بڑھتے ہوئے نفسیاتی امراض
قسط نمبر1
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ بڑھتے ہوئے نفسیاتی امراض)ہر شخص یہ حق رکھتا ہے کہ وہ ایک صحت مند اور خوش گوار زندگی بسر کرے۔ بھوک ، پیاس، نیند، آرام، پانی ، غذا، ہوا، تحفظ، گھر اور افزائشِ نسل…. ان سب چیزوں کے ساتھ زندگی کو جس شے کی ضرورت ہوتی ہے وہ ذہنی سکون ہے۔
ذہنی سکون میسر ہو تو ذہن صحت مند سرگرمیوں کی طرف متوجہ ہوکر اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاتا ہے، ذہنی سکون ہمیں زندگی کی دیگر ضرورتوں ، نعمتوں اور رحمتوں سے لطف اندوز کرتا ہے اور ہمیں جینے کا حوصلہ اور آگے بڑھتے رہنے کا ولولہ عطا کرتا ہے اگر کسی وجہ سے ہماری زندگی ذہنی سکون سے عاری ہوجائے تو زندگی سو طرح کے وسوسوں اور اندیشوں، فکروں اور پریشانیوں میں گھر جاتی ہے۔ آج کی دنیا میں بےشمار لوگ کسی نہ کسی شکل میں کسی نہ کسی ڈپریشن اور انگزائٹی میں مبتلا ہیں۔ اس کا سدِ باب وقت پر نہ ہو تو نفسیاتی اور ذہنی امراض جنم لینے لگتے ہیں۔
ذہنی دباؤ (اسٹریس)، تناؤ (ٹینشن)، مایوسی و افسردگی (ڈپریشن)، بے چینی (نروسنیس)، گھبراہٹ (انگزائٹی)، خوف، دہشت، بے جا خوف (فوبیا)، ہائپرٹینشن، وسوسہ، واہمہ (شیزوفرینیا) ، چڑچڑا پن (فرسٹریشن)، جارحیت (ایگریسونیس)، اضمحلال SAD ، خبط OCD، صدمہ PTSD، مالیخولیا، بائی پولر ڈس آرڈر، ہسٹریا، ڈسلیکسیا، شک، حسد، نیند کی کمی ، پریشان کن خواب، احساس کمتری، ناکامی، پژمردگی اور دیگر نفسیاتی الجھنیں وغیرہ موجودہ دور کے عام مسائل ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں ذہنی امراض کی شدت تشویش ناک صورت اختیار کرچکی ہے۔ آج سے بیس برس قبل ڈبلیو ایچ او اور ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹس میں یہ اندازہ لگایا تھا کہ 2020ء میں انسانوں کی ذہنی و جسمانی مشکلات کی سب سے بڑٰ ی وجہ نفسیاتی امراض ہوں گے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں لگ بھگ 45 کروڑ افراد کسی نہ کسی ذہنی عارضے میں مبتلا ہیں جن میں سب سے زیادہ پائی جانے والی ذہنی بیماریاں ڈپریشن اور شیزو فرینیا ہیں۔ان میں سے نصف کا فوری طور پر علاج ضروری ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ہر 4 بالغ افراد میں سے 1 اور ہر 10 بچوں میں سے ایک کو ذہنی امراض یا ذہنی مسائل کا سامنا ہے۔
دنیا میں نفسیاتی عوارض میں مبتلا مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے چین پہلے نمبر پر، بھارت دوسرے، امریکہ تیسرے، برازیل چوتھے، روس پانچویں، انڈونیشیا چھٹے، پاکستان ساتویں، نائیجریا آٹھویں، بنگلادیش نویں اور میکسیکو دسویں نمبر پر ہے۔
وطن عزیز پاکستان ذہنی امراض کے لحاظ سے صف اول کے 10 ممالک میں شامل ہے جو ایک تشویش ناک بات ہے۔ اِس مشینی اور جدید دور میں بہت ساری آسائشوں اور سہولیات کے باوجود انسان کسی نہ کسی مسئلے کی وجہ سے ڈپریشن یا ذہنی امراض میں مبتلا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اِس وقت پاکستان میں 50 ملین یعنی 5 کروڑ افراد مختلف قسم کے نفسیاتی امراض اور ڈپریشن کے مریض ہیں۔ مزاج کا چڑچڑاپن، غصہ، اداسی، نیند اور بھوک کا ڈسٹرب ہونا، وزن میں کمی بیشی، یکسوئی واعتماد میں کمی اور مایوسی کا در آنا ذہنی صحت کے متاثر ہونے خصوصاًاسٹریس اور ڈپریشن کی علامات ہو سکتی ہیں۔
