بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اے عزیز سالک
نو قسطوں کا یہ مبارک سفر نفی و اثبات کی دہلیز سے اٹھ کر، ذکرِ قلبی کی گہرائیوں سے گزر کر، ہر سانس کو عبادت بنا کر، موتِ ارادی کی آگ میں تپ کر، وسوسوں کے طوفان میں ثابت قدم رہ کر، مشاہدے کی روشنی میں نہا کر، فنا کی بے خودی میں ڈوب کر، بقا کے سکون میں لوٹ کر، اور شیخ کی نگاہ کا فیض پا کر اب اُس آخری منزل کی دہلیز پر آ کھڑا ہوا ہے جہاں سالک کا سفر ختم نہیں ہوتا، بلکہ ایک ایسی ابدی حالت میں ڈھل جاتا ہے جسے الفاظ میں سمیٹنا ممکن نہیں مگر دل جسے پہچان لیتا ہے۔
یہ توکل اور تسلیم و رضا کا مقام ہے۔
یہ وہ منزل ہے جہاں طوفان آئیں مگر دل نہ ہلے، جہاں دنیا اُلٹ پلٹ ہو جائے مگر باطن میں ایک سکون کا سمندر ٹھہرا رہے، جہاں ملے تو شکر اور چھن جائے تو شکر کیونکہ دونوں صورتوں میں وہی دینے والا ہے، وہی لینے والا ہے، اور وہی سب سے بڑا ہے۔
آؤ، آج اِس منزل کو اُس بادشاہ کی زندگی سے سمجھیں جس نے تاجِ شاہی اپنے ہاتھ سے اتارا اور فقر کی خاک کو اپنے سر پر سجایا، اور پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ بادشاہ تھا۔
سلسلہ: ذکرِ حق سفرِ باطن
قسط دہم: توکل اور تسلیم و رضا
جب دل طوفان میں بھی آرام کرے
اور حضرت ابراہیم بن ادہمؒ کی وہ شاہانہ فقیری جس نے تاجِ محبت پایا۔۔۔
آیتِ کریمہ:
اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
“اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اُس کے لیے کافی ہے، بے شک اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے، اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔”
(سورۃ الطلاق: ۳)
اِس آیت میں تین جملے ہیں اور تینوں مل کر توکل کی پوری تصویر بناتے ہیں۔
پہلا جملہ بتاتا ہے کہ توکل کا صلہ کیا ہے، اللہ خود کافی ہو جاتا ہے۔
دوسرا جملہ بتاتا ہے کہ ڈر کیوں نہیں، کیونکہ اللہ کا کام کبھی ادھورا نہیں رہتا۔
اور تیسرا جملہ وہ سب سے گہرا سکون دیتا ہے جو انسانی عقل کو ملتا ہے، ہر چیز کا اندازہ مقرر ہے، کچھ بھی بے ترتیب نہیں، کچھ بھی اتفاق نہیں، ہر لمحہ اُسی کے حکم سے ہے۔
جب یہ یقین دل میں اتر جائے تو خوف کہاں رہتا ہے؟ پریشانی کہاں رہتی ہے؟ بے چینی کہاں رہتی ہے؟
حدیثِ رسول ﷺ ہے
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقائے دوجہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“اگر تم اللہ پر اِس طرح توکل کرو جیسا توکل کرنے کا حق ہے، تو اللہ تمہیں اُسی طرح رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے وہ صبح کو خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔”
(ترمذی، ابنِ ماجہ)
اور ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
“اللہ فرماتا ہے:
اے ابنِ آدم میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا، میں تیرے سینے کو غنا سے بھر دوں گا اور تیری فقر کو دور کر دوں گا، اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے ہاتھوں کو مشغولیت سے بھر دوں گا اور تیری فقر کو دور نہ کروں گا۔”
