ناجائز تجاوزات کے نام پر تباہی
تحریر۔۔۔حمیراعلیم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ناجائز تجاوزات کے نام پر تباہی۔۔۔ تحریر۔۔۔حمیراعلیم )موجودہ حکومت کے دیگر تمام منصوبوں کی طرح پاکستان کے تمام صوبوں اور بڑے شہروں میں ناجائز تجاوزات کو گرانے کے نام پر عام شہریوں کے گھروں اور کاروباروں کی مسماری ایک سنگین المیہ بن چکا ہے۔ جس نے لاکھوں خاندانوں کو ذہنی، معاشی اور سماجی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ ایک عام شہری اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی، پنشن کے پیسے اور خون پسینے کی کمائی لگا کر ایک پلاٹ خریدتا ہے۔ سرکاری اداروں سے اس کے نقشے پاس کرواتا ہے باقاعدہ رجسٹری اور لیز حاصل کرتا ہے اور پھر وہاں اپنی چھت تعمیر کرتا ہے۔ لیکن چند سال یا دہائیاں گزرنے کے بعد اچانک ایک دن بغیر کسی اطلاع کے انتظامیہ بھاری مشینری اور پولیس کی نفری کے ساتھ نمودار ہوتی ہے اور اس تعمیر شدہ گھر یا دکان کو یہ کہہ کر ملبے کا ڈھیر بنا دیتی ہے کہ یہ زمین تجاوزات کا حصہ تھی۔
اس پورے عمل کا سب سے بڑا تضاد اور تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ جب یہ بستیاں، ٹاؤنز اور اپارٹمنٹس تعمیر ہو رہے ہوتے ہیں تب ڈویلپمنٹ اتھارٹی جیسے بااختیار ادارے مکمل طور پر خاموش رہتے ہیں۔ ان اداروں کے ملازمین اور افسران نہ صرف ان غیر قانونی تعمیرات سے چشم پوشی اختیار کرتے ہیں بلکہ بھاری رشوت اور ملی بھگت کے عوض ان جعلی یا غیر قانونی پلاٹوں کی رجسٹریاں، این او سیز اور نقشے تک جاری کر دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سےعام خریدار کا اس زمین پر قانونی اعتماد پکا ہو جاتا ہے۔ جب ریاست کا ایک ادارہ مہر لگا کر کسی کاغذ کو قانونی قرار دے دیتا ہے تو ایک عام شہری کے پاس یہ جاننے کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہوتا کہ یہ زمین ماسٹر پلان میں کسی نالے، پارک یا گرین بیلٹ کے لیے مختص تھی۔
کراچی اربن لیب اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند سالوں کے دوران گجر نالہ، اورنگی نالہ اور محمود آباد نالہ کے اطراف کی جانے والی مسماری مہم کے نتیجے میں کم و بیش چھ ہزار سے زائد مکانات گرائے گئے۔ جس سے چالیس ہزار سے زائد افراد شدید سردی اور گرمی کے موسم میں کھلے آسمان تلے بے گھر ہو گئے۔ ان متاثرین میں سے اکثریت کے پاس سندھ حکومت اور کے ایم سی کی جاری کردہ باقاعدہ لیز، فی کی رسیدیں اور ملکیتی دستاویزات موجود تھیں۔
اسی طرح شاہراہِ فیصل پر واقع نسلا ٹاور کا واقعہ اس سرکاری ملی بھگت کا ایک کلاسک اور تاریخی نمونہ بن گیا، جہاں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سمیت تمام محکموں نے بلڈنگ کا نقشہ پاس کیا اور این او سی جاری کیے۔ شہریوں نے اپنی زندگی بھر کی بچتیں ان اپارٹمنٹس کو خریدنے میں لگا دیں۔ لیکن بعد میں عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر اس کثیر المنزلہ عمارت کو زمین بوس کر دیا گیا۔ اور رہائشیوں کو آج تک ریاست کی طرف سے کوئی متبادل عمارت یا معاوضہ ادا نہیں کیا جا سکا۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے شہر کے ماسٹر پلان کو بحال کرنے اور گرین بیلٹس کو واگزار کرانے کے لیے سینکڑوں آپریشنز کیے۔ سی ڈی اے کی اپنی حالیہ انفورسمنٹ رپورٹس کے مطابق مختلف زونز، ڈپلومیٹک اینکلیو، ای الیون اور جی الیون کے اطراف سے سات سو کنال سے زائد قیمتی سرکاری زمین کو واگزار کرانے کے نام پر کئی کچی آبادیاں اور بظاہر قانونی نظر آنے والے ٹاؤنز تباہ کر دئیے گئے۔ اسلام آباد میں سب سے بڑا مسئلہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کا ہے۔سی ڈی اے کی آفیشل ویب سائٹ پر اب تک ڈیڑھ سو سے زائد سوسائٹیز کو غیر قانونی یا غیر منظور شدہ قرار دیا جا چکا ہے۔ متاثرہ شہریوں کا گلہ ہے کہ جب یہ نجی سوسائٹیز ٹیلی ویژن، اخبارات اور شہر کی بڑی شاہراہوں پر کروڑوں روپے کے بڑے بڑے ہاؤسنگ پروجیکٹس کے اشتہارات لگا کر عوام کو لوٹ رہی ہوتی ہیں تب سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ گہری نیند سوئی رہتی ہیں۔اور جیسے ہی عوام وہاں مکانات بنا لیتے ہیں تو انتظامیہ انہیں غیر قانونی قرار دے کر گرانے پہنچ جاتی ہے۔
کوئٹہ میں بھی کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور میٹروپولیٹن کارپوریشن نے حالیہ برسوں میں سریاب روڈ، بروری روڈ اور جناح روڈ کے اطراف سڑکوں کی کشیدگی اور تجاوزات کے خاتمے کے نام پر بڑے پیمانے پر مسماری کی مہم چلائی۔ چونکہ کوئٹہ ایک شدید زلزلہ زدہ زون پر واقع ہے۔ اس لیے بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی کرنے والی کمرشل اور رہائشی عمارتوں کے خلاف سخت کارروائیاں کی گئیں جس کے نتیجے میں پانچ ہزار سے زائد مقامی تاجر اور دکان دار اچانک بیروزگار ہو گئے۔ اور کئی رہائشی مکانات تباہ کر دیے گئے۔ کوئٹہ کے مقامی شہریوں کا بھی یہی مؤقف ہے کہ تعمیرات کے وقت انسپکٹرز باقاعدگی سے رشوت لے کر ان عمارتوں کو بننے کی اجازت دیتے ہیں۔ اور بعد میں سڑک چوڑی کرنے یا تجاوزات ہٹانے کے نام پر غریب کا روزگار اور سر چھپانے کی جگہ چھین لی جاتی ہے جس کا کوئی متبادل یا معقول معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکانومکس اور دیگر معاشی تھنک ٹینکس کے اعدا و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں ہاؤسنگ اور ریل اسٹیٹ سیکٹر میں ریگولیٹری کمزوریوں کی وجہ سے شہریوں کے سرمایے کا تقریباً بیس سے تیس فیصد حصہ ہمیشہ متنازعہ اور غیر محفوظ زمینوں میں پھنس جاتا ہے۔ بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے ہیومن رائٹس چارٹر کے مطابق ریاست کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کرے۔ اور کسی بھی مسماری یا ترقیاتی منصوبے سے پہلے متاثرین کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق معاوضہ اور متبادل رہائش کی فراہمی کو یقینی بنائے۔
اس بحران کا واحد حل یہ ہے کہ تجاوزات گرانے سے پہلے ان تمام سرکاری افسران اور بیوروکریٹس کو گرفتار کر کے عبرت کا نشان بنایا جائے جنہوں نے رشوت لے کر ان غیر قانونی نقشوں اور رجسٹریوں پر دستخط کیے تھے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ زمینوں کے پورے ریکارڈ کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر کے عوام کے لیے آن لائن کر دیا جائے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی شہری اپنی زندگی کی کمائی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے۔
![]()

