شہید نبی کے تابع ہوتا ہے
( ماخوذ از کتاب :- اللہ کے محبوب ﷺ
تحریر :- خواجہ شمس الدین عظیمی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شہید نبی کے تابع ہوتا ہے۔۔۔ تحریر :- خواجہ شمس الدین عظیمی )شہید نبی کے تابع ہوتا ہے نبی شہید کے تابع نہیں ہوتے۔ جب شہدا زندہ ہیں تو قرآن پاک کے بیان کردہ قانون کے مطابق انبیاء بھی زندہ ہیں اور حضور پاک ﷺ جو تمام انبیاء کے سردار و امام ہیں وہ بھی اسی طرح زندہ ہیں جس طرح اپنی حیات مبارکہ میں اس دنیا میں موجود تھے اور اب بھی اسی طرح موجود ہیں۔ درود شریف کے فضائل میں ہے کہ جب کوئی بندہ حضور پاک ﷺ پر درود بھیجتا ہے تو سارے پردے ہٹ جاتے ہیں اور بندہ خود کو حضور علیہ الصلٰواۃ والسلام کے روضہ مبارک کے سامنے دیکھتا ہے۔
حضور پاک ﷺ نور تھے یا بشر اور آپ ﷺ کو غیب کا علم تھا یا نہیں ؟ اس سلسلے میں حضور پاک ﷺ کی اُمت میں دو گروہ کام کر رہے ہیں ایک گروہ حضور پاک ﷺ کے بارے میں دماغی سوچ و بچار سے کام لیتا ہے۔ یہ لوگ جب دماغ کا استعمال کرتے ہیں تو اس قسم کے سوالات ابھرتے ہیں کہ حضور ﷺ نور تھے یا بشر اور آپ ﷺ کو غیب کا علم تھا یا نہیں اور ایسی گستاخی ہو جاتی ہے۔ کچھ لوگ آپ کو بڑے بھائی کا درجہ دے دیتے ہیں جس سے اسلام کی عمارت ہی ڈھیر ہو جاتی ہے۔ بڑے بھائی سے اختلاف اور لڑائی بھی ہو سکتی ہے جبکہ اللّٰہ تعالٰی نے حضور پاک ﷺ سے اونچی آواز میں بات کرنے سے بھی منع فرمایا ہے اور آپ ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے۔ ارشاد ہے کہ :
-
جو میرے محبوب سے محبت کرتا ہے میں اس سے محبت کرتا ہوں
دوسرا طبقہ حضور پاک ﷺ سے دلی و قلبی تعلق رکھتا ہے۔ قلب اس لئے صحیح فیصلہ کرتا ہے کیوں کہ وہ عقل کی بجائے نور کا وجدان رکھتا ہے۔ اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ میں مومن کے دل میں رہتا ہوں یہ نہیں فرمایا کہ میں مومن کے دماغ میں رہتا ہوں۔
حقیقت یہ ہے کہ رسول پاک ﷺ بشر بھی ہیں اور بحیثیت خاتم النبین، رحمت للعالمین اور اللّٰہ کے محبوب ! ……… ” نور ” ہیں۔ اگر حضور پاک ﷺ بشر نہ ہوتے تو اپنی امت کی بشری کمزوریوں کو کس طرح دور فرماتے۔
حضور پاک ﷺ بازار تشریف لے جاتے تھے ، کاروبار کرتے ، کھانا کھاتے تھے ، آپ ﷺ نے شادی کی تھی ، نبی کریم ﷺ کے بچے بھی تھے۔ انہوں نے جہاد بھی فرمایا۔ اس لئے کہ ان کے اندر بشری تقاضے موجود تھے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ ہمارے جیسے بشر تھے۔ بشری تقاضا ہونا ایک الگ بات ہے ایک عام آدمی جب کسی بشری تقاضا کو پورا کرتا ہے تو اُس کے سامنے اُس کی اپنی ذات ، اولاد ، بیوی یا ماں باپ ہوتے ہیں لیکن جب آپ رسول اللّٰہ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہاں ایک ہی بات نظر آتی ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے بشری تقاضوں کی تکمیل بھی صرف اللّٰہ کیلئے کی ہے۔
( ماخوذ از کتاب :- اللّٰہ کے محبوب ﷺ
تحریر :- خواجہ شمس الدین عظیمی )
#everyone #friends #Pakistan #muslim #foryouシ #foryoupageシ #azeemia #خدااورمیں #Allahuakb
![]()

