Daily Roshni News

بنو امیہ کا عروج

بنو امیہ کا عروج

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )شام کی سرزمین پر سورج اپنی آخری سنہری کرنیں بکھیر رہا تھا۔ دمشق کے گرد پھیلے زیتون کے باغات نرم ہوا کے جھونکوں سے سرگوشیاں کر رہے تھے۔ دور برادہ دریا کا پانی شام کی سرسبز وادیوں کو سیراب کرتا ہوا خاموشی سے بہہ رہا تھا۔ شہر کی فصیلوں پر پہرہ دینے والے سپاہی مغرب کی سرخی میں نہائے افق کو غور سے دیکھ رہے تھے۔ بازاروں میں رومی، عرب، قبطی، فارسی اور نبطی تاجروں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ کہیں گھوڑوں کی ٹاپیں سنائی دیتی تھیں، کہیں اونٹوں کے قافلے لمبے سفر سے تھکے ہوئے شہر میں داخل ہو رہے تھے۔ یہی وہ شام تھا جو چند ہی برسوں میں اسلامی دنیا کا سیاسی مرکز بننے والا تھا، اور یہی وہ لمحہ تھا جہاں سے بنو امیہ کے عروج کی داستان اپنی پوری شان کے ساتھ تاریخ کے افق پر ابھرنے لگی۔

بنو امیہ قریش کے نہایت بااثر خاندانوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا نسب عبد مناف سے جا ملتا تھا، جہاں سے بنو ہاشم اور بنو امیہ دو الگ شاخوں کی صورت میں سامنے آئے۔ زمانۂ جاہلیت میں بنو امیہ تجارت، سیاسی بصیرت، سفارت کاری اور انتظامی صلاحیتوں کے باعث پورے عرب میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ مکہ مکرمہ، جو سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان واقع ایک تجارتی شہر تھا، شمال میں شام اور جنوب میں یمن کو ملانے والی عظیم تجارتی شاہراہ پر آباد تھا۔ اسی راستے سے قریش کے تجارتی قافلے گزرتے، اور بنو امیہ ان قافلوں کے اہم منتظمین میں شامل ہوتے تھے۔

ابتدائی دور میں بنو امیہ کے کئی افراد نے اسلام کی مخالفت کی، کیونکہ وہ اپنے آبائی نظام، سیاسی اثرورسوخ اور معاشی مفادات کو خطرے میں دیکھ رہے تھے۔ مگر فتح مکہ کے بعد حالات بدل گئے۔ اسلام کی حقانیت ان پر واضح ہوئی اور بنو امیہ کے بہت سے افراد اخلاص کے ساتھ مسلمان ہوئے۔ ان میں سب سے نمایاں شخصیت حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ تھے، جو بعد میں اسلامی تاریخ کے اہم ترین حکمرانوں میں شمار ہوئے۔

رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد خلافتِ راشدہ کا دور شروع ہوا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علیؓ کے ادوار میں اسلامی ریاست بے مثال وسعت اختیار کرتی گئی۔ عراق، شام، مصر، فارس اور شمالی افریقہ کے وسیع علاقے اسلامی حکومت میں شامل ہوئے۔ انہی فتوحات کے دوران شام کی سرزمین کو خاص اہمیت حاصل ہوئی، جہاں حضرت عمرؓ نے حضرت معاویہؓ کو گورنر مقرر کیا۔

شام کا جغرافیہ عرب کے دوسرے علاقوں سے بہت مختلف تھا۔ یہاں بلند پہاڑ، زرخیز میدان، بہتے ہوئے دریا، سرسبز باغات اور مضبوط قلعے موجود تھے۔ شمال میں اناطولیہ کی سرحدیں تھیں، مغرب میں بحیرۂ روم اپنی نیلی لہروں کے ساتھ پھیلا ہوا تھا، مشرق میں شام کا وسیع صحرا تھا، جبکہ جنوب میں فلسطین اور حجاز کے راستے اسلامی دنیا کو آپس میں ملاتے تھے۔ دمشق، حمص، حلب، قنسرین اور بیت المقدس جیسے شہر نہ صرف فوجی بلکہ معاشی اعتبار سے بھی بے حد اہم تھے۔

حضرت معاویہؓ نے گورنر کی حیثیت سے شام میں مضبوط انتظامی ڈھانچہ قائم کیا۔ انہوں نے قبائل کے درمیان توازن پیدا کیا، سرحدوں کی حفاظت مضبوط بنائی اور بحری طاقت کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اسلامی بحریہ کو منظم کیا۔ بحیرۂ روم پر رومی سلطنت کی برتری کو چیلنج کرنا آسان نہ تھا، مگر اسلامی بحریہ کی تشکیل نے طاقت کے توازن کو بدلنا شروع کر دیا۔ قبرص کی مہم اور دیگر بحری فتوحات نے ثابت کیا کہ مسلمان صرف صحرا کے سپاہی نہیں بلکہ سمندر کے فاتح بھی بن سکتے ہیں۔

