کیا آپ جانتے ہیں کہ “خان” نام کی اصل تاریخ کیا ہے؟
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )برصغیر (پاکستان، انڈیا، افغانستان) میں تو ہر دوسرے بندے کے نام کے ساتھ ‘خان’ لگا ہوتا ہے، لیکن اس لفظ کے پیچھے چھپی تاریخ اتنی سنسنی خیز ہے کہ آپ دنگ رہ جائیں گے! آئیے آسان لفظوں میں اس کی حقیقت جانتے ہیں:
یہ کوئی ذات نہیں تھی! شروع میں “خان” کوئی خاندانی نام یا برادری نہیں تھی، بلکہ یہ ایک شاہی لقب (Royal Title) تھا، جس کا مطلب “بادشاہ”، “سردار” یا “عظیم حکمران” ہوتا تھا۔
اس لفظ کی شروعات کسی اسلامی ملک یا عربی زبان سے نہیں ہوئی۔ تاریخ میں سب سے پہلے یہ لقب آج سے تقریباً 1700 سال پہلے (چوتھی صدی عیسوی میں) منگولیا اور چین کے بارڈر پر رہنے والے خانہ بدوش قبائل نے اپنے بادشاہوں کے لیے استعمال کیا تھا۔
یہ شروع میں “خان” نہیں بلکہ “خاقان” (Khagan) ہوا کرتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زبان بدلتی گئی اور یہ لفظ چھوٹا ہو کر صرف “خان” رہ گیا۔
13ویں صدی میں ایک منگول جنگجو ‘تموجن’ نے جب آدھی دُنیا فتح کی، تو اسے “چنگیز خان” (عالمی حکمران) کا لقب دیا گیا۔ اسی کے دور میں یہ لفظ پوری دُنیا میں آگ کی طرح پھیل گیا۔ (یاد رہے کہ چنگیز خان نہ تو مسلمان تھا اور نہ پٹھان!)
جب وسطی ایشیا کے ترک اور منگول قبائل نے اسلام قبول کیا، تو وہ اس لقب کو مسلم دُنیا میں لے آئے۔ برصغیر اور افغانستان کے پشتون قبائل کے سرداروں نے اپنی بہادری، غیرت اور چودھراہٹ کی وجہ سے اس شاہی لقب کو اپنایا۔
انگریزوں کے دور (British Raj) میں جب سرکاری ریکارڈ کے لیے سب کا ‘آخری نام’ (Surname) لکھنا لازمی ہوا، تو لاکھوں پشتونوں، راجپوتوں اور دیگر برادریوں نے ‘خان’ کو بطورِ خاندانی نام مستقل طور پر لکھوانا شروع کر دیا۔
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ لفظ ترکوں کے بزرگ “اوغوز خان” (جن کی نسل سے ارطغرل غازی اور سلطنتِ عثمانیہ بنی) سے شروع ہوا۔ لیکن یہ بات تاریخی طور پر غلط ہے۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں:
اوغوز خان کی زیادہ تر کہانیاں زبانی داستانیں ہیں، تاریخ میں ان کا کوئی پکا تحریری ثبوت نہیں ملتا۔
تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ ان کا اصل نام صرف “اوغوز” تھا، لیکن صدیوں بعد جب 13ویں اور 14ویں صدی میں مسلمانوں نے ان کی کہانیاں کتابوں میں لکھیں، تو اس دور کے فیشن کے مطابق عقیدت میں ان کے نام کے ساتھ “خان” کا لقب خود سے جوڑ دیا۔ اس لیے اوغوز خان سے اس لفظ کی شروعات ثابت نہیں ہوتی۔
جو لفظ صدیوں پہلے منگولیا کے سرد جنگلوں میں کسی غیر مسلم بادشاہ کا لقب ہوا کرتا تھا، وہ آج ہمارے برصغیر کے کروڑوں غیرت مند مسلمانوں کی پہچان بن چکا ہے!
![]()