(ترمذی، ابنِ ماجہ)
اے سالک یہ دوسری حدیثِ قدسی سنو اور غور کرو جو شخص اللہ کے لیے فارغ ہو جائے، اللہ اُس کے لیے ہر چیز کا ذمہ لے لیتا ہے۔ یہی توکل کا اصل معنی ہے، اپنے معاملات اللہ کو سونپ دینا۔
وہ رات جب ایک بادشاہ فقیر بنا
اے سالک راہ حق اب وہ داستان سنو جو صدیوں سے دلوں کو جھنجھوڑتی آئی ہے، وہ داستان جو بتاتی ہے کہ توکل کا راستہ کبھی کبھی ایک ہی لمحے میں کھلتا ہے، مگر اُس ایک لمحے کے لیے ساری زندگی کی تیاری چاہیے۔
بلخ کا شہر خراسان کا وہ شہر جو اپنی دولت اور شان و شوکت کے لیے مشہور تھا۔ اُس شہر کا بادشاہ تھا ابراہیم بن ادہم،، جوان، خوبصورت، طاقتور، لاکھوں کا مالک۔ محل میں ہر نعمت تھی، ہر آرام تھا، ہر خوشی تھی۔
ایک رات، وہ رات جسے تاریخ نے محفوظ رکھا، ابراہیمؒ اپنے شاہی بستر پر لیٹے تھے۔ رات گہری تھی، محل خاموش تھا، پہرہ دار اپنی جگہ تھے۔
اچانک چھت پر سے ایک آواز آئی بھاری قدموں کی آہٹ۔
ابراہیمؒ چونک کر اٹھے اور پوچھا: “کون ہے؟”
آواز آئی: “مسافر ہوں اونٹ کھو گیا ہے، اِسی سرائے میں تلاش کر رہا ہوں۔”
ابراہیمؒ نے غصے سے کہا: “یہ سرائے نہیں، شاہی محل ہے۔”
آواز آئی: “تو پھر اِس محل سے پہلے یہاں کون رہتا تھا؟”
ابراہیمؒ نے کہا: “میرے باپ۔”
“اور اُن سے پہلے؟”
“میرے دادا۔”
“اور اُن سے پہلے؟”
ابراہیمؒ خاموش ہو گئے۔
آواز نے فیصلہ سنایا:
“تو پھر یہ سرائے ہی ہوا جہاں ایک آتا ہے، ٹھہرتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ جو سرائے ہو، وہاں اونٹ بھی تلاش ہو سکتا ہے۔”
اور پھر خاموشی چھا گئی۔
ابراہیمؒ بستر پر بیٹھے رہے۔ وہ آواز کہاں سے آئی، کون تھا یہ انہیں معلوم نہ ہوا۔ مگر وہ الفاظ اُن کے سینے میں اتر گئے جیسے تیر اتر جاتا ہے، گہرے، پیوست، ناقابلِ واپسی۔
اُس رات نیند نہ آئی۔
صبح ہوئی تو ابراہیمؒ اٹھے، اپنا شاہی لباس اتارا، سادہ کپڑے پہنے، خزانے کی چابیاں امیروں کے حوالے کیں اور محل سے باہر نکل آئے۔
کسی نے پوچھا: “کہاں جا رہے ہو؟”
فرمایا: “اصل مالک کی تلاش میں جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔”
پھر برسوں کا سفر تھا۔ بھوک تھی، تھکن تھی، بے گھری تھی، مگر ابراہیمؒ کے چہرے پر وہ سکون تھا جو شاہی محل میں کبھی نہ تھا۔
ایک روز کسی نے پوچھا: “حضرت آپ بادشاہ تھے، کیا آپ کو اُس زندگی کی یاد نہیں آتی؟”
حضرت ابراہیم بن ادہمؒ نے مسکرا کر فرمایا:
“بادشاہت میں ایک لمحے کا سکون نہ تھا، ہر وقت کا ڈر, دشمن کا خوف، مال کی حفاظت کی فکر، لوگوں کی نگاہ کا بوجھ۔ مگر جب سے اللہ کا ہوا ہوں، ایک لمحے کی بے چینی نہیں، وہ دیتا ہے تو شکر ہے، نہیں دیتا تو صبر ہے، اور دونوں میں وہی ہے۔ بتاؤ، بادشاہ میں تھا یا اب ہوں؟”
ایک اور واقعہ ہے جو توکل کی اُس گہرائی کو چھوتا ہے جہاں عقل حیران رہ جاتی ہے۔
ایک دن حضرت ابراہیمؒ سمندر کے کنارے بیٹھے تھے، بھوک تھی، جیب خالی تھی، سر پر چھت نہ تھی۔ ایک شاگرد نے غمگین ہو کر کہا:
“حضرت آج کھانا کہاں سے آئے گا؟”
آپؒ نے آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرا کر فرمایا:
“جس نے آج تک دیا، اُسی سے امید ہے۔”
