`
کائنات کی تاثیر
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )قوانین قدرت کسی چیز کی وضاحت نہیں کرتے، بلکہ محض اس کو بیان کرتے ہیں. کیا کنزروشن آف مومنٹم نام کی چیز باہر ماحول میں وجود رکھتی ہے؟؟ جواب ہے ہرگز نہیں بلکہ یہ ہمارے دماغ میں اس خاص پیٹرن کیلیے محفوظ ایک نام ہے جس کو ہم باہر بار بار ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔۔۔ اب جو چیز محض ایک “‘خیالی نام”‘ ہے تو وہ وجہ یا وضاحت تھوڑی ہے بلکہ وہ تو محض پیٹرن کا بیان ہے۔
اس کو ذرہ آسان زبان میں سمجھیں۔۔۔ میرے دوست مصباح اور ابرار آپس میں لڑ پڑے۔۔۔۔۔۔ میں ان کی لڑائی دیکھتا ہوں اور بعد میں تیسرے دوست زعفران کو سناتا ہوں۔۔۔۔ اب میرا زعفران کے سامنے مصباح و ابرار کی لڑائی کا بیان اس لڑائی کی وجہ تھوڑی ہے۔۔۔ یہ تو محض اس کا بیان ہے جو میں نے دیکھا اور سنایا ہے…. اگر لڑائی ہوئی نہ ہوتی تو میں یہ بیان نہ دے پاتا، سو بیان کے لیے لڑائی کا ہونا ضروری ہے اور جب بیان کیلیے “لڑائی” کا ہونا ضروری ہے، تو بیان لڑائی کی وجہ کیسے ہو سکتا ہے؟ لڑائی تو اس سے پہلے آتی ہے
اس طرح کائنات کے بیان یعنی سائنس کیلیے کائنات کے اندر مختلف مظاہر کا ہونا ضروری ہے. جب وہ مظاہر ہوتے ہیں، تو اس سے ہم بیان یعنی “سائنس” ریکارڈ کرتے ہیں، سو سائنس کا ڈسکرئپشن بعد میں آتا ہے اور مختلف چیزوں کا ہونا پہلے آتا ہے یعنی سائنس وجہ نہیں بلکہ بیان ہے۔۔۔۔ سائنس محض وہ ریکارڈ ہے جو ہم نے دیکھا۔۔۔۔۔
دیکھیں
میرے ساتھ ایک علاقے کا نقشہ موجود ہے جس کی مدد سے میں اس علاقہ کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہوں، تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس “نقشہ” نے اس علاقہ کو پیدا کیا ہے اور چلا رہا ہے. وہ علاقہ نقشہ سے پہلے موجود تھا۔ نقشہ تو مختلف لوگوں کی محنت سے بنا ہے اور اب بس ہمیں اس علاقے بارے معلومات دے رہا ہے سو نقشہ کا ملنا یا نقشہ کے اچھے سے اپڈیٹ ہونے سے اس علاقہ میں کچھ نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ تو محض وہاں کا بیان ہے۔
اگر کوئی آپ کو کہتا ہے کہ فلاں “قانون قدرت” کی وجہ سے یہ ہو رہا ہے اور وہ ہو رہا ہے، تو وہ “فلسفہ سائنس” سے نابلد ہے۔ قانونی قدرت reason نہیں description ہے۔۔۔۔۔ قانون قدرت کیا کوئی Concrete یا فزیکل شے ہیں جو اس نے یہ کر دیا یا وہ کر دیا؟ اگر ہے پھر دکھائیں کہ لاء آف کنزوریشن آف موومنٹم کے ‘فزیکل ذرات’ کیسے ہیں اور کدھر ہے؟؟ اس قانون کو کب مائیکروسکوپ یا ٹیلیسکوپ میں دیکھا یا سنا یا چکھا گیا ہے؟ ظاہر ہے ایسا کچھ بھی نہیں بلکہ یہ محض ایک Inference ہے مطلب پہلے کچھ ہو گیا اور یہ اس ہونے کے بعد کا اس کا بیان ہے۔۔ یہاں پر reification کا مغالطہ نہ لائیں (کسی Abstract یا بیانی چیز کو حقیقی خصوصیات دینا اس مغالطہ کی تعریف ہے)
