Daily Roshni News

تورز کا خونی میدان اور فرانس کی مٹی میں گڑا ہوا اسلامی نیزہ (114 ہجری / 732 عیسوی)

تورز کا خونی میدان اور فرانس کی مٹی میں گڑا ہوا اسلامی نیزہ (114 ہجری / 732 عیسوی)

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )114 ہجری کی ایک یخ بستہ اور ہولناک شام۔ فرانس (گال) کے قلب میں واقع ‘تورز’ (Tours) اور ‘پوئتیے’ (Poitiers) کے درمیانی میدان میں سات دن کی مسلسل خونریز جھڑپوں کے بعد، اموی سلطنت کا فاتح لشکر اور فرانکی بادشاہ ‘چارلس مارٹل’ کی زرہ پوش فوج آمنے سامنے تھی۔

فرانسیسی سپاہی برفباری میں گڑے ہوئے دیوہیکل درویشوں اور لوہے کی دیوار کی طرح غیر متزلزل کھڑے تھے، جن کی بھاری کلہاڑیاں عرب گھڑ سواروں کی صفیں چیر رہی تھیں۔ جنگ کے عین وسط میں، جب اسلامی لشکر کے پچھلے حصے میں مالِ غنیمت کے لٹنے کی افواہ پھیلی اور صفوں میں بھگدڑ مچی، تو ایک دراز قد، کھردری رنگت اور سفید داڑھی والا سالار اپنا گھوڑا دوڑاتا ہوا اگلی صفوں میں جا پہنچا۔

یہ اندلس کا سپہ سالار اور گورنر، ‘عبدالرحمٰن الغافقی’ تھا، جس کی زرہ پر فرانس کی برف اور خون کی تہیں جم چکی تھیں۔ اس نے بھاگتے ہوئے سپاہیوں کو روکا اور خود تنہا فرانکی نیزوں کی گھنی دیوار میں گھس گیا۔ اسی پل، ایک فرانکی جنگجو کا بھاری نیزہ الغافقی کے سینے کے پار ہو گیا، اور وہ گھوڑے سے فرانس کی کٹیلی مٹی پر آ گرا۔

یہ اسلام کی تاریخ کے اس عظیم ترین، پرہیزگار اور بے باک سالار کی وہ 100 فیصد مستند داستان ہے، جس کی تلوار نے فرانس کے وسط تک اموی سلطنت کی فتوحات کا نشان گاڑ دیا، لیکن تورز کے میدان میں اس کی شہادت نے یورپ میں اسلام کی پیش قدمی کو ہمیشہ کے لیے روک دیا—ایک ایسا موڑ، جسے خود غربی مؤرخین “دنیا کی تاریخ کا رخ بدلنے والا لمحہ” تسلیم کرتے ہیں۔

 پس منظر: یمن کا کڑک خون، تابعیت کا شرف اور اندلس کی سرحدیں

عبدالرحمٰن بن عبداللہ الغافقی کا تعلق یمن کے ایک جنگجو اور سخت جان قبیلے ‘غافق’ سے تھا۔ اس کی پیدائش اور ابتدائی زندگی افریقہ کی سرحدوں اور مراکش کے گرد و غبار میں گزری۔ اس کی جسمانی ساخت انتہائی کڑک اور کھردری تھی؛ مسلسل گھڑ سواری اور جنگی کیمپوں کی زندگی نے اس کے اعصاب کو فولاد جیسا بنا دیا تھا۔

اسے یہ نادر مذہبی اور اخلاقی شرف حاصل تھا کہ اس نے مدینہ منورہ کے کبار صحابہ کرام اور تابعین کا دور دیکھا اور صحابیِ رسول حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث اور فقہ کا علم حاصل کیا (اسی لیے مؤرخین اسے ایک ‘تابعی سالار’ گنتے ہیں)۔

