امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے متضاد بیانات کے باعث صورتِ حال ابہام کا شکار ہوگئی ہے۔ قطر نے تصدیق کی ہے کہ امریکی وفد دوحہ میں موجود ہیں، تاہم ایرانی حکام سے ان کی براہِ راست ملاقات نہیں ہوگی، جب کہ ایران بھی کسی باضابطہ مذاکراتی شیڈول کی تردید کر رہا ہے۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر دوحہ میں موجود ہیں، تاہم وہ ایرانی حکام سے براہِ راست ملاقات نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق امریکی وفد ثالثوں سے ملاقات کرے گا اور امریکا و ایران کے درمیان جاری مذاکرات کی پیش رفت پر تبادلہ خیال ہوگا۔
ترجمان نے بتایا کہ ایران کے 6 ارب ڈالر مالیت کے منجمد اثاثے تاحال تہران منتقل نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول ان فنڈز کی منتقلی کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت سے مشروط ہے۔
قطری ترجمان نے مزید کہا کہ گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران تناؤ کم کرنے کے لیے خصوصی ہاٹ لائن استعمال کی گئی۔ ان کے مطابق قطر، عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے رابطے میں ہے اور اس اہم آبی گزرگاہ میں جہاز رانی کی آزادی کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔
گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان آج دوحہ میں مذاکرات متوقع ہیں اور امریکی وفد اس مقصد کے لیے قطر جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بھی کہا تھا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس متوقع اجلاس کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔
تاہم ایران نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ کسی نئی ملاقات یا مذاکرات کا کوئی شیڈول طے نہیں کیا گیا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایرانی تکنیکی وفد کا دورۂ دوحہ امریکی وفد کے دورے سے غیر متعلق ہے اور دونوں وفود کے درمیان کسی ملاقات کا کوئی پروگرام نہیں۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایرانی وفد دوحہ کسی نئی بات چیت کے لیے نہیں بل کہ پہلے سے موجود مفاہمتی انتظامات پر عمل درآمد کا جائزہ لینے جا رہا ہے۔
ادھر قطر میں ایرانی سفارت خانے نے بھی کہا کہ دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی تیاریوں کے حوالے سے انہیں اب تک کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا بھی کہنا ہے کہ قطر کے ساتھ معمول کے سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم تکنیکی مذاکرات اسی وقت ممکن ہوں گے جب دونوں فریق تاریخ، مقام اور دیگر ضروری شرائط پر متفق ہوں گے۔
دوسری جانب عمان میں تعینات سابق امریکی سفیر رچرڈ شمیئرر نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں امریکا اور ایران ایک مرتبہ پھر مذاکرات پر آمادہ ہوئے ہیں۔
اگرچہ مختلف فریقین کے بیانات میں تضاد موجود ہے، تاہم بین الاقوامی ذرائع کے مطابق ثالث ممالک دونوں جانب رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
![]()
