کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ایک مسلسل تجربہ ہے جو دل کی گہرائیوں، سوچ کی وسعت اور اعمال کیخالصیت سے جاگتا ہے۔یہ مقام سکون و محبت، تقدس و فیضان اور نور و جمال کا ایسا حسین امتزاج ہے جو نا صرف آنکھوں کو بلکہ دل ودماغ کو بھی روشن کرتا ہے۔ یہاں ہر لمحہ ایک دعا میں بدل جاتا ہے، ہر خاموشی ذکر بین جاتی ہے اور پر نظر روشنی کی کرنوں سے منور ہو جاتی ہے۔ یوں مرشد کریم کی درگاہ سے ہمیں ہر سبق ملتا ہے کہ محبت و عشق اور معرفت کی راہیں کبھی ختم نہیں ہو تیں۔ یہ ناصرف ہماری زندگی کے ہر لمحے میں روشنی اور سکون کا سر چشمہ ہیں بلکہ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ حقیقی سفر روح کا سفر ہے اور ہر لمحہ فیضان السیکی تلاش کا سفر ہے۔اللہ پاک ہمیں ان کی تعلیمات سے اپنے اعیان کو منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Loading