ابھی یہ الفاظ زبان سے نکلے ہی تھے کہ سمندر سے ایک مچھلی اچھل کر باہر آئی اور ساحل پر آ گری۔
شاگرد نے حیرت سے دیکھا۔
آپؒ نے فرمایا:
“دیکھا؟ جو اللہ پر چھوڑ دے، اللہ سمندر کو بھی اُس کا خادم بنا دیتا ہے۔ توکل یہ نہیں کہ کام چھوڑ دو توکل یہ ہے کہ کام کرو مگر نتیجہ اُسی کے حوالے کر دو۔”
توکل کیا ہے:
توکل کا لفظی مطلب ہے کسی پر بھروسہ کر کے اُسے وکیل بنانا۔ اور روحانی معنی میں توکل یہ ہے کہ سالک اپنے تمام معاملات، رزق، صحت، عزت، مستقبل اللہ کے حوالے کر دے اور خود ذرہ برابر فکر نہ کرے۔
مگر یہاں ایک نہایت اہم بات سمجھو جو بہت سے لوگ نہیں سمجھتے:
توکل کام چھوڑنے کا نام نہیں توکل فکر چھوڑنے کا نام ہے۔
اونٹ باندھو، پھر اللہ پر توکل کرو یہ آقائے دوجہاں ﷺ کا ارشاد ہے۔ کام کرو، کوشش کرو، محنت کرو مگر دل میں یہ یقین رکھو کہ نتیجہ میرے ہاتھ میں نہیں، اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اور اللہ کے ہاتھ میں جو ہو، وہ بہترین ہاتھوں میں ہے۔
توکل کے تین درجے
اہلِ تصوف نے توکل کے تین درجے بیان کیے ہیں:
پہلا درجہ توکلِ عوام:
یہ وہ توکل ہے جب بندہ اللہ کی رحمت پر یقین رکھتا ہے مگر دل میں فکر بھی رہتی ہے۔ وہ اللہ سے مانگتا ہے، اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے، مگر جب آزمائش آتی ہے تو بے چینی بھی ہوتی ہے۔ یہ توکل کمزور نہیں یہ ابتدا ہے۔
دوسرا درجہ توکلِ خواص:
یہ وہ توکل ہے جب بندہ اپنی حالت اللہ کے حوالے کر دیتا ہے اور فکر کم ہو جاتی ہے۔ وہ ایسا ہوتا ہے جیسے کوئی بیمار کسی ماہر ڈاکٹر کے ہاتھ میں ہو وہ جانتا ہے کہ ڈاکٹر سمجھتا ہے، تو وہ خود پریشان نہیں ہوتا۔ مگر اُسے یہ احساس رہتا ہے کہ میں ڈاکٹر کے ہاتھ میں ہوں۔
تیسرا درجہ توکلِ خواص الخواص:
یہ وہ اعلیٰ ترین توکل ہے جہاں بندہ اللہ کے ہاتھ میں اِس طرح ہوتا ہے جیسے غسل دینے والے کے ہاتھ میں مردہ کوئی اپنی حرکت نہیں، کوئی اپنی مرضی نہیں، کوئی اپنا اصرار نہیں۔ جو اللہ چاہے، جیسے اللہ چاہے، سب قبول۔
حضرت ابراہیم بن ادہمؒ اِسی مقام پر تھے۔
تسلیم و رضا توکل کا پھل:
توکل کا پھل “تسلیم و رضا” ہے۔
تسلیم یہ ہے کہ اللہ کے فیصلے کو سر جھکا کر قبول کرنا۔ اور رضا یہ ہے کہ اللہ کے فیصلے کو سر جھکا کر نہیں خوشی سے قبول کرنا۔
تسلیم میں ایک سکون ہے، مگر رضا میں ایک لذت ہے۔
تسلیم میں انسان کہتا ہے: “اللہ نے دیا، قبول ہے۔”
رضا میں انسان کہتا ہے: “اللہ نے دیا، اور جو اللہ نے دیا وہ سب سے بہتر ہے میں خوش ہوں۔”
حضرت رابعہ بصریؒ سے جن کا ذکر چھٹی قسط میں آیا کسی نے پوچھا:
“کیا تم اللہ سے محبت کرتی ہو؟”
فرمایا: “ہاں۔”
“کیا تم شیطان سے نفرت کرتی ہو؟”
آپؒ نے تھوڑا رک کر فرمایا: “اللہ کی محبت نے مجھے اِتنا بھر دیا ہے کہ شیطان کی نفرت کے لیے جگہ نہیں بچی۔”
یہی رضا ہے جب محبت اتنی بھر جائے کہ شکوے کی جگہ نہ رہے، نفرت کی جگہ نہ رہے، خوف کی جگہ نہ رہے بس محبوب رہے اور محبت رہے۔
آج کی آخری قسط میں ایک لمحے کے لیے پیچھے مڑ کر دیکھو۔
پہلی قسط میں ہم نے ‘لا الہ الا اللہ’ سے دل کا گھر صاف کیا۔
