-
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کا مستقل حل فوجی کارروائی نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارتی معاہدہ ہے۔
پوڈ کاسٹ انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ ایران سے مذاکرات کی مخالفت کرنے والوں کے پاس مسلسل اور غیر مؤثر بمباری کے سوا کوئی حقیقت پسندانہ منصوبہ نہیں۔
امریکی نائب صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے زمینی فوج نہیں بھیجے گا، اگر ایرانی عوام اپنے نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں تو یہ ان کا اپنا فیصلہ ہو گا۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ایک قلیل مدتی مقصد تھا، امریکا کی ترجیح آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا اور عالمی تیل و گیس کی بلا تعطل ترسیل یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: صدر ٹرمپ نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے پر غور شروع کر دیا، امریکی اخبار
جے ڈی وینس نے بتایا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر نے ایران کے ساتھ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے امریکا میں ایک غیر ملکی اثر و رسوخ کی مہم پر بھاری رقم خرچ کی ہے، غیر ملکی اثر و رسوخ کی ایسی مہم کے باوجود میں امریکی مفادات کو اولین ترجیح دوں گا۔
جو روگن پوڈ کاسٹ پر تین گھنٹے کے انٹرویو میں امریکی نائب صدر نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل غیر معینہ مدت تک جنگ جاری رکھنے کے لیے امریکا میں رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیل پر اپنی شدید تنقید جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کا واضح طور پر اسرائیلی انٹیلی جنس کی اعلیٰ ترین سطح سے تعلق تھا۔
واضح رہے کہ امریکی اخبار نے امریکی اہلکاروں کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے پر غور شروع کر دیا ہے۔
![]()