سائنس کائنات کی کوئی وضاحت ہرگز نہیں بلکہ محض اس کے Mechanics کا بیان ہے۔۔۔۔۔ میرے خاندان کے بارے میں آپ کا جان لینا میرے خاندان کی وجہ نہیں بلکہ آپ کا جاننا محض آپ کا علم ہے جو دماغ میں موجود ہے اور خاندان کو سٹڈی کرنے کے بعد پیدا ہوا ہے نہ کہ اس کیوجہ سے خاندان ہے۔ شاید اس حوالہ سے آپ بالکل صحیح پشینگوئی بھی کر دیں کہ اس خاندان میں فلاں کی شادی فلاں کے ساتھ ہوگی لیکن یہ محض آپ کے علم کا کمال ہے، وجہ نہیں۔۔۔۔۔
مشہور زمانہ برطانوی فلسفی لڈوگ وٹنگسٹائن کہتے ہیں کہ
“”جدید فکر اس مغالطہ اور فریب یعنی Delusion پر کھڑی ہے کہ نام نہاد قوانین قدرت نے ہماری کائنات کی وضاحت کر دی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے……. قوانین قدرت نے کائنات کی کوئی وضاحت نہیں کی ہے، بلکہ محض اس کو بیان کیا ہے”‘
وہ مزید لکھتے ہیں کہ
“”آج لوگ قوانین قدرت کے سامنے اسطرح ٹھٹک کر رک جاتے ہیں، جیسے یہ مقدس اور ناقابل تسخیر ہے، بالکل اسی طرح جیسے پرانے لوگ خدا اور تقدیر کے سامنے رک جاتے تھے۔۔ یہ دونوں (قدیم جدید لوگ) صحیح بھی ہے اور غلط بھی لیکن قدیم و پرانے لوگ اس حوالہ سے زیادہ ایماندار و واضح تھے کہ انہوں نے ایک واضح اختتام کو تسلیم کیا ہے، لیکن اسکے برعکس جدید لوگ ایسا تاثر دیتے ہیں جیسے ساری وضاحت ہو گئی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے””
دیکھیں
ہم خدا پرست لوگ کہتے ہیں کہ ‘کائنات’ میں سب کچھ خدا کرا رہا ہے اور سنت اللہ یعنی قوانین قدرت کے ذریعے کرا رہا ہے۔ اب یہ وضاحت ہے، چاہے آپ مانیں یا نہ مانیں۔۔ اس میں بیان یعنی ‘”قوانین قدرت”‘ خدا کی نشانیاں اور سنت ہے اور وجہ یعنی اصل وضاحت خدا کی طاقت ہے۔
اس کے برعکس ملحدین کہتے ہیں کہ کائنات میں سب کچھ قوانین قدرت کرا رہے ہیں لیکن یہ محض بیان ہے وجہ نہیں کیونکہ قوانین قدرت کوئی real entities ہے ہی نہیں، بلکہ محض ڈسکرپشنز ہے جو بیان بتاتی ہے، طاقت اور وجہ نہیں اور بالفرض ملحدین کہ دیں کہ جی نہیں قوانین قدرت اصل اور real ہے تو وہ platonic realism کے اندر داخل ہو رہے ہیں اور ملحد ہی نہیں رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ جدید الحاد کی عمارت یہاں دھڑام سے گر جاتی ہے.. باقی یہ پھر بھی مسئلہ کو حل پھر بھی نہیں کرتا، کیونکہ طاقت اور وجہ پھر بھی موجود نہیں ہے۔۔۔ محض یہ کہنا کہ قوانین قدرت real میں موجود ہے مسائل بڑھاتا ہے۔ کدھر موجود ہے؟ کیسے موجود ہے؟ دنیا کی چیزوں کے ساتھ انٹرایکٹ کیسے کرتے ہیں؟؟ طاقت کون لگاتا ہے کیسے لگاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ کلاسیکی Platonism تو ‘خدا’ کو مانتا ہے اور صاف کہتا ہے کہ ان قوانین قدرت کا استعمال کر کے خدا ہی کی طاقت سے سب کچھ ہوتا ہے تاہم ملحدین کے ساتھ تو یہ آپشن موجود نہیں سو یہ انکا مسئلہ حل کرنے کے بجائے مزید بڑھاتا ہے۔
