اصول کی فتح
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ہم جو بھی کام کرتے ہیں اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے، کوئی تعین ہوتا ہے۔ بغیر تعین کے دنیا کا کوئی کام بھی سر انجام نہیں دیا جا سکتا۔ سب سے پہلے آپ نے تعین کرنا ہے کہ آپ کا مقصد کیا ہے؟ پھر آپ نے اپنی سمت کو اپنے مقصد کی جانب مرتکز کر دینا ہوتا ہے۔ پھر وقت اس کے نتیجہ کو برامد کر دیتا ہے۔ کہ آپ نے کیا بیج بویا تھا۔ مقصد کے حصول کے لیے ہر فرد کو تعین سمت اور وقت کے اصول سے گزرنا پڑھتا ہے۔ جو فرد بھی “اصول” سے گزرے گا کامیابی اسی کو ملے گی۔
–
اس کائنات میں اصول کی فتح ہوتی ہے۔ اصول کی جیت ہوتی ہے۔ جس نے اصول کو پورا کیا کامیابی اسی کا مقدر ہے۔ جہاں آپ نے اصول کو پورا کیا وہاں خدا خود مجبور ہو جاتا ہے “آپ کو آپ کے کام کا پھل دینے میں”۔
–
خودی کو کر بلند اتنا ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟
–
بابا جان کی بات سن کر بڑ ی حیرت ہوئی کہ خدا مجبور ہو جاتا ہے۔ میں اندر سے بہت ذیادہ خوش ہو گیا۔ کہ جیسے میں خدا کو کہہ رہا ہوں کہ اب مجھے آپ کے سامنے گڑگڑانے کی ضرورت نہیں۔ میں اصول کی پیروی کر کے اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتا ہوں۔ آپ سے مانگونگا نہیں بلکہ آپ کو مجبور کرونگا۔
–
میں نے یہ شعر کئی بار سن رکھا تھا مگر اس شعر کی سمجھ نہیں آئی تھی۔ آج معلوم ہوا کہ خدا کیسے مجبور ہوتا ہے۔ خدا سے اگر مانگنا ہے تو اصول کی زبان سیکھو، اصول کو پورا کرو۔ کوئی ایسا کام کرو کہ خدا بھی مجبور ہو جائے اور کہے کہ او تسی کون ہو اور کیا چاہتے ہو۔
–
پوچھا کہ ہمیں کیا کام کرنا چاہیئے۔ فرمایا: من عرفہ نفسہ کرنے کا کام ہے۔ اصول یہ ہے کہ تو خود کو تلاش کر “خدا” نتیجے کے طور پر مل جائے گا۔ من عرفہ نفسہ “کام” ہے۔ فقد عرفہ ربہ “انجام” ہے۔
–
تو اپنی خودی کھو چکا ہے،
کھوئی ہوئی شے کی جستجو کر۔
–
پھر ہم نے پوچھا بابا جان ہمارا اس دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے فرمایا : عرفان خودی۔
–
یہ ہے مقصد گردش روزگار
کہ تیری خودی تجھ پہ آشکار
–
پوچھا کہ سب سے قیمتی چیز کون سی ہے جس کو حاصل کروں؟ فرمایا: عرفان خودی۔
–
خودی وہ چیز ہے ناداں کہ جس کے بدلے میں،
ملے جو دولت کونین بھی مجھے تو نہ لوں۔
–
پوچھا عرفان خودی کا حصول کیسے ہوگا فرمایا: کہ تعین کرو، پھر سمت سیدھی کرو اور اس کی طرف چل پڑو اور پھر وقت اس فاصلے کو ختم کر دیگا۔ آپ نے برگد کا درخت لگانا ہے توسب سے پہلے آپ نے اس کو بونے کا تعین کیا۔ پھر سمت سیدھی کی اس بیج کو زمین میں دفن کر دیا۔ بیج کو زمین میں دفن کرتے ہی بیج کا وقت مقرر ہوگیا۔ اس بیج کے اندر کیا چھپا ہے اس کو وقت ظاہر کر دے گا۔ بلکل اسی طرح آپ نے تعین کرنا ہوتا کہ اس دنیا میں آپ کے آنے کا مقصد کیا ہے؟ گر عرفان خودی ہی آپ کا تعین ہے تو پھر اپنی سمت زندہ و جاوید عارف کی جانب کر لو جو آپ کو عرفان خودی کے رمز سے آگاہ کرے۔ خودی کا سر نہاں” کے بھید کوعیاں کرے۔
–
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن۔
–
عرفان خودی کی تعلیم پر کاربند ہونے کا نتیجہ خودی کی معراج کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ جو بیج آپ بوتے ہیں وقت اسے ثمر آور کرتا ہے۔ بیج میں جو شیدہ ہوتا ہے، تعین سمت اور وقت کا اصول اسے عیاں کر دیتا ہے۔
–
ہوئی جس کی خودی جس پر عیاں
وہی مہدی وہی آخر زمانی۔
![]()