دوسری قسط میں ذکر دل تک پہنچایا۔
تیسری قسط میں ہر سانس کو ذکر بنایا۔
چوتھی قسط میں موتِ ارادی سے نفس کو توڑا۔
پانچویں قسط میں وسوسوں کا علاج پایا۔
چھٹی قسط میں مشاہدے کی روشنی ملی۔
ساتویں قسط میں فنا کی گہرائی میں ڈوبے۔
آٹھویں قسط میں بقا کا سکون پایا۔
نویں قسط میں شیخ کی نگاہ کا فیض ملا۔
اور آج دسویں قسط میں توکل اور رضا کے اُس سمندر میں قدم رکھا جہاں طوفان بھی سکون ہے۔
یہ دس منازل ہیں اور یہ دس منازل دراصل ایک ہی منزل کی دس جھلکیاں ہیں:
اللہ سے تعلق۔
عملی مشق تسلیم و رضا کی مشق
آج کی آخری مشق اِس پوری سیریز کی روح ہے۔
پہلا قدم حساب
آج رات بیٹھو اور اپنی زندگی کی اُن چیزوں کو یاد کرو جن پر تم ابھی بھی پریشان ہو، رزق کی فکر ہو، صحت کی، رشتوں کی، مستقبل کی۔ ایک ایک کو ذہن میں لاؤ۔
دوسرا قدم سونپنا
ہر فکر کو تصور میں اپنے ہاتھ میں لو جیسے کوئی چیز مٹھی میں لی ہو اور پھر اُسے اللہ کے حضور رکھ دو۔
دل سے کہو
“اے میرے مولا یہ فکر میری مٹھی سے بھاری ہے میں اِسے تیرے ہاتھ میں دیتا ہوں۔ تو جانتا ہے، تو سمجھتا ہے، تو قادر ہے۔ مجھے بس تیری رضا چاہیے نتیجہ تیرا۔”
تیسرا قدم وہ جملہ
پھر آنکھیں بند کرو اور بار بار دل میں یہ جملہ دہراؤ۔
“رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِيناً، وَبِمُحَمَّدٍ ﷺ نَبِيًّا وَرَسُولاً”
(میں راضی ہوں اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر، اور محمد ﷺ کے نبی اور رسول ہونے پر)
یہ جملہ تین مرتبہ پڑھنے والے کے لیے آقائے دوجہاں ﷺ نے جنت کی ضمانت دی ہے۔
چوتھا قدم ذکر میں ڈوبنا
پھر “اللہ” کا ذکر شروع کرو مگر اِس بار ذکر اِس یقین کے ساتھ کہ جو فکریں تم نے ابھی سونپی ہیں، وہ اللہ کے ہاتھ میں ہیں، تمہارے ہاتھ خالی ہیں اور خالی ہاتھ اللہ کی طرف اٹھانے کے لیے ہیں، فکروں کو پکڑنے کے لیے نہیں۔
دس قسطوں کا یہ سفر ایک کتاب نہیں تھا، یہ ایک دعوت تھی۔ دعوت اُس سفر کی جو تمہارے اپنے دل کے اندر شروع ہوتا ہے اور اللہ کے دربار تک جاتا ہے۔
یہ الفاظ پڑھنا کافی نہیں انہیں جینا ہو گا۔ ہر قسط کی مشق کو زندگی میں اتارنا ہو گا۔ ذکر کو عادت بنانا ہو گا، توکل کو دل کا حال بنانا ہو گا، رضا کو سانس بنانا ہو گا۔
اور یاد رکھو یہ سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ جتنا آگے بڑھو، اُتنا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی بہت آگے جانا ہے۔ مگر یہی اِس سفر کا حسن ہے، کہ منزل قریب سے قریب تر ہوتی جاتی ہے کیونکہ منزل دور کہیں نہیں منزل تمہارے اپنے دل میں ہے، اور دل میں اللہ ہے۔
اے سالکِ راہِ حق چراغ جل چکا ہے
اب اِس چراغ کو تھامے رکھنا تمہارا کام ہے
ہوا آئے گی، طوفان آئے گا مگر یہ چراغ
جب اللہ کی امانت ہو، تو بجھتا نہیں کبھی۔
اللہم اجعلنا من الذاکرین، ومن المتوکلین، ومن الراضین بقضائک۔
آمین یا رب العالمین
یہ سلسلہ یہاں مکمل ہوتا ہے مگر آپ کا باطنی سفر ابھی شروع ہوتا ہے۔ اللہ کریم اِس سفر کو آسان فرمائے، ہر قدم پر رہنمائی فرمائے، اور اِس ذکر کو دلوں میں زندہ رکھے۔
آمین
#Khaak_e_rawan
![]()