انکے ساتھ ایک ”’آخری پناہ گاہ”’ Inherent خصوصیات والا ارسطوئی ماڈل رہ جاتا ہے لیکن وہ تو ان کے گلہ کی ہڈی بن گئی ہے کیونکہ ان کے سارے “سیاسی و سماجی و معاشرتی” نظام اس ماڈل کے خلاف ہے۔۔۔۔ دوئم یہ کہ جدید سائنس نے واضح کیا کہ ہمارے مشاہدے میں موجود کائنات کی ہر چیز بالکل Identical ذرات سے تخلیق شدہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اس چیز نے قوانین قدرت کو مادہ سے بالکل ہی الگ اور جُداگانہ شناخت دے دیں کیونکہ بنیادی سطح پر تو مادہ تو سبھی یکساں ہے سو یہ ساری ڈائیورسٹی مادہ کی کاریگری نہیں بلکہ مادہ پر ہوئی کاریگری ہے۔
ہم خدا کو کیوں لاتے ہیں تو دیکھیں کہ
مجھے “فنکشن” کرنے کے لیے میرے دماغ’ کا کام کرنا ضروری ہے سو میرا فنکشن ‘دماغ’ پر منحصر ہے لیکن میرے دماغ کو فنکشن کرنے کے لیے اس کے اندر موجود “نیورانز” کا کام کرنا ضروری ہے سو میرے دماغ کا فنکشن نیورانز پر “منحصر” ہے لیکن نیورانز کو فنکشن کرنے کےلیے اس میں موجود مختلف Organelles کا فنکشن کرنا ضروری ہے سو نوران کا فنکشن Organelles پر ”منحصر” ہے لیکن Organelles کو فنکشن کے لیے اس میں موجود مالیکیولز کا فنکشن’ کرنا ضروری ہے سو Organelle کا فنکشن ‘مالیکیولز’ پر منحصر ہے لیکن ان مالیکولز کو فنکشن کرنے کے لیے یہ مختلف قسم کے ایٹمز پر منحصر ہے جو آگے کوارکس پر منحصر ہے اور یوں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ آخر رکتا کہاں ہے؟؟؟؟
اگر ہر آنے والی چیز کسی “پچھلی چیز” پر منحصر ہے تو پھر اصل طاقت آخر آتی کہاں سے ہیں؟ یاد رہے وہ سبھی چیزیں جو خود اپنے “وجود” کےلیے ہی کسی پچھلی چیز پر منحصر ہے ان میں اصل طاقت موجود نہیں ہے. وہ تو محض پچھلی چیزوں سے طاقت “مستعار”‘ لیکر آگے کی چیز میں منتقل کر دیتے ہیں اور بس۔۔۔
اب یہ Chain کبھی بھی Infinite نہیں جا سکتا ہے کیونکہ “Infinite” کبھی عبور نہیں ہوتا ہے سو اگر یہ Infinite جاتا تو یہ کبھی “عبور” نہ ہوتا اور اگر یہ عبور نہ ہوتا تو انحصار کا یہ سلسلہ کبھی بھی “ختم” نہ ہوتا اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو میرا دماغ فکشن ہی نہیں کر پا رہا ہوتا کیونکہ میرا دماغ تو اس طاقت کی وجہ سے ‘فنکشن’ کر رہا ہے جو اس سلسلہ سے آیا ہے کیونکہ اس کا فنکشن اس پر منحصر ہے۔۔۔ یاد رہے ان سبھی کا وقت میں ایک دوسرے کے پیچھے ہونا ہی نہیں بلکہ ابھی ابھی اور ایک ساتھ ہونا ضروری ہے
مطلب
