ممتاز دانشور اشفاق احمد کا حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی ؒکو خراج تحسین
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ رپورٹ جمیل خان عظیمی )ممتاز دانشور اشفاق احمد کہتے ہیں: بول اول میں ان (خواجہ شمس الدین عظیمیؒ) سے ان کے رسالے روحانی ڈائجسٹ کے ذریعے تعارف ہوا، پھر ملاقاتیں ہونے لگیں۔ درمیان میں مباحث کا سلسلہ شروع ہوا۔
پھر میری تشکیک کے بہت سے نا آسو دو زخموں کی انہوں نے جراحت کی اور کئی ا کھیلے مقامات سے ہاتھ پکڑ کر گزارہ میرے اندر نہ مانے ” ۔ کا زہر کچھ اتنی دور تک سرایت کر چکا ہے کہ آفتاب کو بھی دلیل آفتاب مانے سے انقباض ہوتا ہے اور میں لوٹ لوٹ کر واپس اس جگہ پر ابھی جاتا ہوں جہاں سے چلا تھا۔ پہلے مجھے اس پر غصہ آتا تھا۔ اب نہیں ! اب میں اچھی طرح جان گیا ہوں کہ ایک بندہ بشر ایک بندہ بشر ہی ہو سکتا ہے۔ اس سے زیادہ نہیں لیکن عظیمی صاحب کو خدا کی طرف سے رہنمائی اور دو نگیری کا ایسا ہنر عطا ہوا ہے کہ وہ آپ کے اندر پیدا ہونے والی الجھنوں سے آپ کو آپ ہی کی بدولت نکال دیتے ہیں۔ یعنی جو گر ہیں آپ نے اپنی ذات کی میں کہنے میں خود لگائی تھیں انہیں آپ کے ہاتھوں ہی کھلوا کر آپ کو پانا کھانا بنا دیتے ہیں اور پھر آپ کو اپنے کئے پررشر مند ہونے کا موقع بھی فراہم نہیں کرتے۔ “
ممتاز دانشور اشفاق احمد کا حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؒ کو خراج تحسین ممتاز دانشور اور ادیب ، ڈرامہ وافسانہ و کالم نگار اور مشہور زمانہ ڈرامہ سیریل “من چلے کا سودا” کے مصنف اشفاق احمد لکھتے ہیں۔ ممتاز دانشور شفاق احمد کہتے ہیں۔۔۔۔
اول اول میں ان (خواجہ شمس الدین عظیمی ) سے ان کے رسالے روحانی ڈائجسٹ کے ذریعے متعارف ہوا، پھر ملاقاتیں ہونے لگیں۔ درمیان میں مباحث کا سلسلہ شروع ہوا۔ پھر میری تشکیک کے بہت سے نا آسودہ زخموں کی انہوں نے جراحت کی اور کئی الجھیلے مقامات سے ہاتھ پکڑ کر گزارا۔ میرے اندر نہ ماننے کا زہر کچھ اتنی دور تک سرایت کر چکا ہے کہ آفتاب کو بھی دلیل آفتاب ماننے سے انقباض ہوتا ہے اور میں لوٹ لوٹ کر واپس اسی جگہ پر پانی جاتا ہوں جہاں سے چلا تھا۔ پہلے مجھے اس پر غصہ آتا تھا۔ اب نہیں . اب میں اچھی طرح جان گیا ہوں کہ ایک بندہ بشر ایک بندہ بشر ہی ہو سکتا ہے۔ اس سے زیادہ نہیں لیکن عظیمی صاحب کو خدا کی طرف سے رہنمائی اور دیگیری کا ایسا ہنر عطا ہوا ہے کہ وہ آپ کے اندر پیدا ہونے والی الجھنوں سے آپ کو آپ ہی کی بدولت نکال دیتے ہیں۔ یعنی جو گر ہیں آپ نے اپنی ذات کی مشکیں کہنے میں خود لگائی تھیں انہیں آپ کے ہاتھوں ہی کھلوا کر آپ کو ہلکا پھلکا بنا دیتے ہیں اور پھر آپ کو اپنے کئے پر شرمندہ ہونے کا موقع بھی فراہم نہیں کرتے ۔ اشفاق احمد مزید فرماتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عظیمی صاحب کی تحریر کا اپنا اسلوب ہے۔ میں نے آپ کو اوائل دور میں کام کرتے دیکھا ہے۔ آپ کی میز کرسی ٹیڑھی تھی، پھر میں نے نوٹ کیا کہ آدمی کے اندر سچائی ہو اپنی طرز کی تو وہ ٹیڑھی جگہ پر بیٹھ کر بھی سید ھے جواب دے سکتا ہے۔ آپ نے میلوں کا سفر ایک جست میں طے کیا ہے۔ انسان صرف روٹی کپڑا اور مکان ہی نہیں ہے۔ ہم ایک تین منزلہ ایسی عمارت میں رہتے ہیں جس میں ہمارا جسم ، روٹی ، کپڑا اور مکان ہے۔ اس کے اوپر ایک چوبارہ ہے۔ جو عقل کا چوہارہ ہے۔ جو ذہن کا ہے۔ بھیڑیا، کنا، شیر، مچھلی، بھینس، یہ سب روٹی ، کپڑا اور مکان ہیں۔ میں اوور منزل چوبارہ رکھتا ہوں جو ذہن سے تعلق رکھتا ہے۔ میں سردیوں کی رات میں ٹھٹھرتا سائیکل پر چڑھ کر سات میل کا فاصلہ طے کر کے نصرت
فتح کا ایک سر سنے جاتا ہوں۔ اس میں نہ روٹی ہے، نہ کپڑا ہے، نہ مکان ہے، نہ بنک بیلنس بڑھتا ہے۔ میں تو بلکہ کوئی نقصان کر کے آتا ہوں لیکن میں جاتا ہوں۔ میں مشاعرہ سننے جاتا ہوں۔ اس میں مجھے کیا ملتا ہے۔ یہ انسانیت کا عقل کا چو بارہ ہے۔ جس کو وہ بھرتارہتا ہے اگر وہ کاٹ کر پھینک دیا جائے تو وہ مر جائے گا۔ بھینس نہیں مرتی۔ بھینس اگر مشاعرہ میں نہ جائے تو کچھ نہیں ہوتا اس کو ۔ ٹھیک ہے وہ زندہ ہے وہ۔ شیر بہر ہے، وہ اگر پکا راگ نہ سنے تو ٹھیک رہتا ہے۔ اب اس چوہارے کے اوپر ایک اور چو ہارہ ہے جو عقل سے بھی اونچا ہے، وہ روحانیت کا ہے۔ اس کے اندر گند بلاہ گھوڑ پھونس، ٹوٹے ہوئے چوتھے، پرانی چار پائیاں، بان کے بنے، پرانے ٹین کنستر، بوریاں، سیمنٹ کے تھیلے پڑے ہوئے ہیں۔ تالا ڈالا ہوا ہے۔ اس کے اندر بھی کبھی کوئی اوپر چڑھ کر کہتا ہے کہ امی ابیا اچھا بھلا تو کمرہ ہے، اس کو تو صاف کروائیں۔ کہنے لگیں۔ دفع کرو، کوئی اوپر نہیں جاتا، چھوڑ دو۔ اس نے کہا، میں اسے صاف کر کے اس میں دری بچھالوں۔ کہنے لگیں، نہ نہ خبردار ! یہاں جا کر کیا کرنا ہے۔ اتنے سارے کمرے میں اسی میں رہو۔ ہمارا تیسرا چو ہارہ تو ہے لیکن آسیب زدہ ہے۔ تو جب کوئی بندہ اس کے قریب کھڑا ہو کر بات کرے تو وہ کہتا ہے کہ ہاں ! آج پہلی دفعہ اس کے دروازے جنبنائے ہیں یا اس کے اوپر بارش ہوئی ہے۔ اس میں سے سوندھی خوشبو نکلتی ہے۔ عظیمی صاحب کا کمال ہے کہ انہوں نے وہ پرانے چوبارے، گوڑ پھونس والے، گند بلا والے صاف کئے ہیں۔ عظیمی صاحب کا ہی کمال ہے کہ جو گر ہیں ہم نے اپنی شخصیت میں خود ہی لگائی ہوتی ہیں۔ وہ گر میں معظیمی صاحب ہمارے ہی ہاتھوں سے اس طرح کھلواتے چلے جاتے ہیں کہ ہمیں اس دوران اس کا احساس بھی نہیں ہوتا اور ہم ہلکے پھلکے ہو جاتے ہیں۔
![]()