حضرت عثمان غنیؓ کے دور میں بنو امیہ کے کئی افراد اہم انتظامی ذمہ داریوں پر فائز ہوئے۔ اگرچہ اس پر مختلف آراء موجود ہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ وسیع اسلامی سلطنت کو چلانے کے لیے تجربہ کار منتظمین کی ضرورت تھی، اور بنو امیہ کے بہت سے افراد اس میدان میں مہارت رکھتے تھے۔ تاہم بعض سیاسی اختلافات نے رفتہ رفتہ امت کے اندر کشیدگی پیدا کی، جو بالآخر حضرت عثمانؓ کی شہادت اور بعد کے خانہ جنگیوں کا سبب بنی۔

جمل، صفین اور نہروان جیسے واقعات نے اسلامی دنیا کو گہرے صدمے سے دوچار کیا۔ ان جنگوں نے صرف سیاسی نظام کو نہیں بلکہ مسلمانوں کے دلوں کو بھی زخمی کیا۔ اسی ہنگامہ خیز دور میں حضرت معاویہؓ شام میں اپنی حکومت کو مضبوط رکھتے رہے۔ شام کے قبائل ان کے ساتھ تھے، فوج منظم تھی اور سرحدی دفاع مستحکم تھا۔

سن 41 ہجری کو، جسے “عام الجماعہ” کہا جاتا ہے، حضرت حسن بن علیؓ نے امت کے اتحاد کی خاطر خلافت حضرت معاویہؓ کے سپرد کر دی۔ یہ اسلامی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا۔ برسوں کی خانہ جنگی کے بعد پہلی مرتبہ پوری اسلامی ریاست ایک حکمران کے زیرِ انتظام آگئی۔ اسی لمحے بنو امیہ کی باقاعدہ خلافت کا آغاز ہوا۔

حضرت معاویہؓ نے دمشق کو دارالحکومت بنایا۔ دمشق کا انتخاب محض سیاسی فیصلہ نہیں تھا بلکہ جغرافیائی حکمت بھی اس میں شامل تھی۔ یہ شہر ایشیا، افریقہ اور یورپ کے سنگم پر واقع تھا۔ یہاں سے مصر، عراق، حجاز، آرمینیا، اناطولیہ اور شمالی افریقہ تک رسائی نسبتاً آسان تھی۔ رومی سلطنت کی سرحد بھی قریب تھی، جس سے دفاعی حکمت عملی بہتر انداز میں ترتیب دی جا سکتی تھی۔

دمشق جلد ہی اسلامی دنیا کا سب سے اہم سیاسی اور انتظامی مرکز بن گیا۔ اس کے بازار دنیا بھر کے تاجروں سے بھر گئے۔ ہندوستان سے مصالحہ جات، یمن سے خوشبوئیں، مصر سے عمدہ کپڑا، خراسان سے گھوڑے، وسط ایشیا سے قیمتی کھالیں اور بحیرۂ روم کے ساحلوں سے مختلف اشیاء یہاں پہنچنے لگیں۔ عربی، یونانی، سریانی، قبطی اور فارسی زبانیں سنائی دیتی تھیں، مگر ریاست کی شناخت اسلام اور عربی زبان کے گرد مضبوط ہوتی جا رہی تھی۔

حضرت معاویہؓ نے مضبوط ڈاک کا نظام قائم کیا، سرحدی قلعوں کو مستحکم کیا، باقاعدہ فوجی چھاؤنیاں قائم کیں اور سرکاری نظم و نسق کو نئی شکل دی۔ انہوں نے سیاسی بصیرت، صبر اور تدبر سے ایک ایسی حکومت قائم کی جس نے کئی دہائیوں تک استحکام فراہم کیا۔

ان کے بعد یزید بن معاویہ کے دور میں بعض انتہائی افسوسناک واقعات پیش آئے، جن میں سانحۂ کربلا اسلامی تاریخ کا سب سے دردناک باب بن گیا۔ یہ واقعہ امت کے لیے ہمیشہ غم اور عبرت کا باعث رہا۔ اسی طرح مدینہ اور مکہ کے بعض واقعات نے بھی شدید اختلافات کو جنم دیا۔ ان سانحات کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ تاریخ کے اس دور میں سیاسی حالات نہایت پیچیدہ تھے اور ان کے بارے میں اہلِ علم نے مختلف آراء بیان کی ہیں۔

وقت گزرتا گیا اور بنو امیہ کی حکومت نے ایک بار پھر اپنی قوت بحال کی۔ عبدالملک بن مروان کے دور میں خلافت نے نئی جان حاصل کی۔ انہوں نے داخلی بغاوتوں کو ختم کیا، مرکزی حکومت کو مضبوط کیا اور اسلامی ریاست میں اصلاحات نافذ کیں۔ انہی کے دور میں عربی زبان کو سرکاری زبان قرار دیا گیا، سرکاری دفاتر میں یکساں نظام نافذ ہوا اور اسلامی سکے جاری کیے گئے۔ یہ اقدامات محض انتظامی فیصلے نہیں تھے بلکہ انہوں نے پوری اسلامی دنیا کو ایک مشترکہ شناخت عطا کی۔