وہ محلات کا نرم و نازک شہزادہ یا لالچی جنگجو نہیں تھا، بلکہ ایک درویش صفت، متقی اور ٹھنڈے دماغ کا عسکری منصوبہ ساز تھا۔ جب موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد کے بعد اندلس کی نوائیدہ اسلامی سلطنت داخلی خانہ جنگیوں، عرب و بربر قبائل کے نسلی تعصب اور سیاسی انتشار میں ڈوبنے لگی، تو الغافقی نے اپنی تلوار اور غیر متنازع اخلاقی اثر و رسوخ کے زور پر 112 ہجری (730 عیسوی) میں اندلس (Spain) کی گورنری سنبھالی اور بکھری ہوئی فوج کو ایک آہنی نظم و ضبط میں پرو دیا۔

عروج: کوہِ البرات کا عبور اور فرانس کے قلب میں طوفانی یلغار (113 تا 114 ہجری)

اندلس کے داخلی محاذ کو مکمل مستحکم کرنے کے بعد، الغافقی کی نظریں کوہِ البرات (Pyrenees Mountains) کے برفانی دروں کے اس پار—فرانس کی عظیم الشان سرزمین پر جم گئیں۔

114 ہجری (سپرنگ 732 عیسوی) میں، الغافقی نے تقریباً 50 سے 70 ہزار کے ایک طوفانی اور تیز رفتار گھڑ سوار لشکر کے ساتھ کوہِ البرات کو عبور کیا۔ فرانس کی زمین پر یہ کوئی عام حملہ نہیں، بلکہ ایک باقاعدہ عسکری زلزلہ تھا۔

اس نے سب سے پہلے ڈیوک آف اکویٹین (Duke of Aquitaine)، کاؤنٹ اوڈو (Eudes)، کے سرکش لشکر کا دریائے دوردون (Dordogne) کے کنارے ‘جنگِ بورڈو’ (Battle of Bordeaux) میں سامنا کیا۔ الغافقی کے دستوں نے اوڈو کی بھاری فوج کے ایسے پرخچے اڑا دیے کہ خود عیسائی مؤرخین کے الفاظ میں: “خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ اس دن کتنے ہزار فرانکی مارے گئے۔”

بورڈو (Bordeaux) کے تاریخی شہر کو فتح کرنے کے بعد، الغافقی کا لشکر فرانس کی مٹی کو روندتا ہوا پواتیے (Poitiers) کے مالدار عیسائی مراکز اور مقدس گرجے ‘سینٹ مارٹن آف تورز’ کی طرف طوفانی رفتار سے بڑھا، جہاں کی بے پناہ دولت اور سونا اس وقت پورے یورپ میں مشہور تھا۔

 اندرونی کمزوری: مالِ غنیمت کا بوجھ اور فرانکی اتحاد کی خاموش تیاری

بورڈو اور پواتیے کی مسلسل فتوحات نے جہاں اسلامی لشکر کی دھاک بٹھا دی، وہیں یہی فتوحات الغافقی کی فوج کے لیے ایک خاموش اور ہولناک عسکری زہر ثابت ہوئیں۔

فوج کے سپاہیوں (بالخصوص بربر اور نو مسلم قبائل) نے فرانس کے مالدار شہروں سے اتنا سونا، چاندی، ہیرے جواہرات اور گھوڑے مالِ غنیمت کے طور پر اکٹھے کر لیے تھے کہ اب ان کی ترجیح مزید فتح یا شہادت کے بجائے اس دولت کو سلامت لے کر واپس اندلس پہنچنا بن چکی تھی۔ گھوڑوں کی رفتار خچروں اور بیل گاڑیوں پر لدے بھاری خزانے کی وجہ سے انتہائی سست ہو گئی تھی۔ الغافقی کی بصیرت بھانپ چکی تھی کہ مالِ غنیمت کا یہ پہاڑ میدانِ جنگ میں سپاہیوں کی توجہ بھٹکا دے گا، لیکن فوج میں بغاوت کے ڈر سے اس نے خزانے کو وہیں چھوڑنے کا حتمی اور سخت حکم دینے سے ہچکچاہٹ برتی—جو اس کی زندگی کی سب سے بڑی عسکری لغزش ثابت ہوئی۔