پاکستان سائیکائٹرک سوسائٹی کےمطابق پاکستان میں ذہنی اور نفسیاتی امراض میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ملک کی 25 فیصد آبادی کو کسی نہ کسی نفسیاتی یا ذہنی مرض کا سامنا ہے۔ پاکستان نیورولوجی اویئرنیس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 22 کروڑ کی آبادی میں مجموعی طور پر 6 کروڑافراد مختلف ذہنی اور نفسیاتی امراض میں مبتلا ہونے کا خدشہہے ۔
ذہنی امراض میں مبتلا ہونے والوں میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔ کسی ایک انسان کے دماغی مرض سے صرف وہی نہیں بلکہ اس سے وابستہ دیگر افراد بھی متاثر ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پچھلی ایک دہائی میں ذہنی امراض میں ہمارے ہاں چھ سے نو فیصد اضافہ ہوا، پاکستان میں ذہنی امراض کی شرح بہت سے دوسرے ترقی پذیر ممالک کی نسبت زیادہ ہے اور اس کی بڑی وجہ غیریقینی حالات اور غیر محفوظ زندگی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق قدرتی آفات، دہشت گردی اور بےامنی بےروزگاری ذہنی امراض کی بنیادی وجوہات ہیں۔
کم از کم 38 فیصد پاکستانی کثیر الجہتی غربت میں زندگی گزارتے ہیں جبکہ ایک تہائی سے زائد پاکستانی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، یوں آبادی کی ایک بڑی تعداد کو ذہنی صحت کے مسائل کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ اندازہ ہے کہ پاکستان کی آبادی کا 6فیصد ڈپریشن، 1.5 فیصد شیزوفرنیا میں مبتلا ہے۔
پاکستان میں ذہنی امراض میں اضافے کی بہت ساری وجوہات ہیں، گھریلو جھگڑے خصوصاً میاں بیوی کی ناچاقی کی صورت میں ان کے بچوں پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ذہنی امراض میں اضافہ کی ایک اور وجہ جبری شادیاں بھی بتائی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے بہت سارے نفسیاتی امراض جنم لیتے ہیں۔ ذہنی صحت کے انحطاط کی ایک اہم اور بنیادی وجہ بیِروزگاری ہے۔ اقتصادی بحران اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے بیِروزگاری اور غربت کی شرح میں اضافہ ہوجاتا ہے جوکہ شدید ذہنی امراض کا سبب بنتا ہے۔ معاشرتی ناہمواریاں اور ناانصافی اور بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ اور مایوسی نے خود کشی کے رجحان میں اضافہ کیا ہے ۔ بیِروزگاری ، غربت اور مہنگائی کے باعث خودکشی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق 44فیصد افراد، جن میں اکثریت خواتین کی ہے، معاشرہ میں معاشی اور سماجی دباؤ اور کم تر مقام کے باعث ذہنی امراض میں مبتلا ہوتے ہیں۔
دیگر جسمانی امراض کی طرح ذہنی امراض کی بھی تشخیص اور علاج بروقت ہونا ضروری ہے۔ جس کا علاج ایک عام معالج کی بجائے ایک سائیکاٹرسٹ کرتا ہے۔ بہت سے لوگ ماہر نفسیات کے پاس جانے کے بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور دیگر قریبی لوگ بھی اس شخص کو بیمار تصور نہیں کرتے چنانچہ ڈاکٹر کے پاس جانے اور علاج کرانے کا سوال ہی پیدا ۔۔۔جاری ہے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ ستمبر 2021
![]()