عبدالملک بن مروان نے بیت المقدس میں قبۃ الصخرہ کی عظیم الشان عمارت بھی تعمیر کروائی، جو اسلامی فنِ تعمیر کا ایک شاہکار سمجھی جاتی ہے۔ اس کی سنہری گنبد آج بھی صدیوں کی تاریخ اپنے اندر سمیٹے کھڑی ہے۔

پھر تاریخ نے ایک اور درخشاں باب دیکھا۔ ولید بن عبدالملک کے دور میں بنو امیہ کی سلطنت اپنی جغرافیائی وسعت کی بلند ترین منزل پر پہنچ گئی۔ مشرق میں سندھ کے میدانوں سے لے کر مغرب میں بحرِ اوقیانوس کے ساحلوں تک اسلامی پرچم لہرانے لگا۔

اسی دور میں نوجوان سپہ سالار محمد بن قاسم نے سندھ کی سرزمین پر قدم رکھا۔ دریائے سندھ کے کنارے، سرسبز میدانوں، قدیم شہروں اور مضبوط قلعوں کے درمیان اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی گئی۔ دوسری طرف قتیبہ بن مسلم نے ماوراء النہر کی برف پوش وادیوں، وسیع میدانوں اور قدیم شاہراہوں تک اسلامی ریاست کو پہنچایا۔

مغرب میں طارق بن زیاد جبل الطارق کی بلند چٹانوں پر کھڑے تھے۔ ان کے سامنے سمندر کی نیلی لہریں تھیں اور پیچھے اسلامی لشکر۔ اسپین کی سرزمین پر اسلامی تاریخ کا نیا باب رقم ہونے والا تھا۔ اندلس کی زرخیز وادیاں، بہتے ہوئے دریا، برف پوش پہاڑ اور خوبصورت شہر جلد ہی اسلامی تہذیب کے مراکز بن گئے۔ قرطبہ، اشبیلیہ، غرناطہ اور طلیطلہ علم، فن، طب، فلسفہ اور تعمیرات کے روشن چراغ بن گئے۔

بنو امیہ کے دور میں شاہراہیں محفوظ ہوئیں، تجارت کو فروغ ملا، نئی بستیاں آباد ہوئیں اور مختلف تہذیبیں اسلامی ریاست کے زیرِ سایہ ایک دوسرے سے قریب آئیں۔ اگرچہ مختلف ادوار میں بعض حکمرانوں کی پالیسیوں پر تنقید بھی کی گئی اور بعض فیصلے متنازع رہے، لیکن مجموعی طور پر اس عہد نے اسلامی دنیا کو سیاسی وسعت، انتظامی استحکام اور تہذیبی ترقی عطا کی۔

بنو امیہ کا عروج صرف فتوحات کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسی سلطنت کی داستان ہے جس نے صحرا کے قبائل کو ایک عالمی طاقت میں تبدیل ہوتے دیکھا۔ ان کے عہد میں اسلامی ریاست نے ہزاروں میل پر محیط علاقوں کو ایک سیاسی نظام کے تحت منظم کیا، مختلف اقوام کو ایک مشترکہ نظم میں جوڑا اور ایسی تہذیبی بنیادیں استوار کیں جن کے اثرات صدیوں تک باقی رہے۔

جب شام کی ٹھنڈی شاموں میں دمشق کی فصیلوں پر چراغ روشن ہوتے، جب مصر کے کنارۂ نیل پر مسلمان آبادیاں پھلتی پھولتی تھیں، جب خراسان کے میدانوں میں گھوڑوں کی ٹاپیں گونجتی تھیں، جب سندھ کے دریاؤں کے کنارے اذان کی آواز بلند ہوتی تھی، اور جب اندلس کے پہاڑوں پر سورج غروب ہوتے وقت اسلامی پرچم ہوا میں لہراتا تھا، تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ تاریخ نے بنو امیہ کے نام ایک ایسا باب لکھ دیا ہے جس کی گونج تین براعظموں تک سنائی دیتی ہے۔

یہ عروج ہمیشہ قائم نہ رہ سکا۔ داخلی اختلافات، قبائلی کشمکش، بعض انتظامی کمزوریاں، سیاسی بغاوتیں اور عباسی تحریک بالآخر بنو امیہ کی مرکزی حکومت کے خاتمے کا سبب بنیں۔ لیکن ان کا عہد اسلامی تاریخ کا ایسا دور ضرور ثابت ہوا جس میں ریاستی نظم، جغرافیائی وسعت، علمی روابط، معاشی سرگرمیوں اور تہذیبی ارتقا نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ آج بھی دمشق کی قدیم گلیاں، بیت المقدس کی مقدس فضائیں، اندلس کے محلات، سندھ کے قدیم شہر اور اسلامی دنیا کی بے شمار تاریخی یادگاریں اس عظیم عہد کی خاموش مگر زندہ گواہ ہیں، جو یہ بتاتی ہیں کہ قوموں کا عروج صرف تلوار سے نہیں بلکہ نظم، تدبر، علم، انتظام اور اجتماعی بصیرت سے بھی حاصل ہوتا ہے۔

Loading