Daily Roshni News

بڑھتے ہوئے نفسیاتی امراض۔۔۔قسط نمبر2

بڑھتے ہوئے نفسیاتی امراض

قسط نمبر2

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ بڑھتے ہوئے نفسیاتی امراض)نہیں ہوپاتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس مرض میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ڈپریشن کے دوران جسم کا مدافعتی نظام شدید دباؤ میں ہوتا ہے۔ دل کی دھڑکن غیر معمولی تیز ہوجاتی ہے ۔ بلڈ پریشر، خون میں شکر اور کولیسٹرول کی سطح بڑھ جاتی ہے اس کے علاوہ امراض قلب اور دیگر مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ ڈپریشن میں مبتلا افراد کی سماجی زندگی بری طرح متاثر ہوجاتی ہے۔ چونکہ ذہنی امراض کو ہمارے ہاں عموماً مرض کے طور پر لیا ہی نہیں جاتا اور نہ ہی اُنہیں قابلِ علاج سمجھا جاتا ہے چنانچہ ذہنی مریضوں کے ساتھ لوگوں کے رویے بھی بعض مرتبہ انتہائی درجے کے غیر اخلاقی اور غیر انسانی ہوجاتے ہیں۔

ذہنی صحت کے حوالے سے سنگین ترین حقائق کا تقاضہ ہے کہ عوام کو ذہنی و نفسیاتی امراض سے آگاہ کیا جائے، اس کی علامات بتائی جائیں، وہ اقدامات ان کے علم میں لائے جائیں جن پر عمل کرکے وہ خود اور اپنے اردگرد موجود لوگوں کو صحت کے لیے بہتر ماحول اور بنیاد فراہم کرسکیں۔

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ذہنی و نفسیاتی عارضے کسی ایک طبقے یا صنف تک محدود نہیں ہیں۔ معاشرے کے ہر طبقے کے افراد خواہ وہ غریب ہوں یا امیر، بچے ہوں یا بوڑھے روز مرّہ زندگی کے مسائل سے اُلجھ کر نفسیاتی عارضوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ یہ حقیقت بھی اٹل ہے کہ ہمارے معاشرے میں جبر برداشت لوگ خصوصاً عورتیں اور بچے خاص طور پر ذہنی دباؤ میں ہوتے ہیں۔

460 قبل از مسیح میں مشہو ریونانی طبیب بقراط نے بتایا تھا کہ ذہنی امراض کا علاج پیار محبت، ہمدردی اور ادویات میں موجود ہے۔ لیکن بعد میں ذہنی امراض کو جادوگری کا نام دیا گیا اور علاج کے لیے طرح طرح کے ظالمانہ طریقے آزمائے گئے۔ مریضوں کو رسیوں اور زنجیروں سے باندھ دیا جاتا اور آبادی سے دور تنہا چھوڑ دیا جاتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اتنی ترقی ہوئی کہ ذہنی مریضوں کے لے ہسپتال بن گئے لیکن ان میں سے اکثر کسی اذیت خانے سے کم نہیں تھے۔ 1700ء کے بعد حالات میں بہتری آنا شروع ہوئی اور ذہنی و نفسیاتی امراض پر تحقیق اور مطالعہ کا آغاز ہوا۔ اور 1800ء کے بعد شدید ذہنی عارضوں کے لیے ادویات تیار کی گئیں۔

مختلف نفسیاتی امراض کی وجوہات عام طور پر یہی بیان کی جاتی ہیں کہ عموماً یہ مرض گھر کے لوگوں کی عدم توجہ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، لہٰذا ان مریضوں سے گھر کے افراد کو مریض کے ساتھ خصوصی ہمدردی و محبت کا اظہار کرنا چاہیے۔ ایسے لوگ عام لوگوں سے زیادہ توجہ کی مستحق ہوجاتے ہیں۔

ذہنی صحت کے حصول کا سب سے اہم اور آسان ذریعہ ہمارے دوست، احباب ہیں۔ اگر آپ اپنے قریبی شخص کی بات سننا گوارا نہیں کرتے تو وہ بہت سی ذہنی اُلجھنوں میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ وہ کسی سے توقع قائم کرتا ہے کہ وہ شخص اس کے مسئلہ کو زیادہ بہتر طور پر حل کرسکتا ہے۔

ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اگر کسی شخص سے کسی کو تکلیف پہنچ رہی ہے یا کوئی مسئلہ درمیان میں ہے تو کوشش کی جاتی ہے کہ یا تو قطع تعلق کرلیا جائے یا نظر انداز کردیا جائے۔

بہتر حل یہی ہے کہ موجودہ مسئلہ پر گفتگو کی جائے۔ معاشرے میں ہر طبقہ اور اندازِ فکر کے لوگ موجود ہوتے ہیں، ان فکری اختلافات کو ان کا مسئلہ بنانے کے بجائے تحمل اور رواداری سے کام لینا ضروری ہے۔ جو اُلجھن ایک فرد کے ذہن میں ہے اس کا اظہار اپنے کسی دوست، سہیلی یا قابلِ اعتبار رشتہ دار سے کرنا چاہیے۔ وہ ذہنی اُلجھن جو ایک آدمی بیان نہ کرسکتے ہوں وہ اس کے جسمانی نظام کو سخت نقصان پہنچاسکتی ہے۔

یاد رکھیے! وہ لمحہ آپ کے لیے بہت اہمیت اور ذمہ داری کا حامل ہے کہ جب کوئی شخص آپ سے اپنی بات کہنے کے لیے آپ کا کچھ وقت مانگے ….اگر آپ نے اُسے وقت نہیں دیا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر وہ کسی بڑی ذہنی یا نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہوجائے۔ اگر آپ کسی پریشان شخص کے لیے کچھ نہیں کرسکتے تو کمِ از کم اس کی بات ضرور سن لیجیے۔

آج ذہنی و نفسیاتی مسائل کے علاج کے بےشمار طریقے ہیں، ان میں بعض شدید امراض کا علاج مسکن ادویات اور تھراپی سے کیا جاتا ہے، بعض مسائل کو ماہر سائیکالوجسٹ بات چیت اور کاؤنسلنگ کے ذریعے حل کرتے ہیں، بعض مسائل کے لیے آرٹس اور تخلیقی ایکٹویٹیز (مصوری، باغبانی، فنون لطیفہ) کا سہارا لیا جاتا ہے، ذہنی مسائل سے نمٹنے کے لیے متبادل طریقہ علاج بھی ہوتے ہیں، جن میں یوگا، مراقبہ، اروما تھراپی، جڑی بوٹیوں سے علاج اور ایکوپنکچر جیسے علاج شامل ہیں۔

ذہنی و نفسیاتی مسائل کا ایک موثر علاج ، اللہ کے ذکر ، عبادات اور روحانی علاج میں ہے۔ جس میں کبھی لوگوں کو عبادت یا نوافل کے ذریعے ، کبھی قرآنی آیت، مسنون دعاؤں اور اسمائے الٰہیہ کو مخصوص تعداد اور طریقے کے مطابق پڑھنے اور دَم کرنے اور اولیاء اللہ کے تجویز کردہ وظائف یا تعویز بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ ستمبر 2021

Loading