*چراغ حق کی حفاظت*
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو آزمائش کی جگہ بنایا ہے۔ یہاں خیر اور شر دونوں موجود ہیں، لیکن ایک حقیقت ہمیشہ سامنے رہتی ہے کہ نیکی کے لیے محنت، توجہ، صبر اور استقامت درکار ہوتی ہے، جبکہ برائی خودبخود پھیل جاتی ہے۔
اس حقیقت کو ایک عام مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر ہم اپنے گھر کو صاف ستھرا رکھنا چاہیں تو روزانہ جھاڑو، صفائی اور ترتیب کی ضرورت ہوگی۔ اگر چند دن صفائی نہ کی جائے تو گرد و غبار، کچرا اور بے ترتیبی خود بخود جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ یعنی صفائی کے لیے محنت چاہیے، مگر گندگی بغیر محنت کے پھیل جاتی ہے۔
بالکل اسی طرح انسان کے دل اور کردار کی صفائی بھی مسلسل محنت مانگتی ہے۔ نماز، ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن، نیک صحبت اور حسنِ اخلاق کے ذریعے دل منور ہوتا ہے، لیکن اگر انسان ان چیزوں سے غافل ہو جائے تو نفس کی خواہشات، شیطان کے وسوسے اور دنیا کی محبت آہستہ آہستہ دل پر غالب آنا شروع ہو جاتی ہے۔
اس لیے ایک مومن ہمیشہ اس تگ و دو میں رہتا ہے کہ کس طریقے سے اپنے اپکو اور اپنے معاشرے کو بہتر بنا سکے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہر عظیم کامیابی کے لیے محنت ضروری ہے۔ کسان اگر فصل چاہتا ہے تو اسے زمین تیار کرنی پڑتی ہے، بیج بونا پڑتا ہے اور پانی دینا پڑتا ہے، تب جا کر اچھی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح ایمان اور تقویٰ کی فصل بھی مسلسل محنت اور استقامت سے پروان چڑھتی ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہمت اور ثابت قدمی کی تعلیم دیتے ہوئے فرماتا ہے:
“اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں، ہم ضرور انہیں اپنے راستے دکھا دیتے ہیں، اور بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”
﴿سورۃ العنکبوت: 69﴾
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
“پس آپ ثابت قدم رہیں، جیسے آپ سے پہلے اولوالعزم رسول ثابت قدم رہے۔”
﴿سورۃ الأحقاف: 35﴾
رسول اللہ ﷺ نے بھی ہمت اور استقامت کی تلقین فرمائی:
“طاقتور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے، اگرچہ دونوں میں خیر ہے۔ جو چیز تمہیں فائدہ دے اس کی حرص رکھو، اللہ سے مدد مانگو اور ہمت نہ ہارو۔”
(Sahih Muslim)
ایک اور حدیث میں فرمایا:
“اللہ تعالیٰ کو وہ عمل سب سے زیادہ محبوب ہے جو ہمیشہ کیا جائے، اگرچہ تھوڑا ہی ہو۔”
(Sahih al-Bukhari، Sahih Muslim)
لہٰذا ایک سالک، ایک مومن اور ہر نیکی کے طالب کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ برائی کا پھیل جانا آسان ہے، لیکن نیکی کو زندہ رکھنے کے لیے مسلسل محنت، اخلاص، ذکرِ الٰہی اور ثابت قدمی ضروری ہے۔ جو شخص ہمت نہیں ہارتا اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے نیکی کی راہ پر چلتا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہدایت، آسانی اور کامیابی کے دروازے کھول دیتا ہے۔
اقبال نے جس دور میں مرد مومن کا ذکر کیا تھا اس دور کا معاشرہ موجودہ معاشرے سے کہیں بہتر تھا اب تو مرد مومن کے ساتھ ساتھ ضرب مومن کی ضرورت ہے محض مرد مؤمن سے تبدیلی ناممکنات میں سے ہے ساتھ میں ضرب مومن بھی ہو تو تبدیلی آنے کی امید زیادہ بڑھ جاتی ہے
علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ علیہ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں کہ عقل کے کامل ہونے کی علامت یہ ہے کہ انسان بلند ہمت ہو اور جو پستی پہ راضی ہو جائے وہ پست حوصلہ ہے ہاں کچھ مومن مرد اور عورتیں ایسے ہیں کہ انکے باطن اور ظاہر ایک ہیں بلکہ اور روشن اور انکی ہمتیں ثریا جیسی ہیں بلکہ اس سے بھی بلند ہم اللہ عزوجل سے انکے اتباع کی توفیق مانگتے ہیں اور اس بات کی دعا کرتے ہیں کہ ہمیں انکی پیروی کرنے والا بنا دیں آمین یا رب العالمین
الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن
ملا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں اور
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
شاہین کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور
دعائیں 🤲🏼🤲🏼🤲🏼🤲🏼🤲🏼
حنا عرفان سہروردی
نفحات تصوف سندھ
جمعرات دو جولائی
:::
![]()