دوسری طرف، بورڈو میں شکست کھانے کے بعد کاؤنٹ اوڈو نے اپنے پرانے دشمن، فرانکی سلطنت کے اصل اور بے رحم حکمران، ‘چارلس مارٹل’ (Charles Martel – چارلس ہتھوڑا) کے پیروں میں گر کر مدد مانگ لی۔ مارٹل ایک انتہائی شاطر عسکری دماغ تھا۔ اس نے فرانس کے گھنے جنگلات، سرد موسم اور دریائے لوار (Loire River) کی دلدلی گھاٹیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے 30 ہزار سے زائد بھاری کلہاڑی بردار (Infantry) پیدل دستوں کو ایسی خاموشی سے لا کر کھڑا کیا کہ الغافقی کے جاسوسوں کو اس دیوہیکل فرانکی دیوار کی خبر تک نہ ہو سکی۔

زوال اور شہادت: بلاط الشہداء کا ہولناک میدان اور کٹا ہوا پرچم (اکتوبر 732 عیسوی)

اکتوبر 732 عیسوی (رمضان المبارک 114 ہجری) کے اواخر میں تورز کے قریب دونوں لشکر آمنے سامنے آئے۔ مسلسل سات دن تک صرف ہلکی جھڑپیں ہوتی رہیں کیونکہ الغافقی کو پہلی بار اندازہ ہوا کہ فرانکی پیدل فوج نے جنگل کے درختوں کی اوٹ میں کتنی ناقابلِ تسخیر دفاعی پوزیشن سنبھال رکھی ہے، جہاں گھڑ سواروں کا روایتی چارج ناکام ہو سکتا تھا۔

آٹھویں دن (یا دسویں دن کی صبح)، الغافقی نے اپنے تمام گھڑ سواروں کو حتمی چارج (Full Charge) کا حکم دیا۔ اسلامی گھڑ سوار فرانکی سپاہیوں سے ٹکرائے، لیکن فرانسیسی جنگجو ایک برفانی چٹان کی طرح اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہ ہلے۔ وہ عرب گھوڑوں کے سینوں میں بھاری نیزے گھونپتے اور اپنی کلہاڑیوں سے سواروں کی زرہیں کاٹتے رہے۔

شام کے وقت جنگ اپنے عروج پر تھی کہ چارلس مارٹل کے ایک مخبر دستے نے اسلامی کیمپ کے پچھلے حصے پر چھاپہ مارا جہاں مالِ غنیمت کے خزانے رکھے ہوئے تھے۔ جیسے ہی سپاہیوں کو اپنے سونے لٹنے کا خطرہ محسوس ہوا، اگلی صفوں کے کئی دستے جنگ چھوڑ کر خیموں کو بچانے کے لیے پیچھے بھاگے۔

اس اچانک پسپائی نے پوری فوج میں ہولناک بھگدڑ (Panic) مچا دی۔ عبدالرحمٰن الغافقی اس خوفناک صورتحال کو سنبھالنے کے لیے گھوڑا دوڑاتے ہوئے عین وسطی میدان میں آ گئے۔ انہوں نے فرار ہوتے سپاہیوں کو روکا اور خود تنہا دشمن کی صفوں پر حملہ آور ہوئے، یہاں تک کہ وہ چارلس مارٹل کے سپاہیوں کے گھیرے میں آ گئے۔ متعدد نیزے اور تلواریں ان کے جسم کے پار ہو گئیں اور یہ عظیم تابعی سالار فرانس کی سرد مٹی پر شہید ہو گیا۔ اسی خونریز تلخی اور ہزاروں شہداء کے گرنے کی وجہ سے تاریخِ اسلام میں اس میدان کو ‘بلاط الشہداء’ (شہداء کا میدان/محل) کا نام دیا گیا۔

