قرآن ، خواب اور روحانیت
تحریر۔۔۔عبدالوحید نظامی العظیمی
قسط نمبر2
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ قرآن ، خواب اور روحانیت تحریر۔۔۔عبدالوحید نظامی العظیمی ) سے عمل کرنے کا ارادہ کر لیا ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کولٹا کر چھری پھیر نے لگے تو اللہ کی طرف سے آواز آئی اے ابراہیم علیہ السلام تو نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا ۔
(۳)۔ حضرت یوسف علیہ السلام حضرت یعقوب علیہ السلام کے لاڈلے بیٹے تھے انہوں نے اپنے والد سے عرض کیا کہ ابا جان میں نے خواب میں دیکھا مجھے استارے اور سورج چاند سجدہ کر رہے ہیں ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اس کی تعبیر یہ بتائی کہ مستقبل میں اللہ تعالیٰ تمہیں بزرگی اور بلند مرتبہ عطا فر مائیں گے لیکن تم اس کا تذکرہ کسی سے نہ کرنا۔ تقریبا ۴۰ سال کے عرصہ کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام کو ثبوت اور مصر کی بادشاہت عطا ہوئی ۔اس خواب میں ۴۰ سال کے مستقبل کا دورانیہ سامنے آتا ہے۔ (۴)۔ شاہ مصر خواب دیکھتا ہے کہ سات موٹی گائیں ان کو دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات ہری بالیاں ہیں اور سات خشک بالیاں ۔ اس خواب کی تعبیر حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ بتائی کہ سات سال میں ملک میں غلہ کی
فراوانی ہوگی اور سات سال قحط رہے گا شاہ مصر کے خواب میں ۱۴ سال کے وقفہ کا مستقبل سامنے آتا ہے۔ (۵)۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ قید خانے میں دو قیدیوں نے جو خواب دیکھے اسکی تعبیر حضرت یوسف علیہ السلام نے بتائی کہ انگور نچوڑنے والا واپس اپنے عہدے پر فائز ہو جائے گا اور سر کے اوپر رکھی ہوئی روٹی کو ں پر پرندے کھانے والے کو پھانسی ہو جائے گی دونوں ملزمان کی تفتیش اسال چلتی رہی ایک سال کے مستقبل کے بعد ایک کو بری کر کے واپس عہدہ سے دیا گیا۔ (1)۔ ایک سال کے وقفے کے بعد دوسرے قیدی کو پھانسی دے دی گئی ۔ قرآنی تعلیمات وواقعات ، احادیث مبارکہ اور اولیا اللہ کے فرمودات اس بات کی واشگاف نشاندہی کرتے ہیں کہ خوابوں کا انسان کی زندگی کے ساتھ انتہائی گہرا تعلق ہے خواب کی زندگی اور مادی زندگی کے اندر کوئی فرق نہیں اس بات کی تفصیل حضور قلند ر بابا اولیا ءرحمہ اللہ
علیہ اپنی کتاب لوح و قلم میں ان الفاظ کو بیان فرماتے ہیں ۔