اب میں “فنکشن” کر رہا ہوں، میرا دماغ فنکشن کر رہا ہے اور باقی سب کچھ بھی فنکشن کررہا ہے تو مطلب کسی جگہ پر پہنچ کر اس Chain نے “‘طاقت”‘ اخذ کی ہے اور کسی ایسی چیز سے اخذ کی ہے جو طاقتور ہے اور کسی پر انحصار بھی نہیں کرتا ہے (کیونکہ اگر انحصار کرتا تو یہ چین ختم ہی نہ ہوتا) مطلب ایک چیز جو کسی پر ‘منحصر نہیں ہے، سب اس پر منحصر ہے، طاقتور ہے، فاعل حقیقی ہے موجود ہے اور وہ Foundational چیز ہے۔
اب اس دنیا میں جو کچھ بھی ہوتا ہے، ان سبھی کے پیچھے جاؤ گے تو معلوم پڑیگا کہ ہمارے کائنات کی ساری “حقیقت” دراصل اس Foundation میں ہی چھپی ہے کیونکہ اس کے بغیر کائنات میں ‘کچھ بھی’ نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ کائنات میں موجود ہر چیز اپنی حقیقت (قوت/تاثیر) اسی سے اخذ کرتی ہے، جیسا کہ میرا “دماغ” اپنی تاثیر اس سے اخذ کر رہا ہے۔ اب اس Foundation کی کچھ خصوصیات ہے۔
یہ کسی پر منحصر نہیں ہے۔
سبھی اس پر منحصر ہے۔
اس کا نہ ہونا محال ہے. (پھر وجود ہی نہ ہوتا)
یہ مکمل طاقتور ہے۔
ہر قسم کی تاثیر (ذہانت، زندگی، ارادہ وغیرہ) سے بھرپور ہے یہ Absolute حقیقت ہے سو ایک ہے۔
ہر وقت کائنات کو سنبھالے ہوئے ہیں۔
اب ہمارے نزدیک یہی خدا ہے جو کائنات کو صرف بنایا نہیں بلکہ ہر وقت سنبھال بھی رہا ہے لیکن اگر کسی کے نزدیک یہ ذات خدا نہیں ہے بلکہ کچھ “اور” ہے تو وہ بس اس “اور” کو خدائی صفات دے رہا ہے۔۔۔۔۔ قوانین قدرت تو محض میکانزم ہے، طاقت یا وضاحت تھوڑی ہے جیسے اوپر کہا۔۔۔
یاد رہے کہ اس چیز نے ‘کائنات’ کو بنا کر چھوڑا نہیں بلکہ ہر وقت ہی کائنات کو سنبھالے ہوئے ہیں کیونکہ میرے ابھی کے فنکشن کرنے کے لیے جو “طاقت” درکار ہے، وہ وہاں سے آ رہی ہے۔ اوپر جو Causal Chain بتائی تھی، اس میں ایسا ہرگز نہیں تھا کہ ان سب نے بالترتیب ہونا تھا بلکہ میرے “اب” کے فنکشن کیلیے ان سب کا ”ابھی” ہونا ضروری ہے۔ میرے دماغ کا ابھی کام کرنا ضروری ہے نیورانز کا ابھی کام کرنا ضروری ہے سو وہ “بنیادی چیز” مجھے اور اس ‘کائنات’ کو ابھی بھی سنبھال رہی ہے نہ کہ چھوڑ دیا ہے اور اس سے Deistic خدا مکمل rule out ہو جاتا ہے اور Theistic ‘خدا کا اثبات’ ہوتا ہے۔
ہماری کائنات میں چیزوں میں جو بھی تاثیر ہے وہ سب خدا کی وجہ سے ہیں اور اس کے ارادہ کی پابند ہے اور یہی وجہ ہے کہ شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے کو کہا تھا کہ
“بیٹا فاعل حقیقی اور مؤثر حقیقی صرف اللّٰہ ہے”
صحت، بیماری، فتح، شکست، کامیابی، ناکامی، زندگی، موت عزت، ذلت الغرض ہر چیز ‘خدا’ کی طرف سے ہے اور خدا کی وجہ سے ہیں یہاں تک کہ ہماری ‘خواہش اور چاہت بھی خدا کی طرف سے ہیں اور اگر ‘خدا’ نہ چاہے تو ہم چاہ بھی نہیں سکتے ہیں. ہمارے پاس بس اتنی “طاقت” ہے کہ اپنی سمجھ بوجھ سے ‘اپنی چاہت’ کو خدا کی چاہت کے ساتھ Align کر دیں۔
عبید
#عبید
![]()