 انجام: رات کی خاموش پسپائی اور یورپ کی ابدی سرحد (Aftermath)

الغافقی کی شہادت کے ساتھ ہی اسلامی لشکر کی عسکری ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ جب رات کا اندھیرا چھایا، تو اسلامی لشکر کے باقی ماندہ سالاروں نے خیمے میں ایک ہنگامی اور تلخ مشورہ کیا؛ اب ان کے پاس کوئی ایسا قائد نہیں تھا جو بربروں اور عربوں کو ایک رکھ سکے، اور ان کا سالار فرانس کی مٹی میں خون سے لتھڑا پڑا تھا۔

رات کے اس ہولناک سناٹے میں، اسلامی فوج نے اپنے تمام خیمے وہیں گڑے چھوڑے، اپنے بھاری مالِ غنیمت کا ایک بڑا حصہ وہیں پھینکا اور انتہائی خاموشی سے، بغیر کوئی الاؤ جلائے، جنوب کی طرف کوہِ البرات کے راستے واپس اندلس کی جانب پسپائی اختیار کر لی۔

اگلی صبح جب چارلس مارٹل کی فوجیں ایک اور خونی دن کے لیے اپنی صفیں باندھ کر میدان میں آئیں، تو انہیں سامنے صرف خالی خیمے اور عبدالرحمٰن الغافقی کی لاش ملی۔ مارٹل کو ڈر تھا کہ یہ کوئی عرب عسکری چال (Ambush) ہے، اس لیے اس نے تعاقب کرنے کے بجائے اپنی فوج کو وہیں روک لیا۔

عبدالرحمٰن الغافقی کی موت اور جنگِ تورز (بلاط الشہداء) کا اختتام محض ایک معرکے کی شکست نہیں تھی؛ یہ وہ حتمی اور تاریخی لکیر تھی جس نے مغربی یورپ میں اسلامی فتوحات کے طوفان کو ہمیشہ کے لیے کوہِ البرات کے جنوب (صرف سپین) تک محدود کر دیا۔ خود مشہور برطانوی مؤرخ ‘ایڈورڈ گبن’ (Edward Gibbon) نے لکھا: “اگر الغافقی اس دن تورز کے میدان میں نہ گرتا، تو آج پیرس اور لندن کے آکسفورڈ اور کیمبرج میں بائبل کے بجائے قرآن پڑھایا جا رہا ہوتا۔” الغافقی کی شہادت نے جہاں فرانس کو ایک اسلامی ریاست بننے سے بچا لیا، وہیں اس نے تاریخِ اسلام کو ایک ایسا لازوال ہیرو دیا جس کا نام سنتے ہی اندلس کی سرحدیں فخر سے بلند ہو جاتی ہیں۔

تاریخی حوالہ جات:

اخبار مجموعۃ فی فتح الاندلس

فتوح مصر والمغرب والاندلس (ابن عبد الحکم)

الکامل فی التاریخ (ابن الاثیر)

البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)

تاریخِ ابنِ خلدون (ابن خلدون)

البیان المغرب فی اخبار الاندلس والمغرب (ابن عذاری المراکشی)

نفح الطیب من غصن الاندلس الرطیب (المقری التلمسانی)

موزاربک کرونیکل 754ء (Mozarabic Chronicle of 754)

کرونیکل آف فریڈیگر (Continuations of Fredegar)

تاریخِ عرب (فلپ کے ہٹی)

دی ڈیکلائن اینڈ فال آف دی رومن ایمپائر (ایڈورڈ گبن).

اگر آپ مملوک سلطنت کے عظیم سلطان الاشرف خلیل کی پوری کہانی اینیمیشن میں دیکھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔ 👇

Sultan Al-Ashraf Khalil Animated Documentary:

https://www.facebook.com/reel/1022923573651347

Loading