جس کو ہم خواب دیکھنا کہتے ہیں ہمیں روح اور روح کی صلاحیتوں کا سراغ دیتا ہے وہ اس طرح کہ ہم سوئے ہوئے ہیں تمام اعضاء بالکل معطل ہیں صرف سانس کی آمد و شد جاری ہے لیکن خواب دیکھنے کی حالت میں ہم چل پھر رہے ہیں باتیں کر رہے ہیں، سوچ رہے ہیں، غم زدہ اور خوش ہورہے ہیں کوئی کام ایسا نہیں جو کہ بیداری کی حالت میں کرتے ہیں اور خواب کی حالت میں نہیں کرتے ۔اب ہم ان صلاحیتوں کا تذکرہ کر دینا ضروری سمجھتے ہیں جو خواب یعنی رویاء کے نام سے روشناس ہیں چنانچہ عالم خواب میں انسان کھاتا پیتا اور چلتا پھرتا ہے اس کے معنی یہ ہوئے کہ روح کوشت پوشت کے جسم کے بغیر بھی حرکت کرتی اور چلتی پھرتی ہے روح کی یہ صلاحیت جو صرف رویاء میں کام کرتی ہے ہم خاص طریقے سے اس کا سراغ لگا سکتے ہیں اور اس صلاحیت کو بیداری میں استعمال کر سکتے ہیں۔ انبیا علیھم السلام کا علم یہیں سے شروع ہوتا ہے اور یہی وہ علم ہے جس کے ذریعے انبیائے کرام نے اپنے شاگردوں کو یہ بتایا ہے کہ پہلے انسان کہاں تھا اور اس عالم ناسوت کی زندگی پوری کرنے کے بعد کہاں چلا جاتا ہے ۔”
ان الفاظ پر تنکر یہ بات سامنے لاتا ہے کہ خواب انبیاء کے علم نبوت کا آغاز ہے اور روحانی صلاحیتوں کو سامنے لاتا ہے۔ ہر انسان کی زندگی میں ایسے خواب ضرور ہوتے ہیں جن کی وجہ سے اس پر غسل فرض ہو جاتا ہے اور جو خواب آج دیکھا من وعن وہ کچھ دیر بعد ویسا ہی پورا ہو گیا جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مادی جسم خواب والے جسم سے منسلک رہتا ہے اور خواب والے جسم کی تحریکات سے متاثر ہوتا ہے اور اسکے علم اور رہنمائی سے اپنی مادی زندگی کو بہتر اور خوشگوار بنا سکتے ہیں۔
عظیم روحانی اسکالر خوب به شمس الدین عظیمی صاحب اپنی کتاب خواب اور تعبیر کے صفہ ۳۲۰ پر فرماتے ہیں ۔ انسان خواب اور بیداری کے حواس کا مجموعہ ہے اگر انسان کے اندر خواب کے حواس نہ ہوتے تو انسان کبھی بھی مستقبل میں قدم نہیں رکھ سکتا تھا جنت جہاں
ماضی ہے وہاں مستقبل بھی ہے جو انسان کا اصل مقام اور وطن ہے اگر بیداری کے حواس جو اس کو خواب کے حواس پر غلبہ ہو جاتا تو اس غیب کی دنیا میں اپنے
لیے کوئی مقام منتخب نہیں کر سکتا تھا۔“
حضور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے النوم اخت الموت نیند موت کی بہن ہے ۔ جس کو ہمارے ہاں سویا اور مو یا بر ایر کہتے ہیں یعنی جو اس کا مادی زندگی سے خواب والی زندگی میں منتقل ہو نا موت یا نیند ہے۔ اگر تھوڑا سا تفکر کریں تو بات سامنے آئے گی خواب کی زندگی اور بیداری کی زندگی میں مشترک چیز جو اس ہیں اگر حواس کی طرف توجہ مرکوز کی جائے تو سوائے برقی رویا کرنٹ کے کوئی چیز سامنے نہیں آتی اور اس کا تعلق آسمانی دنیا کے ساتھ ہے برقی رواہروں کی شکل میں کائنات کے اندر کام کر رہی ہے۔ عظیم مجذوب بزرگ حضور بابا تاج الدین ناگپوری رحمتہ اللہ علیہ نے ان لہروں کو انا کی لہریں کہا ہے ۔ یہ لہریں کائنات کے اند راس طرح کام کرتی ہے کہ ان کے اند رٹائم اینڈ سپیس نہیں ہوتا یہ لہر میں مادے کے اندر منتقل ہو کر تخلیق کا ذریعہ ہیں ۔ اگر اس برقی رویا لہروں کو جو انسان کے اندر حواس کی شکل میں کام کر رہی ہیں واقفیت حاصل کرلے تو انسان۔۔جاری ہے۔
![]()

